Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / رشوت، غربت، ناخواندگی ، ناقص تغذیہ ملک کیلئے سنگین چیلنج

رشوت، غربت، ناخواندگی ، ناقص تغذیہ ملک کیلئے سنگین چیلنج

تمام لعنتوں کے اندرون پانچ سال خاتمہ کیلئے ’’کریں گے اور کرکے رہیں گے‘‘ کے عہد کیساتھ نئی مساعی کی ضرورت

ہندوستان کی آزادی ساری دنیا سے نوآبادیاتی
حکمرانی کے اختتام کا فیصلہ کن لمحہ
آئندہ پانچ سال میں مثبت تبدیلی پر زور
لوک سبھا میں وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب

نئی دہلی ۔ 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے رشوت، غربت اور ناخواندگی کو سنگین چیلنجس قرار دیتے ہوئے اس قسم کی تمام لعنتوں کا آئندہ پانچ سال میں ’’کریں گے اور کرکے رہیں گے‘‘ کے عہد کے ساتھ خاتمہ کرنے کیلئے خصوصی مساعی کے آغاز پر زور دیا۔ ہندوستان چھوڑدو تحریک کی 75 ویں سالانہ یاد کے موقع پر لوک سبھا میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2017ء سے 2022ء تک جب ہندوستان 75 سال کا ہوجائے گا اس دوران بالکل وہی جذبہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی جو 1942 اور 1947 کے دوران تھا۔ انہوں نے کہاکہ رشوت کی لعنت ملک کے جمہوری سفر کو بدترین انداز میں اثرانداز ہوئی اور سیاست کو اندر سے کھوکھلا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رشوت، غربت، ناخواندگی اور ناقص تغذیہ ایسے سنگین چیلنجس ہیں جن سے ہندوستان کو نمٹنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے ایک مشترکہ عزم و عہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اس ضمن میں ایک مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے‘‘۔ مودی نے کہا کہ ’’1942ء کا نعرہ تھا کہ ’’کریں گے یا مریں گے‘‘ لیکن آج کا نعرہ ’’کریں گے اور کرکے رہیں گے‘‘ ہے۔ آئندہ پانچ سال ’عہد اور حصول‘ کے ہونا چاہئے۔ ایک ایسا عہد جو ہمیں مقصد کے حصول تک پہنچائے‘‘۔ نوآبادتی حکمرانی سے ہندوستان کی آزادی محض ہندوستان سے متعلق ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا یادگار و فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے دنیا کے دیگر حصوں میں بھی نوآبادتی نظام کو ختم کیا۔ وزیراعظم نے جدوجہد آزادی میں قوانین کے کلیدی کردار کی خاص طور پر یاد دلاتی اور کہا کہ عصرحاضر میں بھی خواتین عام مشترکہ مقاصد کو ایک طاقت بخش سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1942 میں مہاتما گاندھی نے ’’کرو یا مرو‘‘ کا نعرہ دیا تھا جس کے بعد متعدد شخصیات نے کئی سال تک انفرادی طور پر جدوجہد آزادی میں حصہ لیا تھا۔ مودی نے یاد دلایا کہ ہندوستان چھوڑدو تحریک کے آغاز کے بعد مہاتما گاندھی جیسے کئی سینئر قائدین کو جیل بھیج دیا گیا تھا اور اس تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے نئی نسل کے کئی قائدین نے اس میں شامل ہوتے ہوئے خلاء کو پُر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان چھوڑدو تحریک ایک نئی قیادت کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے جس نے اس تحریک میں مہاتما گاندھی کی مدد کی تھی‘‘۔ وزیراعظم مودی نے اپنے نصف گھنٹے کے خطاب کے دوران تحریک آزادی کے مختلف ادوار میں نیتاجی سبھاش چندر بوس، لال بہادر شاستری، جئے پرکاش نارائن، رام منوہر لوھیا، چندرشیکھر آزاد اور راجو گرو مختلف قائدین کے رول کو یاد دلایا۔
مودی نے حقوق اور فرائض کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام اگرچہ اپنے حقو ق سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن انہیں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر آئندہ پانچ سال 2017ء تا 2022ء کے دوران مجاہدین آزادی کے خوابوں کے مطابق ہندوستان بنانے کی مساعی میں شامل ہوجائیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT