Sunday , May 28 2017
Home / Top Stories / رقم نکالنے کی حد پر حکومت اپنے وعدہ کی پابندی کرے : سپریم کورٹ

رقم نکالنے کی حد پر حکومت اپنے وعدہ کی پابندی کرے : سپریم کورٹ

ہفتہ میں 24000 روپئے نکالنے کی اجازت کے باوجود عوام کو صرف 2000 یا 8000 روپئے کی اجرائی

نئی دہلی ۔ /10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ نوٹ بندی محض کسی قیاس کی پیداوار تھی اور اصرار کیا کہ اگر عوام کو بینکوں سے اپنی جائز رقم سے ہر ہفتہ 24000 روپئے نکالنے کا یقین دلایا گیا تھا تو پھر حکومت کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہئیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئیے کہ اس ضمن میں ایک موثر نظام موجود ہے ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے مرکز کی طرف سے رجوع ہونے والے اٹارنی جنرل مکل روہتگی سے کہا کہ ’’آپ خود نے کہا تھا کہ ایک ہفتہ میں 24000 روپئے نکالے جاسکتے ہیں ۔ یہ وہی حد ہے جس کا آپ نے تعین کیا تھا ۔ ایک مرتبہ جب آپ عوام سے کہہ چکے کہ وہ 24000 روپئے نکال سکتے ہیں تو اس وعدہ کی پابندی کی جانی چاہئیے ‘‘ ۔اس بنچ نے جس میں جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ بھی شامل تھے  نوٹوں کی منسوخی کی اسکیم کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کئے جانے والی مفاد عامہ کی مختلف درخواستوں کی سماعت کررہی تھی ۔ بنچ نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد اگر نقدی کی قلت ہے تو حکومت کو چاہئیے کہ وہ رقم نکالنے کی کم حد مقرر کرے ۔ چیف جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ ’’عوام 24000 ہزار روپئے کے لئے بینکوں کو جارہے ہیں جہاں انہیں 2000 روپئے یا 5000 روپئے یا 8000 روپئے دیئے جارہے ہیں ۔ کم سے کم  10000 روپئے کی ایک حد مقرر کیجئے ‘‘۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے کہا کہ ’’بینکس کہہ رہی ہیں کہ ان کے پاس نقدی نہیں ہے ۔ یہ صریح اعتماد شکنی ہے ‘‘ ۔

سپریم کورٹ نے ایک مرحلہ پر روہتگی سے دریافت کیا کہ نوٹوں کی منسوخی آیا ایک منصوبہ بند اقدام تھا یا محض قیاس و خیال کی بنیاد پر اٹھایا گیا قدم تھا ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آیا یہ بھی سوچا گیا تھا کہ کتنی رقم آئے گی ۔ اور آپ کو کتنی رقم طبع کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس پر روہتگی نے جواب دیا کہ ’’بلاشبہ ایک منصوبہ بنایا گیا تھا ۔ ہمیں 10 تا 11 لاکھ کروڑ ر وپئے کی مالیاتی نظام میں واپسی کی توقع تھی لیکن یہ پورا نہیں ہوسکا ۔ نوٹوں کی منسوخی کے بغیر ہم کالے دھن کا خاتمہ ، جعلی نوٹوں کی ضبطی اور دہشت گردی کی سرکوبی نہیں کرسکتے ۔ اس اقدام میں چند دشواریاں ضرور حائل ہوتی رہیںگی ‘‘ ۔ روہتگی نے کہا کہ حکومت محض خاموش نہیں بیٹھی ہے ۔ عوامی مشکلات کو دور کرنے کیلئے مختلف ڈیجیٹل ترغیبات نافذ کی گئی ہیں ۔ انہوں نے نوٹوں کی منسوخی کے بعد 91 افراد کی اموات کی تردید کی اور کہا کہ یہ سیاسی پروپگنڈہ ہے ۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کوآپریٹیو سوسائیٹیوں اور وکلاء کی طرف سے مفاد عامہ کی درخواستیں دائر کرنے کے پس پردہ اصل محرکات پر بھی سوال اٹھایا ۔ روہتگی نے دعویٰ کیا کہ 91 افراد اس وقت فوت نہیں ہوئے جب لوگوں کے پاس رقم نہیں تھی ۔سینئر ایڈوکیٹ پی چدمبرم نے 32 درخواست گذاروں کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ دہلی جیسے شہر میں ایک خاندان ہفتہ میں محض  2000 روپئے کی رقم کے ساتھ آیا کس طرح اپنی زندگی گزارسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رقومات کی دستبرداری کے بارے میں یہ بینک کے اپنے الگ قواعد ہیں  ۔ تاہم روہتگی نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے اس کا جواب دیا اور کہا کہ ایک خاندان کا ہرایک رکن ہفتہ میں 24000 روپئے نکال سکتا ہے تو کسی خاندان کے استعمال کیلئے ہفتہ میں 24000 روپئے سے بڑھ کر اور کتنی رقم چاہئیے ۔

 

سپریم کورٹ ججس کی 3 رکنی بنچ پر 10 سوالات ریکارڈ

چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیر قیادت ججس کی 3 رکنی بنچ نے 10 سوالات کو ریکارڈ کیا ہے جس میں فریقین نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سپریم کورٹ اس پر فیصلہ صادر کرے ۔ بنچ نے کہا کہ اس پر بحث ہوگی ۔ کرنسی منسوخی پر داخل کردہ درخواستوں کو بڑی بنچ سے رجوع کرنے کے لیے تجویز رکھی گئی ہے ؟

1) آیا 8 نومبر کو کرنسی کی منسوخی کا اعلان آر بی ائی قانون کے دفعہ 26(2) اور دیگر دفعات کے لیے الٹرا وائرس ہے ؟
2 ) آیا دفعہ 26(2) از خود غیر معمولی اختیارات کے باعث متاثر ہوگا اور یہ کہ یہ دستور کے لیے الٹرا وائرس ہے ؟
3 ) اگر 8 نومبر کا اعلامیہ آرٹیکلس 14 اور 19 کی افادیت پر ضرب پہونچائے تو کیا ہوگا ؟
4 ) آیا فنڈس نکالنے پر عائد کردہ پابندی آرٹیکل 14 ، 19 کے مغائر ہے ؟
5 ) کیا 8 نومبر کے اعلامیہ پر عمل آوری غیر واجبی طور پر طریقہ کی وجہ سے متاثر ہوگی ؟
6 ) آیا 8 نومبر کا اعلامیہ اور اس کے بعد کے اقدامات آرٹیکل 300A (حق ملکیت ) کے مغائر ہیں ؟
7 ) کیا رقومات کی تبدیلی ، ڈپازٹ اور نکالنے کے عمل سے ڈسٹرکٹ سنٹرل کوآپریٹیو بینکس کو دور رکھنا امتیازی سلوک مانا جائے گا ؟
8 ) مالیاتی / معاشی پالیسی کے معاملوں میں عدلیہ کے جائزہ کی کیا گنجائش ہے ؟
9 ) کیا کرنسی منسوخی صرف پارلیمانی آئین کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتی ہے؟
10 ) آیا آرٹیکل 32 کے تحت مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے داخل کردہ رٹ درخواستیں قابل غور ہیں ؟

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT