Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / رفعت و بلندی کا نام معراج

رفعت و بلندی کا نام معراج

شیخ التفسیر میر لطافت علی نظامی
اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل کی ابتدائی آیت میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ واقعہ ہے ’’واقعہ معراج‘‘۔معراج کا واقعہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان و رفعت، عظمت و بلندی کو ظاہر کرتا ہے اور عظمت و بلندی بھی ایسی کہ کوئی مخلوق خواہ وہ معصوم فرشتے ہی کیوں نہ ہو، اس تک پہنچنا تو دور کی بات ہے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی بلندی عطا فرمائی کہ ہر بلندی اپنے مقام پر رہ گئی اور آپؐ سب بلندیوں کو پار کرتے ہوئے ایسے مقام پر پہنچے کہ ہر بلندی نیچے رہ گئی اور آپؐ جب ساتوں آسمانوں کو پار کرتے ہیں تو سب آسمان اپنی بلندی کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں اور آپؐ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر سدرۃ المنتھیٰ پر پہنچتے ہیں۔ یہ سدرۃ المنتھیٰ وہ بلند مقام ہے کہ جہاں فرشتوں کی پہنچ ختم ہوجاتی ہے بلکہ فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکے لیکن حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بھی آگے نکل جاتے ہیں ۔ پھر آپؐ عرشِ الہٰی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ عرشِ الہٰی جو رب تعالیٰ کی خاص تجلیات کا مرکز ہے جس کی بلندی و عظمت کا یہ عالم ہے کہ کئی فرشتے اس کے پایوں کو تھامے ہوئے رب تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بلند مقام سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور عرشِ معلی بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔ اب یہاں یہ بات پیدا ہوسکتی ہے کہ کیا حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکت عرشِ معلی سے بھی افضل ہے۔ تو معلوم ہونا چاہئے کہ مواہب لدنیہ وغیرہ میں محدثین نے لکھا کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عرشِ معلی سے افضل ہونا تو اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہے بلکہ محدثین نے وضاحت کیا ہیکہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارمبارک کی وہ مٹی جہاں حضور اکرم ﷺ آرام فرمارہے ہیں عرشِ الہٰی سے بھی افضل ہے، تو جب حضورؐ سے مس کی ہوئی مٹی کا یہ عالم ہے تو ذات مصطفی ؐکی بلندی کا کیا عالم ہوگا ۔ چنانچہ محدث دکن حضرت عبداللہ شاہ صاحب قبلہ رحمتہ اللہ علیہ نے امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ کے واسطہ سے ایک روایت بیان کی ہے۔

 

جب حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرشِ الہٰی پر پہنچے تو عرش نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کو پکڑ لیا اور عرض کرنے لگا کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی آپ سے کچھ حصہ برکت کا ملنا چاہئے تاکہ اس سے برکت لیتا رہوں۔ ادھر فرشتوں نے کہا کہ ہم کو بھی آپ سے کچھ حصہ ملنا چاہئے۔ ادھر مؤمنین کی ارواح بھی عرض کرنے لگیں کہ حضور کہیں آپ عرش ہی کہ ہوکر ہم کو نہ بھول جائیں تو ارشاد خداوندی ہوا کہ اے حبیب اپنے نور سے کچھ حصہ عرش کو دیدیجئے تاکہ وہ اس سے برکت لیتا رہے اور سایہ فرشتوں کو دیدیجئے تاکہ وہ اس سے تسلی پاتے رہیں اور چونکہ زمین والوں سے گناہ سرزد ہوتے ہیں تو اپنا جسم مبارک زمین والوں کو دیدیجئے تاکہ وہ عذابِ الہٰی سے محفوظ رہیں کیونکہ ہمارا ارشاد ہے وما کان اﷲ لیعذبھم وانت فیھم کہ آپ کے ہوتے ہوئے عذاب نہیں آ سکتا۔ تو معلوم ہوا کہ حضورﷺ کو کسی سے شرف و بلندی نہیں ملی بلکہ سب چیزوں کو حضوراکرمﷺ ہی بلندی عطا فرمائی کیونکہ آپؐ کی ذات بابرکت تمام کائنات میں سب سے اعلیٰ اور بلند ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ سفرِ معراج میں جس جس مقام پر حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے جاتے گئے اُن اُن مقامات کو بلندی اور شرف حاصل ہوتا گیا۔ مسجد اقصیٰ میں تشریف لے گئے تو مسجد اقصیٰ کو حضورﷺ کے مبارک قدم سے شرف و بلندی ملی۔ چنانچہ بعض روایتوں میں آتا ہیکہ مسجد اقصیٰ کی یہ تمنا اور دعا تھی کہ میری سرزمین پر حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدم پڑیں اور میں آپؐ سے شرف حاصل کروں۔ منجملہ اور وجوہات کے اس وجہ سے بھی آپؐ کو مسجد اقصیٰ لے جایا گیا تاکہ مسجد اقصیٰ کی دعا اور آرزو پوری ہو۔ اسی طرح حضرت جبرئیل علیہ السلام نے سدرۃ المنتھیٰ پر حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیض و برکت حاصل کی ۔ محدث دکن رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا کہ جب حضورؐسدرۃ المنتھیٰ پہنچے تو وہاں آپ نے دیکھا کہ ایک کرسی رکھی ہوئی ہے جبرئیل علیہ السلام نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کرسی پر بٹھایا اور معروضہ کئے کہ یا رسول اللہ یہ میرا مقام ہے آپ اس مقام پر دو رکعت نماز پڑھ لیجئے تاکہ میں اس سے ہمیشہ برکت لیتا رہوں تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بھی یہ آرزو پوری کی۔ غرض سب حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیض و بلندی لے رہے ہیں۔ ہاں البتہ ایک مقام ایسا تھا جہاں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رفعت و بلندی حاصل ہوئی وہ مقام لامکاں تھا جہاں اللہ تعالیٰ نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ہمکلامی اور اپنا قرب اور اپنے خاص دیدار سے سرفراز فرما کر وہ اعزاز وہ بلندی عطا فرمائی کہ کسی اور کو یہ بلندی حاصل نہ ہوسکی۔ اگرچہ کہ موسیٰ علیہ السلام سے بھی اللہ نے ہمکلامی فرمائی لیکن حجابات اور پردوں کے درمیان یہاں تک کہ صرف ایک رب کی تجلی کا ظہور ہوا تو موسیٰ علیہ السلام بیہوش ہوگئے اور یہاں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے حجاب و بے پردہ کلام بھی فرمایا اور اپنا دیدار بھی کرایا تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ مازاغ البصر و ما طغیٰ کہ نہ نگاہ جھپکی نہ دیدارالہٰی سے ہٹی۔ اس لئے کہ موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ ہیں اور حضور حبیب اللہ ہیں۔ وہ طالب تھے یہ مطلوب۔ وہ دیدار کے طلب کرنے والے تھے اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود رب تعالیٰ نے بلا کر اپنا دیدار کروایا۔ وہ محب تھے یہ محبوب ہیں۔ وہ قاصد تھے یہ مقصود ہیں۔ وہ حامد تھے یہ محمود ہیں۔ وہ رب کی حمد و ثناء کرتے تھے یہ وہ ہیں کہ جن کی رب نے تعریف کی ہے۔ وہ رب کی رضا اور خوشنودی چاہتے تھے یہ وہ ہیں کہ رب جن کی رضا اور خوشنودی چاہتا ہے ۔ ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ کہ اے حبیب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ وہ ساجد تھے یہ مسجود ملائکہ کہ اللہ نے ان ہی کی وجہ سے فرشتوں سے آدم کو سجدہ کروایا اور موسیٰ علیہ السلام سے کیا گفتگو ہوئی اس کو ظاہر فرمادیا مگر محبوب سے جو گفتگو اور رازونیاز ہوا اس کو اس طرح پردہ میں رکھا کہ فاوحیٰ الیٰ عبدہ مااوحیٰکہ جو کہنا تھا رب نے اپنے بندے سے کہہ دیا کیونکہ محب اور محبوب کے درمیان رازونیاز کو سب پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ اب جو کچھ باتیں کہنے کی تھی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو امت پر ظاہر فرمایا منجملہ ان کے ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اے حبیب جو تمہارا ہوگا وہ ہمارا ہوگا اور جو تمہارا نہیں وہ ہمارا بھی نہیں۔غرض یہ کہ جہاں اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدارِ خاص اور ہمکلامی سے سرفراز فرمایا وہیں آپ کی امت کیلئے معراج کا تحفہ عطا فرمایا اور وہ تحفہ امت کیلئے ’’نماز‘‘ ہے۔ اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا الصلوٰۃ معراج المؤمنین نماز مؤمنین کی معراج ہے۔ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ جس طرح مجھے معراج میں رب کا قرب اور ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا اسی طرح میری امت کیلئے نماز قربِ الہٰی اور اللہ سے ہمکلامی کا ذریعہ ہے۔ آج امت مسلمہ کی پستی اور ذلت کا سبب یہی ہیکہ امت اس اہم ترین فریضہ نماز سے کوتاہی اور غفلت میں پڑی ہے۔ اگر آج بھی یہ امت اس فریضہ نماز کی پابند ہوجائے تو پھر وہ دن دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی کھوئی ہوئی عزت شان و عظمت اور بلندی کو دوبارہ لوٹادے۔

TOPPOPULARRECENT