Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / رمضان سے قبل حالات ابتر ، پرانے شہر کے ایک علاقہ میں 21 گھنٹے برقی سربراہی منقطع

رمضان سے قبل حالات ابتر ، پرانے شہر کے ایک علاقہ میں 21 گھنٹے برقی سربراہی منقطع

اعلی عہدیداروں کی انتہائی لا پرواہی ۔ حکام بالا کو گمراہ کن رپورٹ ۔ ایف او سی ملازم برقی شاک سے زخمی
حیدرآباد 3 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ریاست تلنگانہ اپنے قیام کے دو سال کا جشن منا رہی ہے ۔ حیدرآباد ریاست کا دارالحکومت ہے اور یہاں کسی مقام پر برقی سربراہی منقطع ہوجائے تو اس کی بحالی کیلئے 21 گھنٹے کا طویل وقت درکار ہوتا ہے ۔ ساری رات اور پھر سارا دن عوام کی بڑی تعداد پریشانی اور مشکلات کا شکار ہوتی ہے اور محکمہ برقی کے اعلی عہدیدار اپنے اعلی حکام کو اس تعلق سے گمراہ کن اطلاع دیتے ہوئے صارفین کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ پرانے شہر کے علاقہ یاقوت پورہ بڑا بازار میں رین بازار پولیس اسٹیشن روڈ پر اکثر و بیشتر برقی منقطع ہونے کی شکایت ہے ۔ یہاں یومیہ دو تا چار گھنٹے برقی کٹوتی معمول کی بات ہے ۔ جب متعلقہ حکام سے شکایت کی جاتی ہے تو اوور لوڈ کا بہانہ کیا جاتا ہے تاہم اس کا کوئی متبادل فراہم نہیں کیا جاتا ۔ کل جمعرات کی رات  8 بجے یہاں برقی منقطع ہوگئی ۔ رات گیارہ بجے محکمہ کے کنٹراکٹ ملازمین جب ٹرانسفارمر پر کام کر رہے تھے کہ اچانک برقی بحال کردی گئی جس کی زد میں آکر ایک ملازم ایف او سی محمد صدیق شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری یشودھا ہاسپٹل ملک پیٹ منتقل کیا گیا جہاں وہ آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ تاہم اعلی حکام برقی اس مسئلہ کو چھپانے اپنے حکام بالا کو گمراہ کرتے رہے ۔ ساری رات برقی بحال نہیں ہوئی اور صبح سے جب عہدیداروں کو فون کیا گیا تو پہلے تو درجنوں فون کالس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور جب جواب دیا بھی گیا تو اسے فون کرنے والے کا نجی معاملہ قرار دیا گیا ۔ یہ حقیقت قبول ہی نہیں کی گئی کہ سارے علاقہ میں برقی منقطع ہے ۔ حالانکہ اس علاقہ میں رین بازار پولیس اسٹیشن بھی واقع ہے اور پولیس اسٹیشن میں بھی برقی 21 گھنٹوں بعد جمعہ کی شام 5 بجے کے بعد بحال کی گئی ۔ ابتداء میں عہدیداروں نے اسے اپنے دائرہ کار سے باہر قرار دیا اور کسی دوسرے سے رابطہ کرنے کو کہا گیا ۔ جب ایس ای ساوتھ سرکل سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سیدھا جواب دیدیا کہ وہ اس طرح کی معمولی شکایتوں کا ازالہ کرنے کیلئے نہیں ہیں کسی دوسرے سے رابطہ کیا جائے ۔ ڈی اے آسمان گڑھ کو درجنوں فون کئے گئے انہوںنے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اے ڈی ای سنتوش نگر بھی کئی فون کالس کے بعد یہی کہتے رہے کہ کام ہو رہا ہے جبکہ وہ خود اور دوسرا عملہ یشودھا ہاسپٹل پر موجود تھے اور کوئی کام نہیں ہو رہا تھا ۔ جب تنگ آکر ڈائرکٹر ٹی ایس پی ڈی سی ایل کو مطلع کیا گیا اور انہوں نے معلومات حاصل کیں تو انہیں گمراہ کیا گیا کہ برقی منقطع نہیں ہے اور یہ صرف ایک یا دو افراد کا نجی مسئلہ ہے ۔ جب مقامی افراد اور صحافیوں نے انہیں حقیقی صورتحال سے واقف کروایا اور پولیس اسٹیشن سے بھی معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ عہدیدار کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے انداز میں کام پر رجوع ہوئے اور شام 5 بجے کے بعد برقی بحال کی گئی ۔ ایسے وقت میں جبکہ ماہ رمضان المبارک کی آمد ہے محکمہ برقی کے حکام کا اس طرح کا گمراہ کن رویہ مسائل میں اضافہ کر رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات کا ادعا کیا جا رہا ہے لیکن یہ عہدیدار صورتحال کو بہتر بنانے کی بجائے اس کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ماہ رمضان میں اگر اسی طرح کا رویہ رہا اور مسائل کو حل نہیں کیا گیا بلکہ اپنے ہی اعلی حکام کو گمراہ کیا گیا تو عوام کو عبادتوں میں خلل کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ سحری اور افطار کے وقت بھی بے تحاشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ پہلے تو یہی شکایت ہوا کرتی تھی کہ جب برقی منقطع ہوجائے تو عوامی شکایات کی سماعت تک کرنے والا کوئی نہیں ہوتا لیکن اب خود اعلی عہدیدار اپنے ہی محکمہ کے اعلی حکام کو گمراہ کن اطلاعات دیتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسلسل برقی کٹوتی اور متعلقہ عملہ کی لا پرواہی کی شکایات  حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ ‘ چندرائن گٹہ ‘ چارمینار ‘ بہادرپورہ ‘ کاروان اور ملک پیٹ میںعام ہوگئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT