Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / رمضان المبارک کیسے گزاریں ؟

رمضان المبارک کیسے گزاریں ؟

مولانا ابو حمزہ

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن اتارا گیا ، اس میں لوگوں کی ہدایت کے لئے واضح احکامات ہیں‘‘ ۔ (البقرہ)

جب کوئی شخص لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا اقرار قلب و زبان سے کرلیتا ہے تو اس کی زندگی کی ہر سانس اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو جاتی ہے ۔ دن ہو یا رات ، جلوت ہو یا خلوت ، گرمی ہو یا سردی ، میدان ہو یا پہاڑ ، تنگدستی ہو یا خوشحالی ، انفرادیت ہو یا اجتماعیت ، مسلمان کا ہر قدم ، ہر عمل ، ہر بات اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کی متلاشی ہوتی ہے اور اللہ تعالی کی رحمت و شفقت کا بحر بیکراں ہر وقت بندے کو اپنی آغوش میں سموئے رہنے کا خواہاں ہوتا ہے ۔ دنیا میں مسلمان اس گواہی کی بنیاد پر فوز و فلاح حاصل کرتا ہے اور آخرت میں بھی اسی گواہی کی بنیاد پر اپنے اللہ کی جنتوں کا وارث بنتا ہے ۔ تاہم قرآن و حدیث کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالی نے اپنے کچھ فرشتوں کو دیگر فرشتوں پر فضیلت دی ہے ، جیسے جبرئیل علیہ السلام کو تمام فرشتوں پر فضیلت ہے اور کچھ انبیاء کو دیگر انبیاء پر فضیلت دی ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سال کے بارہ مہینوں میں سے کچھ مہینوں کو دوسروں پر فضیلت دی ہے ، جیسے حرمت کے مہینے یا حج کے مہینے ہیں  لیکن سب سے افضل مہینہ رمضان ہے ، کیونکہ اس میں قرآن نازل کیا گیا ہے اور اس میں شب قدر ہے ۔
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالی فرماتا ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے ، لیکن روزہ میرے لئے ہے ، میں ہی اس کا اجر دوں گا‘‘  (بخاری و مسلم) یعنی مسلمان کو اس کے ہر عمل صالح کا جو بدلہ ملنا تھا وہ قرآن میں ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں بیان کردیا ۔ عموماً ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے ۔ بعض اعمال کا بدلہ سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے ، لیکن روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا یہ خالصتاً میرے لئے ہوتا ہے اور میں خود اس کا اجر دوں گا ۔ چوں کہ روزہ دار کی قلبی کیفیات ، خلوص ، تقوی ، ضبط کو صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے ، اسی لئے اس کا اجر بھی اللہ تعالی نے محدود نہیں کیا ، بلکہ مسلمانوں کو رغبت دلانے والا انداز اختیار کیا اور بعض محدثین کے نزدیک معنی یوں ہے کہ اس کا اجر میں خود ہوں ۔ واللہ اعلم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک سے بھی زیادہ محبوب ہے‘‘۔ صبح صادق سے بھوکا پیاسا رہنے کے سبب سہ پہر کا ذائقہ کسیلا ہو جانے سے جس بو کا احساس ہوتا ہے ، عربی میں اس کو ’’خلوف‘‘ کہتے ہیں ۔ اللہ تعالی کو یہ بو مشک سے بھی زیادہ محبوب ہے (بخاری ، کتاب اللباس)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’روزہ ڈھال ہے‘‘ ۔
(بخاری ،کتاب الصوم)
روزے کی ابتداء صبح صادق سے ہوتی ہے اور اس کی انتہاء غروب شمس کے ساتھ ہوتی ہے ، اللہ تعالی نے امت محمدیہ پر خصوصی رحمت فرمائی کہ انھیں صبح صادق تک کھانے کی اجازت دی ، حالانکہ گزشتہ امتوں کو سحری کی اجازت نہیں تھی ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ’’کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح رات سے علحدہ ہو جائے‘‘ (البقرہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم سحری کرو ، اس لئے کہ سحری میں برکت ہے‘‘ (بخاری) ایک روایت میں ہے کہ ’’تم سحری کھاکر یہود کی مخالفت کیا کرو‘‘ ۔ (نسائی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب تک مسلمان روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے اور سحری تاخیر سے کھاتے رہیں گے ، ان میں خیر باقی رہے گی‘‘ ۔ (بخاری ، ابوداؤد ، ابن ماجہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ افطار (جب کہ افطار کا وقت ہو جائے) میں جلدی کریں گے‘‘ ۔ (بخاری و مسلم)
ماہ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی اور نفیس ہے ، دن ہو یا رات ، مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے پالن ہار اللہ رب العزت کے آگے آنسو بہائیں ، اپنے پچھلے گناہوں اور مجرمانہ غفلتوں پر نادم ہو جائیں اور مستقبل کے لئے اپنے اللہ سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق طلب کریں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور جہالت (کے کام) نہیں چھوڑتا ، اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے‘‘ (بخاری)

TOPPOPULARRECENT