Wednesday , September 20 2017
Home / ادبی ڈائری / رباعیات رشید لکھنوی

رباعیات رشید لکھنوی

ڈاکٹر سید تقی عابدی کی عصری تخلیق و تحقیق

تقی عسکری ولا
شہرۂ آفاق ادیب، شاعر و تحقیق نگار ڈاکٹر سید تقی عابدی نے اردو ادب میں تحقیق کاجلوہ سرقرطاس رقم کرتے ہوئے معتقدین اساتذہ شعراء کی کیمیا گری کی وساطت جس پل صراط سے گزرنے کا مشغلہ اختیار کیا ہے، اقلم زبان اردو میں اس کی کوئی دوسری تمثیل نہیں ہے ۔ اب تک ان کی زائد از 40 شاہکار تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں جوبلا شبہ کلیدی مقالہ جات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اردو زبان کی ابتداء سے آج تک جن شخصیتوں نے ڈاکٹریٹ کیا ہے، وہ اپنی زندگی میں اسی واحد مقالے سے پرے اکثر و بیشتر کی کوئی دوسری تحقیقی کتاب کا تصور محال ہے لیکن ڈاکٹر سید تقی عابدی ایک کارڈیالوجسٹ ہونے اور اردو ادب میں کوئی ڈگری حاصل نہ کرنے کے باوجود مختلف موضوعات پر عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ اپنی 40 تحقیقی ضخیم کتابیں زیور طبع سے آراستہ کرکے حد کمال کے ساتھ اردو دانوں کی نذر کی ہیں وہ ایک تاریخی کارنامہ ہے۔
محترمہ پروفیسر سیدہ جعفر صاحبہ مرحومہ نے کسی دن نجی ملاقات میںڈاکٹر سید تقی عابدی کا ذ کر کرتے ہوئے حیرت و استعجاب سے مجھے کہا تھا ’’ڈاکٹر تقی عابدی ایک مصروف کارڈیالوجسٹ ہوتے ہوئے بھی متعدد ضخیم کتابیں تحریر کرتے ہیں تو یہ ایک معجزہ ہے ۔ اردو کی روزی روٹی سے وابستہ پروفیسرس اور ڈاکٹرس بھی ایسی خدمات انجام نہیں دیتے۔ ایسی ضخیم اور معیاری تحقیقی کتابیں لکھناتو درکنار ہمارے لئے تو پڑھنا بھی دوبھر ہوتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی جیسے مستند تخلیق کار نے اپنی تازہ کتاب ’’رباعیات رشید لکھنوی اور احوال پیری کو (سوانح عمری، تشریح و تجربہ) کے لوازمات کے ساتھ قلمبند کیا ہے ، وہ ایسا ادبی مرقع ہے جو ہر اردو ادب دوست کو متاثر کرتا ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آج تک اردو کے کسی شاعر نے کٹر صنف سخن ’’رباعی‘‘ میں پیری سے مربوط چار سو سے زیادہ نادر مضامین کو دیڑھ سو رباعیات میں پیش نہیں کیا ۔
زیر تبصرہ تصنیف حضرت سید مصطفی مرزا، پیارے صاحب، رشید کی شاعری کا پورا اثاثہ ہے جس میں رشید لکھنوی کا شجرۂ خاندان ، زندگی نامہ ان کے جد امجد انس لکھنوں کے مخطوطات ، ان کے والد ماجد مرزا سید احمد صابر لکھنوی کے غیر مطبوعہ مراثی کے عکس مندر جات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر تقی عابدی کی مدلل تحقیق میں یہ انکشاف بھی موجود ہے کہ نظام الملک نواب میر محبوب علی خاں آصف کو بھی پیارے صاحب رشید سے تلمذ حاصل تھا ۔ جن کا مشہور سلام

فدا ہوں اس پہ سلامی ہے جس کا نام حسین
مرا معین ، مرا آقا ، مرا امام حسین
آج بھی مجالس عزاء میں کثرت سے پڑھا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے اہل اردو زبان کے لطف کو دوبالا کرنے رشید لکھنوی اور نظام سادس کے کلام کا عرق ریزی سے موازنہ بھی پیش کیا ہے ۔ اس 276 صفحات پرمحیط کتاب میں انہوں نے رشید لکھنوی کی 163 معرکتہ الآراء غزلیات ، 2 معرفت بیز قصائد، 11 سلام ، 22 مراسم اور 160 رباعیات کویکجا کیا ہے جو صرف ڈاکٹر تقی عابدی ہی کا حق ہے ۔ اس کی مسلمہ افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ، اس قلزم سخن کو تبصرہ کے قطرہ میں سمونا محال ہے۔ البتہ میں پیارے صاحب رشید کی حیدرآباد آمد کو فراموش نہیں کرسکتا۔ حیدرآباد ہمیشہ سے اردو علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے ۔ شمال سے بیشتر اساتذہ سخن نے حیدرآباد کا رخ کیا اور اکثر یہاں پیوند خاک بھی ہوئے ۔ نواب بہرام الدولہ نے پیارے صاحب رشید کو ان کے ایک خاص دوست حکیم باقر حسین کی وساطت حیدرآباد مدعو کیا ۔ اس سخن شناس شہر میں جب پیارے صاحب رشید کی شاعری کے جوہر کھلے تو اہل حیدرآباد نے ان کی خوب پذیرائی کی اور دل کھول کر داد سخن سے نوازا ۔ نواب بہرام الدولہ نے سالار جنگ کے نظام باغ میں مجالس عزا برپا کئے تو یہ مقام اپنی انتہائی وسعت کے باوجود تنگ دامنی کا شکوہ کرتاتھا لوگ چھتوں پربیٹھ کر پیارے صاحب رشید سے تحت اللفظ میں مرثیہ سماعت کرتے تھے ۔ ان کی آواز کا زیر و بم ایسا تھا کہ سینکڑوں افراد بآسانی مرثیہ سن سکتے تھے۔
ڈاکٹر تقی عابدی کی تحقیق میں نواب شہید یار جنگ اور نواب تراب یار جنگ بھی پیارے صاحب رشید کے تلامذہ تھے ۔ نواب بہرام الدولہ کے فرزند نواب تراب یارجنگ سعید کے متعدد نوحے زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ ان کے قصیدے تو نہیں ہیں لیکن سلام کہنے میں کوئی ان کا کوئی ہمسر نہیں تھا ۔ پیارے صاحب رشید کے ایک اور شاگرد نواب میر مہدی علی شہید المعروف شہید یارجنگ تھے ۔ بعدازاں انہوں نے نظم طباطبائی سے تلمذ حاصل کیا ۔ نواب شہید یار جنگ کے فرزند اکبر حضرت میر عابد علی سعید شہیدی کو اقلیم سخن کا شہنشاہ مانا جاتا ہے جن کے غزلیات ، نوحے، سلام اور منقبتیں آج بھی پڑھے جاتے ہیں۔ اس لائق تحسین کتاب میں پیارے صاحب رشید کے نانا  میر انیس، ان کے چھو ٹے بھائی میر مونس ، پیارے صاحب رشید کے چچا تعشق لکھنوی کے علاوہ دیگر کئی شعراء کی تصاویر ہیں جو آج تک کسی کتاب میں دستیاب نہ تھے ۔ اس گراں قدر کتاب میں کوئی قیمت درج نہیں ہے ۔ شائد اس لئے کہ یہ ایک لاقیمت صحیفہ ہے جس کو سوائے ڈاکٹر تقی عابدی کوئی دوسرا پیش نہیں کرسکتا۔ یہ کتاب ڈاکٹر سید تقی عابدی 1110 ، سکریٹریٹ روڈ نیو مارکٹ L3XIM4 کناڈا سے حاصل کی جاسکتی ہے جن کا ای میل [email protected] ہے۔

TOPPOPULARRECENT