Monday , April 24 2017
Home / آپ کے سوال / رشوت کی رقم کس کی ملکیت ہے ؟

رشوت کی رقم کس کی ملکیت ہے ؟

سوال :  میرا ایک حکومتی ادارہ میں اہم کام تھا، متعلقہ شخص بڑی رکاوٹ کھڑی کر رہا تھا اور علی الاعلان خطیر رقم کا مطالبہ کر رہا تھا ۔ بالآخر میں اس کو وہ رقم دینے پر مجبور ہوگیا۔ حسن اتفاق سے اس کے عہدیدار بالا قریبی ملاقاتیوں میں سے نکلے ۔ میں نے اس کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے آفس بلایا اور اس متعلقہ شخص کو روشت کی رقم واپس کرنے کیلئے کہا۔ وہ شخص آدھی رقم ادا کیا ۔ میرے بعض دوست احباب نے کہا کہ جب تم ایک مرتبہ اس کو وہ رقم دے دیئے تو وہ رقم اس کی ملکیت ہوگئی ۔ اب تم کو واپس طلب کرنے کا حق نہیں۔ براہ کرم واضح کہئے کہ جو رقم میں نے واپس لی ہ اس کو میں اپنے شخصی استعمال میں لاسکتا ہوں یا پھر مجھے وہ رقم خیرات کردینی چاہئے ۔
نام…
جواب :  رشوت طلب کرنا شرعاً حرام ہے اور دینے والا بھی گنہگار ہے۔ رشوت کا مال رشوت لینے والے کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ رد المحتار کی کتاب الحظر والا باحتہ فصل البیع میں ہے : الرشوۃ لا تملک بالقبض۔
پس صورت مسئول عنہا میں آپ نے اس کے مطالبہ پر مقررہ رقم ادا کی تھی تو اس کی وجہ سے وہ رقم اس کی ملک نہیں ہوئی ۔ آپ کو اپنی دی ہوئی رقم واپس طلب کرنے کا حق ہے ۔ اگر اس نے آپ کو نصف رقم واپس کی ہے تو آپ اس کے مالک و حقدار ہیں۔ آپ اپنی مرضی سے جس مصرف میں چاہیں اس رقم کو خرچ کرسکتے ہیں۔ اس رقم کو شخصی استعمال میں بھی لاسکتے ہیں۔  خیرات کرنا یا نہ کرنیکا اختیار آپ کو ہے لیکن اس رقم کو خیرات کرنا ضروری نہیں۔
نماز جنازہ میں تکبیرات کے بعد ہاتھ چھوڑنا
سوال :   امام صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنے تک ہاتھ باندھے رکھا ۔ بعض اصحاب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ نماز نہیں ہوئی ۔ ایسی صورت میں شرعاً نماز جنازہ ہوئی یا نہیں ؟
اختر حسین،کاروان
جواب :   نماز جنازہ میں دو فرض ہیں۔ (1) چار تکبیرات یعنی چار مرتبہ اللہ اکبر کہنا (2) قیام یعنی کھڑے ہوکر نماز پڑھنا، نماز جنازہ میں تین امور مسنون ہیں۔ پہلی تکبیر کے بعد حمد و ثناء پڑھنا، دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھنا، تیسری تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا کرنا۔ اس کے علاوہ جو امور ہیں وہ مستحبات و آداب سے تعلق رکھتے ہیں، فرائض کی تکمیل سے نماز ادا ہوجاتی ہے ۔ فقہاء کرام نے کن مواقع پر ہاتھ باندھے رہنا چاہئے اور کن مواقع پر ہاتھ چھوڑ دینا چاہئے، اس سلسلہ میں ایک قاعدہ بیان کیا ہے ، وہ یہ کہ ہر وہ قیام جس میں کوئی ذکر مسنون ہو ہاتھ باندھے رہیں اور جس قیام میں کوئی ذکر مسنون نہ ہو اس میں ہاتھ چھوڑدیں ، ذکر سے مراد ذکر طویل ہے ورنہ تحمید و تسمیع یعنی سمع اللہ لمن حمدہ ، ربنا لک الحمد بھی ذکر ہے ۔ اس کے باوجود قومہ میں ہاتھ باندھنا نہیں ہے۔
… و یضع یمینہ علی شمالہ تحت سرتہ کالقنوت و صلوٰۃ الجنازۃ و یرسل فی قومۃ الرکوع و بین تکبیرات العیدین فالحاصل ان کل قیام فیہ ذکر مسنون ففیہ الوضع و کل قیام لیس کذا ففیہ الارسال (شرح و قایہ جلد اول ص : 144) اس کے حاشیہ 7 میں ہے… فان قلت یخرج عنہ القومۃ لان فیھا ذکر امسنونا وھوالتحمید والتسمیع قلت المراد بالذکر الذکر الطویل …
مذکورہ در سوال صورت میں خاص طور پر امام صاحب کو اور ان کی اقتداء کرنے والوں کو نماز کے ارکان و شرائط مستحبات و آداب کی رعایت رکھتے ہوئے نماز ادا کرنا چاہئے ۔ مذکورہ صورت میں نماز ادا ہوگئی تاہم خلاف استحباب عمل ہوا ہے۔  مصلیوں کا اعتراض صحیح نہیں۔
مصلی کے سامنے آئینہ
سوال :   آج کل مساجد میں قرآن مجید رکھنے کے مقامات پر بغرض حفاظت آئینہ (گلاس) لگائے جارہے ہیں جن میں انسانوں کا عکس دکھائی دیتا ہے ۔ شرعاً ایسے آئینوں کے سامنے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
عبدالغفار، آصف نگر
جواب :   مصلی کے آگے سادہ آئینہ ہو یا پارہ زدہ مصقلہ (گلاس) جس میں اس کا عکس دکھائی دے تو نماز میں اس سے کوئی کراہت لازم نہیں آتی ۔ کیونکہ کراہت کا سبب مصلی کے روبرو اوپر یا دائیں یا بائیں محل تعظیم میں کسی ذی روح کی تصویر کا آویزاں ہونا ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول ص : 107 میں ہے ۔ و یکرہ ان یصلی و بین یدیہ او فوق راسہ او علی یمینہ او علی یسارہ او فی ثوبہ تصاویر۔عکس آئینہ بھی دھوپ کی وجہ زمین یا پانی پر پڑنے والے سایہ کی طرح ایک غیر مرتسم سایہ ہے جو حقیقتاً تصویر نہیں بلکہ وہ ان عکاس شعاعی ہیں جو لوٹ کر اس کے سامنے آنے والے کے چہرے پر پڑتے ہیں جس سے آئینہ میں شباہت مرتسم ہوتی ہے، اس کے روبرو ہونے والا خود اپنے آپ کو اس میں دیکھتا ہے۔ مذکورہ توضیح سے واضح ہے کہ آئینہ ذی روح تصویر کے حکم میں نہیں ۔ اگر اس کو یہ حکم دیا جائے تو گھروں میں جائے عزت و تعظیم میں اس کا آویزاں کرنا ناجائز قرار پاتا جبکہ بالاجماع ایسا نہیں ۔
سفر حج میں ضعیف خاتون کیلئے محرم کا ہونا
سوال :  یہ بات مشہور ہے کہ عورت محرم کے بغیر حج کو نہیں جاسکتی۔ کیا یہ حکم بوڑھی عورت کیلئے بھی ہے، اگر کسی عمر رسیدہ خاتون کا کوئی محرم نہ ہو تو کیا وہ حج کو نہیں جاسکتی؟
ای میل
جواب :  شرعاً عورت کیلئے خواہ وہ جوان ہو یا عمر رسیدہ سفر حج پر روانہ ہونے کیلئے شوہر یا محرم کا ہونا ضروری ہے۔ محرم سے قریبی رشتہ دار مراد ہوتے ہیں جن سے ابدی طور پر رشتہ نکاح حرام ہوتا ہے جیسے باپ ، بیٹا ، بھائی ، بھتیجہ وغیرہ ۔در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد 2 کتاب الحج کے آغاز میں ہے : (فرض مرۃ علی الفور علی مسلم حر مکلف صحیح …مع امن الطریق … (1)  و زوج أو محرم عاقل والمراھق کبالغ غیر مجوسی ولا فاسق…) لامرأۃ حرۃ ولو عجوزا فی سفر ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے منع فرمایا۔ چنانچہ بخاری اور مسلم کی روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لایحل لامرأۃ تؤمن باللہ والیوم الآخر أن تسافر مسیرۃ یوم ولیلۃ الامع ذی رحم محرم۔
ترجمہ : کسی بھی عورت کیلئے جواللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ ایک دن اورا یک رات کی مسافت کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔ نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یخلون رجل با مرأۃ الاومعھا ذو محرم ولاتسافر امرأۃ الامع ذی محرم۔ ترجمہ : کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ رہے، الا یہ کہ اس عورت کے ساتھ اس کا محرم ہو اور کوئی عورت سفر نہ کرے مگر محرم کے ساتھ ہی ایک صحابی رسولؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میری اہلیہ حج کیلئے نکلی ہے اور میں نے فلاں غزوہ میں اپنا نام لکھایا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کرو۔
پس مندرجہ بالا خصوص کی روشنی میں عورت کیلئے خواہ وہ عمر رسیدہ ہی کیوں نہ ہو سفر حج میں محرم کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
جمائی کو روکنے کا مجرب طریقہ
سوال :  میں نے کچھ دن قبل ایک خطیب صاحب سے سنا کہ اگر کسی کو جمائی آئے اور وہ اس وقت انبیاء کا تصور کرے تو اس کی جمائی رک جاتی ہے۔ کیا اس کی کوئی دلیل ہے یا صرف یہ ایک مقولہ ہے؟ نیز اگر کسی کو نماز میں جمائی آئے تو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
محمد قدیرخان، عابڈس
جواب :  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ہر بھلائی اور خیر کی تعلیم دی اور آپ نے ہر ممکنہ حد تک شر و برائی اور نقصان دہ امور سے بھی باخبر کیا ۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت چھوٹی باتوں کی بھی اپنی امت کو تعلیم دی۔ بالعموم لوگ جس کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ انہی میں سے ایک قابل ذکر مسئلہ جمائی کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمائی اور چھینک سے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے۔ ( ان اللہ یحب العطاس)  اور اس روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو حتی المقدور روکے کیونکہ وہ شیطان  کی جانب سے ہے اور جب وہ (جمائی لیتے ہوئے) ’’ھا‘‘ کہتا ہے تو اس سے شیطان خوش ہوتا ہے (بخاری کتاب الادب ، باب ما یستحب من العطاس و مایکرہ من التثاء ب بروایت ابو ھریرہ) ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جب تم سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو حتی المقدور روکے ’’ ھا ھا‘‘ نہ کہے کیونکہ وہ شیطان کی جانب سے ہے وہ اس سے خوش ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ مسلمان کو ہر وقت اللہ کا ذکر کرنا چاہئے اور چھینک جسم میں نشاط اور چستی پیدا کرتی ہے اور جمائی سستی اور تھکاوٹ کی علامت ہے۔ جمائی کی ناپسندیدگی کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان امور سے پرہیز کریں جو جمائی کا سبب ہوتے ہیں۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے : اذا تثاء ب احد کم فلیمسک بیدہ علی فیہ (جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنے ہاتھ منہ پر رکھ کر اس کو روکے)
امام ابن ابی شیبہ نے یزید بن الاصم سے مرسل حدیث نقل کی ہے : ماتثا ء ب النبی صلی اللہ علیہ وسلم قط
یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی جمائی نہیں آئی ۔ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب فتح الباری میں نقل کرتے ہیں۔ جمائی کا نہ آنا نبوت کی خصوصیات میں سے ہے اور خطابی نے سلیمہ بن عبدالملک بن مروان کی سند سے تخریج کی ہے ۔ ’’ما تثاء ب نبی قط‘‘ یعنی کسی نبی کو جمائی نہیں آئی۔
بناء بریں کتب فقہ میں منقول ہے کہ اگر کوئی یہ خیال کرے کہ انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کو جمائی نہیں آتی تھی تو اس کی جمائی روک جائیگی اور امام قدوری نے فرمایا کہ یہ مجرب ہے ۔ ہم نے کئی مرتبہ اس کا تجربہ کیا ہے ۔ ردالمحتار جلد اول کتاب الصلاۃ صفحہ 516 میں ہے : فائدۃ :رأیت فی شرح تحفۃ الملوک المسمی بھدیۃ الصعلوک مانصہ: قال الزاھدی ، الطریق فی دفع التثاء ب : ان یخطر ببالہ ان الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام ماتثاء بوا قط ۔ قال القدوری جربناہ مرارا فوجد ناہ کذلک اھ قلت : و قد جربتہ ایضا فوجدتہ کذا لک۔
اس کتاب کے 695 میں ہے : (والانبیاء محفوظون منہ) قدمنافی آداب الصلاۃ ان اخطار ذلک ببالہ مجرب فی دفع التثاء ب
نماز میں حرکت مخل خشوع ہے اس لئے دورانِ نماز کسی کو جمائی آئے تو وہ ا پنے ہونٹوں کو دانت میں لیکر روکے اور اگر نہ رکے تو اپنے بائیں ہاتھ کی پشت کو اپنے منہ پر رکھے اور اگر وہ قیام کی حالت میں ہو تو کہا گیا کہ سیدھا ہاتھ منہ پر رکھے۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد اول کذب الصلاۃ صفحہ 515 میں ہے: (وامساک فمہ عندالتثاء ب) فائدۃ لدفاع التثاء ب مجرب ولو بأخذ شفتیہ بسنہ (فان لم یقدر غطاہ) ظھر (یدہ) الیسری و قیل بالیمنی لوقائماً والا فیسراہ

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT