Tuesday , September 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

علامہ احمد سعید کاظمی
یومِ میلاد النبیﷺ وہ مبارک دن ہے، جس میں خدا کے سب سے پہلے اور آخری نبی جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔ عالم اجسام میں جلوہ گر ہونے سے پہلے ذاتِ پاک مصطفیﷺ کا عدم سے وجود میں جلوہ گر ہونا خلقتِ محمدی ہے، اس دارِ دنیا میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا پیدا ہونا ولادتِ محمدی ہے اور چالیس سال کی عمر شریف میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا وحی نبوت سے مشرف ہوکر لوگوں کو دینِ حق کی طرف بلانے پر مامور ہونا بعثتِ محمدی ہے۔

اجسام سے قبل عالمِ امر میں ذواتِ انبیاء علیہم السلام کا موجود ہونا نص قرآن سے ثابت ہے، جس کا مقتضا یہ ہے کہ ذاتِ محمدیﷺ بطریق اولیٰ عالمِ ارواح میں موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ’’اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ دیا میں نے تم کو کتاب اور حکمت سے اور آئے تمہارے پاس رسولِ معظم جو تصدیق کرنے والا ہو اس چیز کی جو تمہارے ساتھ ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤگے اور اس کی ضرور مدد کروگے۔ فرمایا کیا تم نے اس شرط پر میرے عہد کو قبول کرلیا۔ سب نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو اب گواہ ہو جاؤ اور میں تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ پھر جو کوئی پھر جائے اس کے بعد تو وہی لوگ نافرمان ہیں‘‘ (سورۂ آل عمران۔ ۸۱،۸۲) ایک جگہ فرمایا: ’’اور جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر کیا میں نہیں ہوں تمہارا رب! بولے کیوں نہیں (بے شک تو ہمارا رب ہے) ہم اقرار کرتے ہیں‘‘ (سورۂ اعراف۔۱۷۲) تمام نفوس بنی آدم سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس قدسی نے ’’بَلا‘‘ (کیوں نہیں) کہہ کر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار فرمایا اور باقی تمام نفوس بنی آدم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقرار پر اقرار کیا۔ اس واقعہ کا مقتضی بھی یہی ہے کہ ذاتِ پاک مصطفی علیہ التحیۃ والثناء مخلوق ہوکر عدم سے وجود میں جلوہ گر ہوچکی تھی۔ نیز فرمایا: ’’اور جب لیا ہم نے نبیوں سے ان کا اقرار اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ سے جو بیٹا ہے مریم کا اور لیا ہم نے ان سے پکا اقرار‘‘ (سورۃ الاحزاب۔۷) اس آیت کریمہ میں جس عہد اور اقرار کا بیان ہے، وہ تبلیغ رسالت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں دیگر انبیاء علیہم السلام سے تبلیغ رسالت پر عہد لیا، وہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ عہد و اقرار کرایا۔

یہ واقعہ بھی عالم ارواح کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خلقت اس وقت نہ ہو گئی ہوتی تو اس عہد و اقرار کا ہونا کس طرح متصور ہوتا۔
رہا یہ امر کہ خلقت محمدی تمام کائنات اور خصوصاً جمیع انبیاء کرام علیہم السلام کی خلقت سے پہلے ہے تو اس مضمون کی طرف قرآن کریم کی بعض آیات میں واضح ارشادات پائے جاتے ہیں

اور احادیث صحیحہ میں تو صراحتاً ارشاد ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اول خلق ہیں اور تمام انبیاء علیہم السلام سے پہلے حضورﷺ کی ذاتِ مقدسہ مخلوق ہوئی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یہ سب رسول ہیں فضیلت دی ہم نے ان کے بعض کو بعض پر، بعض ان میں سے وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور بعض کے درجے بلند کئے‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۵۳) جن کے درجے بلند کئے، وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضورﷺ کے درجوں کی بلندی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ درجاتِ خلقت میں بھی حضورﷺ کا درجہ سب سے بلند ہے اور آپﷺ سب سے پہلے مخلوق ہوکر سب کی اصل ہیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو اے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، مگر رحمت بناکر تمام جہانوں کے لئے‘‘۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حضورﷺ تمام عالموں کے لئے رحمت ہیں۔

اس آیت میں ’’العالمین‘‘ اسی طرح اپنے عموم پر ہے، جیسے ’’الحمد للّٰہ رب العالمین‘‘ میں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بعض مواقع میں ’’العالمین‘‘ قرائن خارجیہ کی وجہ سے مخصوص ہے، لیکن اس آیت کریمہ میں کوئی دلیل مخصوص نہیں پائی جاتی۔ بعض قرائن خارجیہ اس کے عموم کی تائید کرتے ہیں، مثلاً یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’رحمۃ للعالمین‘‘ ہونا جہت رسالت سے ہے، یعنی حضورﷺ رسول ہونے کی وجہ سے رحمت ہیں، لہذا رحمت کا عموم رسالت کے عموم کے عین مطابق ہوگا۔ حضورﷺ جس کے لئے رسول ہو گئے، اسی کے لئے رحمت قرار پائیں گے۔ اب یہ معلوم کرلیجئے کہ حضورﷺ کس کے لئے رسول بن کر تشریف لائے؟ تو مسلم شریف کی حدیث میں وارد ہے: ’’میں ساری مخلوق کے لئے رسول بناکر بھیجا گیا ہوں‘‘۔ جب وہ ساری مخلوق کے لئے رسول ہوئے تو رسول عالمین قرار پائے، لہذا ضروری ہوا کہ آپ رحمۃ للعالمین ہوں۔ ثابت ہوا کہ جس طرح حضورﷺ کی رسالت تمام عالمین کے لئے عام ہے، اسی طرح آپﷺ کی رحمت بھی تمام جہانوں کے لئے عام اور ماسواء اللہ کو محیط ہے۔
رہا یہ سوال کہ کفار و مشرکین وغیرہ بدترین لوگوں کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رحمت نہیں ہیں، اس لئے کہ وہ عذاب الہٰی میں مبتلا ہوں گے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ظہورِ رحمت کے مراتب ہر ایک کے حق میں متفاوت ہیں۔ روح المعانی میں اسی آیت کے تحت مرقوم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب کے لئے رحمت ہیں، اس بات میں مؤمن و کافر کے درمیان کوئی فرق نہیں، مگر رحمت ہر ایک کے حق میں مختلف اور متفاوت ہے کہ ان کا مبتلائے عذاب ہونا اس لئے ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے منہ پھیرا، ورنہ حضورﷺ کی رحمت میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے‘‘ مگر اس کے باوجود بھی کفار مبتلائے عذاب ہوں گے، تو کیا اللہ تعالیٰ کے رحمن و رحیم ہونے پر کچھ فرق آئے گا؟ یا ’’کل شیئٍ‘‘ (ہر شے) کے عموم سے انھیں خارج سمجھا جائے گا۔ معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ! نہیں اور ہرگز نہیں، بلکہ یہی کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تو ہر شے پر وسیع ہے، مگر بعض افراد اپنی عدم اہلیت کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں کہ رحمتِ خداوندی سے فائدہ اُٹھائیں۔ معلوم ہوا کہ کسی کا رحمت سے فائدہ نہ اُٹھانا رحمت کے عموم کے منافی نہیں ہے۔ (مقالات کاظمی سے اقتباس)

TOPPOPULARRECENT