Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / رحم مادر کو پابندیوں کے ساتھ کرایہ پر لینے کے بل کی منظوری کا خیر مقدم

رحم مادر کو پابندیوں کے ساتھ کرایہ پر لینے کے بل کی منظوری کا خیر مقدم

غریب ، دلت قبائلی خواتین کے استحصال پر روک ، صدر تلنگانہ ویمن کمیشن کی پریس کانفرنس

حیدرآباد ۔ 26 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ اسٹیٹ ویمن کمیشن نے آج رحم مادر میں کسی مرد کے مادہ منویہ کو منتقل کرتے ہوئے بچہ کی افزائش کو ہندوستان میں پابندی عائد کرنے کے ایک بل کو مرکز کی جانب سے منظوری دئیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ واضح رہے کہ 24 اگست کو مرکزی کابینہ نے اس بل کو منظوری دی تھی ۔ اس بل کے ذریعہ غیر ملکی افراد ، ہم جنس پرست جوڑوں ، بغیر شادی کے ازدواجی تعلقات رکھنے والے جوڑوں اور لاولد جوڑوں پر پابندی عائد رہے گی ۔ جب کہ کم از کم پانچ سال ازدواجی زندگی گذارنے والے ہندوستانی جوڑے کی دیگر خاتون کے رحم مادر میں اپنے مادیہ منویہ کے ذریعہ بچہ کی افزائش کے حق دار ہوں گے ۔ مرکز کے منظور شدہ بل کے نکات کے مطابق اہل جوڑوں کے درمیان قریبی ازدواجی تعلق ضروری ہوگا جب کہ خود غرضانہ یا تجارتی اغراض کے لیے اس سہولت کا قطعی طور پر استعمال نہیں کیا جاسکے گا ۔ یہاں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر نشین تلنگانہ ویمن کمیشن تروپوانہ وینکٹا رتنم نے اس بل کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل رحم مادر کے تجارتی اغراض کے لیے استعمال پر کڑی نظر رکھے گا ۔ جب کہ ملک میں رحم مادر کا تجارتی طور پر استعمال کرتے ہوئے تخمیناً پانچ سو ملین امریکی ڈالرس کی تجارت انجام دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل کئی سال سے زیر التواء تھا قومی خواتین کمیشن کی جانب سے بل پر اکٹوبر 2015 کو ایک روزہ طویل مباحث انجام دیے گئے تھے ۔ اس دوران میں ( وینکٹا رتنم ) نے رحم مادر میں بچہ کی تجارتی طور پر افزائش کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی بتایا تھا اور اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر خون کے رشتوں میں بندھے افراد کو اس سہولت سے استفادہ کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے مذکورہ بالا تمام نکات کو بل میں موجود رہنے پر اظہار مسرت کیا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بل کے ذریعہ خاص کر غریب دلت اور قبائلی خواتین کے استحصال کو روکا جاسکے گا ۔ صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ ویمن کمیشن وینکٹا رتنم نے کہا قومی اور ریاستی سطح پر باقاعدہ اتھاریٹی کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ اس قانون کی عمل آوری پر نظر رکھی جاسکے ۔ انہوں نے اس بات کے اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ایوانوں میں بل کی منظوری کے بعد یہ ایک باقاعدہ قانون کی حیثیت سے کام کرے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT