Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / رزق وروزی کی تحصیل کے اسباب ووسائل

رزق وروزی کی تحصیل کے اسباب ووسائل

عالمی سطح پر انسان رزق کی قلت،روزی میں عدم برکت،لوازمات زندگی میں عدم راحت وغیرہ جیسے مسائل سے دوچارہیں، حالانکہ یہ دورمادی وسائل وذرائع کے اعتبار سے بظاہر فراخی ووسعت کا ہے،صنعت وہرفت ،کاشت کاری وزراعت،کاروباروتجارت جیسے اسباب ووسائل حیات روزافزوں ہیں۔اسبابی نقطہ نظرسے ہوناتو یہ چاہیئے تھا کہ انسان خوشحالی وفارغ البالی کی زندگی بسرکرتے،لیکن حالات بالکل اسکے برعکس ہیں یہ صورتحال غوروفکرکی دعوت دے رہی ہے کہ آخرایسا کیوں ہے؟ظاہرہے زندگی کے احوال،رزق وروزی میں وسعت وکشادگی اوربرکت ،معاملات وکاروبارمیں یکسوئی،وسائل حیات میں راحت وسکینت اللہ سبحانہ نے مادی وسائل میں نہیں بلکہ مرضیات رب کے مطابق مقصد حیات کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنے میں رکھی ہے، اسباب ووسائل تورزق وروزی کے ذرائع ہیں اصل روزی نہیں،روزی کے اسباب ووسائل اوراسکے ذرائع کوکھولنا،بندکرنا،اللہ سبحانہ کی قدرت ومشیت اوراسکے دست قدرت میں ہے،اسلئے اس سے رجوع رہ کرہی انسان پر سکون رزق وروزی ، راحت سے بھرپور وسائل حیات کی تحصیل میںکامیاب ہوسکتے ہیں اورآخرت میں اپنے اعمال کی بہترجزاپاسکتے ہیں۔ارشادباری ہے ’’جوکوئی اعمال صالحہ اختیارکرے خواہ وہ مردہوکہ عورت جبکہ وہ مومن ہویقینا ہم ان کوبہترزندگی عطاکر ینگے اورانکے اعمال صالحہ کی اچھی جزابھی ضرورانکودیں گے۔

(النمل/۹۷)حیات طیبہ یعنی بہترزندگی سے مراد دنیا کی زندگی ہے، مومنانہ کردار،صالحانہ طرززندگی،متقیانہ اوصاف،عبادت واطاعت،زہدوقناعت کی برکت سے زندگی عیش وآرام سے آسودہ،مصائب وآلام سے محفوظ،راحت ورحمت کا گہوارہ ثابت ہوتی ہے جبکہ کفروشرک کی ظلمتوں کے پر وردہ،عصیان وطغیان میں ڈوبے نافرمان دنیا جہاں کے اسباب عیش وتنعم مہیا ہوجانے کے باوجودحقیقی عیش وراحت پر سکون لمحات حیات اورتسکین خاطرسے محروم رہتے ہیں۔اسلام نے نیکی وصالحیت ،تقوی وطہارت،پاکیزہ اعمال،اعلی کردارکوبہتراورپر سکون وسائل حیات کی تحصیل کا ذریعہ بتایاہے ، جبکہ غیراسلامی نظام حیات کے داعی معاشی نظام حیات کا ایک غیردینی فلسفہ رکھتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ اس پر عمل کرکے دنیا معاشی وسائل کی تحصیل میں کامیاب ہوسکتی ہے پھراس فلسفہ کی تبلیغ واشاعت میں اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں اوراوروں پر اسکومسلط کرنے کی کوشش وجدوجہدبھی کرتے ہیں ،اس مادی نظام معیشت میں حلال وحرام کا کوئی فرق وامتیازسرے سے رواہی نہیں رکھا جاتا نہ تواسباب وذرائع کی حلت وحرمت انکے پیش نظرہوتی ہے نہ ہی اشیاء خوردونوش کے حلت وحرمت ہی کوئی فکرانکودامن گیرہوتی ہے مغرب کے غیراسلامی وغیردینی معاشی نظام نے آہستہ آہستہ مسلم سماج کوبھی اپنی غیردینی فکر کی چنگل میں دبوچ لیا ہے،جسکے ناروراثرات کی وجہ مسلم سماج بھی رزق وروزی کے مسائل سے اضطراب وبے چینی کا شکارہے۔اسباب معاش ومعیشت عام ہونے کے باوجودخداناشناسی،دین سے دوری،ذکرالہی سے بے خبری وبے توجہی،اسلامی اقدارسے محرومی نے اسباب معیشت سے برکت اٹھالی ہے۔ارشادباری ہے ’’اورجس نے میرے ذکرسے اعراض کیا اسکے لئے زندگی تنگ ہے۔(طٰہ:۱۲۴)یعنی اسلامی ہدایات پر عمل نہ کرنے،حرام میں مبتلاہونے،حرص وہوس میں گرفتارہونے یا قناعت سے محرومی کی وجہ مظطرب وپریشان ہونے،مالی واسباب کی کثرت کے باوجودفراغ خاطرنصیب نہ ہونے سے زندگی خوشگواریاں سلب ہوجائیں گی،الغرض اللہ پر ایمان کی نعمت سے محرومی یااسکی یادسے غفلت قلق واضطراب میں مبتلاکردیتی ہے۔بسااوقات تحصیل معاش کی فکرانسانوں کوحیوانیت کی سطح سے بھی نیچے پہونچادیتی ہے ،چوری،ڈاکہ زنی،لوٹ کھسوٹ،حق تلفی،دوسروں کے حقوق یا اموال پر ناجائزقبضہ اورانکے مالی وسائل پر زبردستی تسلط ،قطع رحمی،قتل وخوںریزی کی گرم بازاری سے معاشرہ کا چین وسکون چھن جاتاہے۔اسلام نے رزق وروزی کی بآسانی فراہمی،اسباب معیشت ومعاش میں برکت وفراوانی کے چند اسباب بیان کئے ہیں،ان اسباب میں تقوی کوبڑی اہمیت حاصل ہے۔اللہ سبحانہ نے تقوی کو ان اسباب رزق میں بنایا ہے جورزق کو بآسانی بندہ تک نہ صرف پہونچاتا ہے

بلکہ اسکی وجہ رزق وروزی میں اضافہ ہوتاہے ،(سورۃ الطلاق:۳۲)میں اللہ سبحانہ نے ایک زرین اصول بیان فرمایا ہے کہ جوبندہ اللہ سبحانہ سے ڈرتاہے اللہ سبحانہ اسکے لئے مصائب وآلام،اورمشکل احوال سے بچ کر نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں اورایسی جگہ سے رزق وروزی فراہم فرمادیتے ہیں جہاں تک بندہ کے گمان کی رسائی بھی نہیں ہوپاتی لیکن شرط یہ ہے کہ بندہ اللہ کے خوف سے لرزاں وترساں رہے،احکام الہی کی پابندی کرے، ذکرواذکارپر مواظبت اختیارکرے، تقوی وپرہیزگاری کواپناشعاربنائے۔سورۃ الاعراف آیت /۹۶میں ارشادہے اوراگران بستیوں اورآبادیوں میں رہنے والے ایمان لاتے اوراسکے احکام کی بجاآوری کرکے تقوی وپرہیزگاری کی راہ پر گامزن رہتے تو ہم ان پر آسمانوں اورزمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے ،تقوی کے ساتھ توبہ واستغفارکا اہتمام بھی کشادہ ،باوقاراورخوشگواررزق وروزی کا ضامن ہے،اللہ سبحانہ نے سورہ ہودآیات :۳/۵۲سورہ نوح :آیات:۱۰تا ۱۲/میں اسکی وضاحت فرمائی ہے،جنکا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان کو عزیزازجان بناکر پچھلی زندگی پر ندامت کے آنسوبہاکرصدق دل سے توبہ کرکے جورجوع الی اللہ ہوجاتے ہیں ،نیک اعمال پر کاربند رہتے ہیں انکے لئے اخروی نعمتوں کے علاوہ عیش وراحت کی آسودہ پر سکون دنیاوی زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ مقدر فرمادیتے ہیں۔توبہ واستغفارکی برکت سے قحط سالی دورہوتی ہے رحمتوں کی برسات برستی ہے جس سے کھیت وکھلیان سرسبزوشاداب ہوکرلہلہانے لگتے ہیں ،کھیت وباغات ثمرآورہوتے ہیں جس سے معاشی مسائل بآسانی حل ہوجاتے ہیں ۔ اللہ پر بھروسہ و توکل بھی اسباب رزق میں موثرذریعہ ہے ارشاد باری ہے’’اورجواللہ سبحانہ پر بھروسہ وتوکل کرتاہے تو وہ اسکے لئے کافی ہے۔ الطلاق/۳ توکل کے معنی یہ ہیں کہ انسان اسباب اختیار کرے لیکن اسباب پر بھرروسہ نہ کرے بلکہ نتیجہ کواللہ کے سپرد کرے ،محنت وکسب اختیارکرکے اللہ پر بھروسہ کرنے والے اللہ کے دوست ہوتے ہیں،زراعت ہوکہ کاروبار،تجارت ہوکہ مصانع کا قیام جائزحلال وطیب رزق وروزی کی تحصیل کے اسباب ہیں،ان اسباب کا اختیارکرناتوکل کے خلاف نہیں کیونکہ اسباب کا اختیارکرنا طاعت وفرماںبرداری ہے اوراللہ سبحانہ پر توکل واعتمادایمان کا حصہ ہے ، سور ۃ النساء آیت /۷۱ ۔سورۃ الانفال آیت /۶۰۔سورۃ الجمعہ آیت /۱۰ سے اسکی تصدیق ہوتی ہے، اسباب اختیارکرکے اللہ پر توکل واعتمادکرنے والے کو کبھی زندگی میں معاشی تنگی دنیاوی نقصانات اورمصائب ومشکلات درپیش ہو ں تواللہ پر توکل کاتقاضہ یہ ہے کہ انسان کے قدم کبھی نہ ڈگمگائیں ،بطورآزمائش ایسا ممکن ہے لیکن یہی وہ وقت ہے کہ اسباب اختیارکرتے ہوئے انسان اللہ سے اپنی لولگائے اوراللہ پر توکل واعتمادکرتے ہوئے اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ سبحانہ ہر ایک کا روزی رساں ہے،اللہ سبحانہ سے جواپنا قلبی تعلق جوڑلیتے ہیں اوریہ یقین رکھتے ہیں کہ نفع کا پہنچانا ،ضررکودورکرنا اسی کے دست قدرت میں ہے ،مشکل حالات میں وہ اپنے معاملہ کو اللہ کے تفویض کردے تواللہ سبحانہ اسکی مشکلات میں اسکے کارسازہوجاتے ہیں۔سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشادگرامی ہے ’’اللہ سبحانہ پر تم ایسے توکل واعتماد کرو جیسے کے اسکا حق ہے توضروراللہ سبحانہ تم کو رزق فراہم فرمائیںگے جیسے کہ پرندوں کو وہ روزی فراہم فرماتے ہیں ،صبح وہ اپنے ٹھکانوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اورشام کو بھرے پیٹ واپس لوٹتے ہیں‘‘ ۔توکل کی اصل روح یہ ہے کہ بندہ اسباب اختیارکرکے اپنے عجزکا اعتراف کرتاہے کہ اسکی ان کوششوں کا کوئی حاصل نہیں جب تک کہ حق سبحانہ وتعالی کا فضل شامل حال نہ ہوجائے ،رزق وروزی کی بآسانی فراہمی کے اسباب میں صلہ رحمی ،اللہ سبحانہ کے راستہ میں مال کا خرچ کرنا،حج وعمرہ کو ایک ساتھ اداکرنا،کمزوروں اورضعیفوں کے ساتھ حسن سلوک ،اپنے آپ کو ذکروعبادت کیلئے فارغ کرنا یعنی رزق وروزی کی تحصیل میں حسب ضرورت انہماک کے ساتھ ذکرواذکار،تلاوت قرآن ،عبادات کے اہتمام کیلئے اپنی زندگی کی اوقات سے ایک اچھا خاصہ وقت فارغ کرنا ایمان والوں پر فرض ہے کیونکہ اللہ سبحانہ نے انسانوں کو اپنی معرفت اوراپنی عبادت کے لئے پیدافرمایاہے ،رزق وروزی کی بآسانی فراہمی کے وہ اسباب جومشروع ہیں اورجنکی تفصیلی وضاحت نہیں ہوسکی ہے انشاء اللہ آئندہ بیان ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT