Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / رحمۃ للعالمین ﷺاورانکا پیغام رحمت…

رحمۃ للعالمین ﷺاورانکا پیغام رحمت…

ربیع کہتے ہیں بہارکے موسم کو ،اس مادی عالم میں موسم ادلتے بدلتے رہتے ہیں ،کبھی خزاں کا موسم ہوتاہے تو کبھی بہارکا۔خزاں کے موسم میں درخت اورنباتات سب سوکھ جاتے ہیں،دیکھنے والوں کی نگاہوں کو کوئی خوش کن منظردکھائی نہیں دیتا،لیکن جب موسم بہارہوتاہے تودرخت پھرسے سرسبزوشاداب ہوجاتے ہیں ،زمین پھرسے سبزپوش ہوجاتی ہے سارامنظرخوشگواربن جاتاہے ،مادی عالم میں جیسے خزاں وبہار کے موسم آتے ہیں کچھ اسی طرح انسانی زندگی کے روحانی نظام میں بھی خزا ں وبہارکے موسم آتے ہیں۔ہم صرف اس عالم کو عالم سمجھتے ہیں جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک اورعالم بھی ہے جوروحانیت کا مقتضی ہے جسکا تعلق انسان کے باطن اوراسکی روح سے ہے۔مادی اورجسمانی تقاضوں کی تکمیل جہاں زندگی کے لئے ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ روحانی ارتقاء اوراسکی زندگی کے سامان کے بھی بڑی اہمیت ہے ،اس روحانی نظام کی آبیاری کیلئے اللہ سبحانہ نے جن کو منتخب فرمایا ہے وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ذوات مقدسہ ہیں۔اوران پر جوآسمانی کتب وصحائف نازل فرمائے ہیں وہ گویا روحانی نظام کی حیات وزندگی کا اصل سرما یہ ہیںاسلئے جب جب روحانی عالم میں خزاں رسیدگی چھا گئی تواللہ سبحانہ نے انسانوں پر رحمت ومہربانی فرما کرانبیاء کرام ومرسلین عظام کو مبعوث فرمایا اورانکے ذریعہ آسمانی ہدایات انسانوں تک پہونچائی تاکہ انکے روحانی عالم میں زندگی کی بہارجلوہ بداماں ہوجائے،اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہے ،آپ ﷺ کی آمدسے پہلے روحانی عالم کا سارانظام درہم برہم ہوگیا تھا،ایک ایسی طویل تاریک رات چھاگئی تھی جہاں سے روشنی کی کرن پھوٹنے کے بظاہرکوئی آثارنہیں تھے، کفروشرک کے گہرے اندھیارے ،ظلم وجورکی گھٹاٹوپ تاریکیاں چھائی ہوئی تھی ،قتل وخون ،شروفسادجیسی مہلک بیماریاں پورے سماج کو اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے تھیں،مادی چراغوں کی روشنی جوضروراس مادی عالم کی راتوں کوروشن کررہی ہوگی لیکن نورتوحیدکا اجالا مفقودہوگیا تھا جس سے روح کی دنیا ’’ظُلمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْض‘‘کے مصداق تہہ درتہہ تاریکیوں میں غرق ہوگئی تھی،یہودی ونصرانی بھی جوخوش قسمتی سے اہل کتاب تھے وہ بھی حق کا راستہ گم کرچکے تھے، نعوذباللہ نصرانیوں نے بی بی مریم اورخود حضرت عیسی مسیح علیہما السلام کو خدابنا لیا تھا،فرشتوں کو نعوذباللہ اللہ کی بیٹیاں ماننے لگے تھے۔ مشرکین کے ہاں تو انگنت خداتھے ،الہِٰ واحدکا تصور،موت کے بعدد وبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے ،نیک وبداعمال کی جواب دہی کا استحضارقلب ودماغ سے محوہوگیا تھا،چاندوسورج اورستاروں کی پوجا ہواکرتی،مٹی وپتھر،درخت وپہاڑیہاں تک کہ درندے اورجانوربھی انکے خیال میں خداتھے،انکو خوش کرنے کیلئے انکے آگے جانوروں کی قربانی دیجاتی،دعائیں ،منتیں ،مرادیں اورجتنے بھی مراسم عبودیت ہیں سب ان سے وابستہ کرلئے گئے تھے۔قبائل اپنی جگہ خود مختارتھے ،ایک قبیلہ کو دوسرا قبیلہ کی کوئی بات نہیں بھاتی تھی اسلئے ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ سے ہمیشہ آمادہ جنگ رہا کرتا تھا،اندرون ملک خانہ جنگی کے علاوہ دیگرممالک  پر ناجائزقبضہ حاصل کرنے کیلئے خوں ریزی کا بازارگرم تھا،کائنات کے خالق ومالک کی معرفت سے محرومی کے ساتھ معاشرتی زندگی سخت بداخلاقی کا شکارتھی، اخلاقی گراوٹ نے انکوقعرمذلت میں ڈھکیل دیا تھا،کمزوروں،بیواؤں ،یتیموں کا کوئی والی وارث نہیں تھا،باندی وغلام کی توکوئی سماجی حیثیت ہی نہیں تھی،حرص وطمع ،عداوت ودشمنی ،کینہ وحسد،قتل وخون جیسے رزائل اخلاق نے انسانی فطری اخلاق کو مسخ کردیا تھا۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ان ساری خرابیوں کے باوجودعرب چندعالی صفات سے بھی متصف تھے ،حق گوئی وبے باکی،سخاوت ومہمان نوازی،شجاعت وبہادر ی انکی خمیرمیں رچی بسی تھی۔ ان جیسے حالات میں اللہ سبحانہ نے نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺکوخاتم النبیین اوررحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا،وحی الہی کا نزول ہوا،سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں ،آپ ﷺ کے سینہ مبارکہ میں علوم ومعارف کے دریا موجزن ہوگئے ،

اللہ سبحانہ کی معرفت کے جلوے عیاں ہوئے ،اورانسان کی حقیقت اوراسکے تخلیقی مراحل کے تذکرہ کے ساتھ اسکے پیدائشی حسن وجمال اورانسانی سراپا کے تخلیقی کمال سے پردہ ہٹاکر آپﷺ کے ذریعہ اللہ کی معرفت اورخوداپنی معرفت کا انسانوں کو سبق دیا۔اس معرفت تک رسائی کیلئے علم وقلم کی اہمیت کو اجاگرکیا،گم کردہ راہ انسانیت کو روشنی دکھانے کیلئے ہردورمیں علم وقلم نے نمایاں رول اداکیاہے،علم وقلم کو اقلیم معرفت کا سرتاج کہا جائے تو بے جانہ ہوگا،جہاں جہاں علم وقلم کی حکمرانی رہی ہے وہاں وہاں حقیقی معرفت ، سربلندی وسرفرازی ،کامیابی وکامرانی کے دریائے فیض بہتے رہے ہیں۔تاہم اللہ سبحانہ قلم وقرطاس جیسے مادی ذرائع فیضان کے بغیربھی انسانی سینوں کو اپنے انواروتجلیات کی جلوہ گاہ بنا نے پر قادرہے ،اسلئے اللہ سبحانہ اپنے محبوب پیغمبرخاتم النبیین سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کوعلوم ومعرفت کا  سرچشمہ فیضان ایسے بنایاکہ مادی ذرائع کا محتاج نہیں رکھا،آپ ﷺ کا امی ہونا اسی لئے ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔سورۃ العلق کی ابتدائی آیات میں جوپیغام انسانیت کو دیا گیاہے وہ خودایک کامل ومکمل پیغام ہے ، ایک عرصہ بعدسورۃ المدثرکی آیات مبارکہ نازل ہوئیں ،اللہ سبحانہ نے ان آیا ت میںاپنی بے نہایت لطف مہربانی ،توجہ وعنایت کا ذکرفرمانے بعدبندگان خداکو اپنے معبودبرحق کی پہچان کرنے اوراپنے سینوں کو معرفت ربانی کی جلوہ گاہ بنانے اوراسی کی بارگاہ قدس میں سرجھکانے کا پیغام دینے کی ہدایات نازل فرمائی ۔وہ جوبرسوں سے کفروشرک کے گرداب میں پھنسے ہوئے تھے اللہ سبحانہ کی بڑائی اورکبریائی کے بجائے جن کے دل ودماغ اپنے بڑے ہونے کے فخروگھمنڈ سے مسموم ہوگئے تھے اورجو اپنی برتری وبڑائی کے احساس میں جی رہے تھے اپنے آپ کو بزعم خوددوراندیش ،عقل وخرد کا مالک سمجھ رہے تھے، مزیدبراں بیت اللہ کے نگران ومجاور ہونے کا احساس انکو فخروغرورکی وادیوں میں سرگرداں رکھے ہوئے تھا۔ایسے میں انکواللہ کا خوف دلانا اور توحیدکے پیغام سے انکوروشناس کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا،وہ انسان جنکے دل پتھرجیسے سخت ہوگئے ہوں اس میں ایمان کی تخم ریزی کرکے ایمانیات کے شجراگانا ،علم ومعرفت سے محروم انسانی وادیوں کو چمنستان دہرمیں تبدیل کرنا،جہل واناکی خاردارجھاڑیوں کو ایمان وعرفان کا گل وگلزار بنا نا کوئی آسان کام نہیں تھا۔اس انقلاب آفریں پیغام سے روشناس کرانے کے نتیجہ میں دستوردنیا کے مطابق دشوارگزارمراحل کاضرور سامنا ہوا،پیغام حق پہونچانے کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹیں بھی ضرور آئیں لیکن اللہ سبحانہ کی رحمتیں مددگارتھیںاوراس پیغام حق کوکامل ومکمل ہونا تھااورقیامت تک اسی پیغام حق کی فرماں روائی اللہ سبحانہ نے طے فرما دی تھی اسلئے آپ ﷺپیغام حق کی مشعل تھامے آگے ہی آگے بڑھتے رہے، مخالفین حق کی سمت سے آنے والی ظلم وجورکی بادسموم  کوخاطرمیں نہیں لایا ،نبوت کے منصب رفیع پرفائزہونے کی جوعظیم ذمہ داری اللہ سبحانہ نے آپ کو سونپی تھی تادم زیست اسکونبھانے اوراس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے میںمصروف عمل رہے ۔آپﷺ کا پیغام ساری انسانیت کیلئے ہے لیکن سب سے پہلے اہل مکہ اورخاندان قریش تک اس پیغام کے پہنچانے کی ہدایت ملی ،اس میں پیغام حق پہونچانے کی ذمہ دای نبھانے والوں کیلئے ایک پیغام ہے کہ جس پیغام کو وہ پہونچانے جارہے ہیں عقیدہ وعمل کے اعتبارسے وہ خود اس پر پوری طرح قائم رہیں اوراپنے خاندان اورقبیلہ کو اس پیغام حق کا پابندبنائیں،پھراپنی کوششوں اورکاوشوں کا رخ عوام کی اصلاح کی طرف پھیریں۔ الغرض سرزمین مکہ پھرطائف کی وادیوں میں پیغام حق کی شمع جلانے کے بعد نوروروشنی کے پھیلنے میں جوموانعات ظلم وجورکی آندھیوں کی وجہ سے درپیش تھیں وہ حق کی شمع گل کرنے میں نا کام رہیں،وقتی طورپرچراغ حق کے نورکی لوکچھ وقت کیلئے مدھم ضروررہی جس سے باطل کی تاریکی چھائی رہی لیکن پیغام حق کی شمع سے پھیلنے والی شعائیں مکہ کی وادیوں سے نکل کر مدینہ منورہ کے گوشوں کو منورکرنے لگیں،حق سبحانہ نے ہجرت کے احکام نازل فرمائے جہاں اسلام کے پیغام کو آنکھوں سے لگایا گیااوراس سے دلوں کو چمکا یا گیا،اشاعت اسلام کیلئے سرزمین مدینہ بڑی ہموارثابت ہوئی ،جہاں ایسے انسان بستے تھے جنکی خمیرمیں محبت گندھی ہوئی تھی ،جہاں والہانہ جذبات عقیدت ومحبت کی حکمرانی تھی،جہاںاپنائیت ،پیارومحبت،ہمدردی واخوت کی فضاء تھی آپ ﷺ کے قدوم میمنت لزوم کی برکت سے مدینہ پاک کا پوراحال وماحول ایمان واسلام کے نورسے روشن وتابناک ہوگیا،آپﷺ کے خلق عظیم اورآپ ﷺ کی بے نظیرانسانیت دوستی سے اسلام کی روشنی مدینہ پاک کے افق سے نکل کرسارے عالم پر چھا گئی‘‘صلح حدیبیہ کی دلگیرشرائط ’’ عسی ان تکرہواشیا وہوخیرلکم‘‘کے مصداق فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں،یہ وہ شرائط تھیں جوکسی اورکیلئے پسندخاطرتو نہیں ہوسکتی تھیں لیکن نگاہ نبوت کے نورنے صلح کے ان دوررس نتائج کا اندازہ کر لیا تھا جوفتح مکہ کی صورت میں نصرت حق سے ظاہرہونے والے تھے،  پھر کیا تھا مکۃ المکرمہ بھی اسلام کے سایہ رحمت میں آگیا ، آپ ﷺ کی بے مثل اوربے مثال اور تابناک شخصیت ،نوروروشنی سے معمور زندگی کی مقناطیسی کشش نے ساری انسانیت کو کچھ ایسا گرویدہ بنالیا کہ پرچم اسلام سارے عالم پر لہرانے لگا،جوتاقیام قیامت لہراتا رہے گاجس سے تشنہ حق انسانیت کو آسودگی بہم پہنچتی رہے گی۔الغرض اسلام اورپیغمبراسلام سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کا پیغام رحمت حیات ابدی وسرمدی کا خزینہ ہے۔ پرچم اسلام کے اس سایہ رحمت میں جوپہنچ جائیں گے ابدی فلاح وسعادت ،سرفرازی وکامیابی انکا مقدربنے گی ،’’صلائے عام ہے یا ران نکتہ داں کیلئے‘‘

TOPPOPULARRECENT