Monday , June 26 2017
Home / مضامین / رمضان عمرہ و زیارۃ

رمضان عمرہ و زیارۃ

 

کے این واصف
ماہ رمضان کی پہلی تاریخ سے ہی حرمین شریفین میں اتنا ہجوم ہوجاتا ہے کہ ’’تل دھرنے جگہ نہیں‘‘ والی کہاوت صادق آتی ہے ۔ یہی حال کبھی موسم حج میں بھی ہوا کرتا تھا لیکن کئی برس کی کوششوں نے رنگ لایا اور پچھلے سال حج انتظامیہ کے پلان کے مطابق ہی حجاج کی تعداد رہی اور کئی برس بعد حجاج نے بڑے اطمینان و مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ مناسک ادا کئے ۔ حج پر آنے کی اجازت نامہ کی بڑی تفتیش ہوتی ہے ۔ ا س لئے پچھلے موسم حج میں تعداد پر کنٹرول کیا جاسکا لیکن ماہ رمضان میں عمرہ کرنے والوں پراجازت حاصل کرنا لازم نہیں ہوتا (مقامی لوگوں کیلئے) جس کی وجہ سے حرمین شریفین میں گنجائش سے کہیں ز یادہ معتمرین و زائرین حرمین میں حاضر ہوتے ہیں ۔ عمرہ اور روضہ اقدس کی زیارت ایک سعادت ہے۔ اس سے کسی کو روکا بھی نہیں جاسکتا نہ روکا جانا چاہئے لیکن مقامات مقدسہ میں زائرین و معتمرین کو سمونے کی ایک حد ہوتی ہے اور اس سے زیادہ افراد کے یہاں جمع ہونے سے ظاہر ہے لوگ اپنی عبادت کے خشوع و خضوع سے محروم ہوجائیں گے۔ اب ظاہر لوگ یہاں صرف قدم رکھ کر صرف اپنی حاضری درج کرانے تو نہیں آتے یا پھر دنیا پر یہ ظاہر کرنے نہیں آتے کہ وہ حرمین شریفین پر آئے ہیں بلکہ وہ دور دراز مقامات سے ایک بڑی رقم خرچ کر کے یہاں آتے ہیں تو پھر انہیں یہاں آنے کا مقصد بھی حاصل ہونا چاہئے ۔ یعنی وہ اطمینان کے ساتھ مناسک ادا کرسکیں ۔ سکون کے ساتھ اپنے خالق کے آگے اپنے معروضات پیش کرسکیں، سجدہ ریز ہوکر اپنے رب سے باتیں کرسکیں لیکن یہاں اطمینان سے بیٹھنے کھڑے ہونے کی جگہ میسر نہ ہو، ہجوم ایسا کہ دھکم پیل کا سا معاملہ چل رہا ہو تو ایسی صورت میں مناسک کی ادائیگی اور عبادت میں خشوع خصوع کہاں سے آئے گا اور جب یہ نہ ہو تو کسی کا ایک کثیر رقم خرچ کرنا طویل مسافت طئے کرنا یہ سب بے معنی ہوکر رہ جائے گا ۔ اب اس کا حل یہی ہے کہ لوگ چھوٹے چھوٹے وقفہ سے یا ہر سال رمضان میں عمرہ ادا کرنے کا ارادہ نہ کریں اور خصوصاً مملکت سعودی عرب میں ملازمتوں کے سلسلے میں مقیم غیر ملکی حضرات جن کی تعداد یہاں لاکھوں میں ہے ، وہ بار بار اور خصوصاً ماہ رمضان میں بار بار حرمین شریفین کا سفر نہ کریں تاکہ دور دراز کے ممالک سے زندگی میں ایک بار رمضان میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے ارادے سے جویہاں حاضر ہوتے ہیں، انہیں خشوع و خضوع کے ساتھ مناسک ادا کرنے اور عبادتوں کا موقع میسر آئے ۔ بار بار عمرہ پر آنے والوں کا ادعاء ہے کہ وہ یہاں آکر اطمینان قلب اور روحانی سکون پاتے ہیں۔ یہ مقامات ہیں ہی ایسے۔ مگر کیا ہمیں اپنے قلبی سکون کی خاطر دوسروں کے سکون کو نظر انداز کرنا چاہئے ۔ اپنے ہم نفسوں کا خیال رکھنا ہر انسان پر فرض ہے ۔ اس جذبہ کو پیش نظر رکھ کر سفر عمرہ کا ارادہ کرنا چاہئے ۔

حرمین شریفین میں مہمانان رب العزت کیلئے سہولتوں میں اضافے اور گنجائش میں توسیع حکومت سعودی عرب کی جانب سے جاری رہتی ہے۔اسی ہفتہ نائب گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ عبداللہ بن بندر نے مسجدالحرام کا دورہ کر کے تیسری توسیع کی تفصیلات کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہاکہ حرم شریف کی نئی توسیع مکمل ہونے پر 1.85 ملین نمازیوں کیلئے عبادت کی گنجائش پیدا ہوجائے گی۔ انہوں نے اس ضمن میں صفا اور مروہ کے علاقے کو ماہ مبارک کے دوران معتمرین کیلئے مختص کرنے ، مطاف کو عمرہ کرنے والوں کیلئے مخصوص کرنے جزول انڈر پاس کو نمازیوں و معتمرین کیلئے کھولنے سے ہونے والے فوائد کی بابت یقین حاصل کیا ۔ نئی سعودی توسیع سے مسجدالحرام کا تعمیراتی رقبہ 47.1 ملین مربع میٹر کا ہوجائے گا۔ اس میں 12 لاکھ 50 ہزار نمازی عبادت کرسکیں گے۔ توسیعی حصے میں 3 لاکھ افراد کی گنجائش ہوگی ۔

مملکت میں ماہ رمضان میں ہر مسجد کے باہر ایک خصوصی خیمہ نصب کیا جاتا ہے جس میں بڑی مقدار میں افطار اور کھانے کا انتظام کیاجاتا ہے ۔ ہر خیمہ میں سینکڑوں افراد افطار کرتے ہیں۔ ریاض میں ایک صاحب خیر اور انڈین کمیونٹی کی معروف شخصیت ہیں میر مظفر علی جن کا تعلق حیدرآباد سے جو ہر روز ڈھائی سو افراد کیلئے افطار کا اہتمام کرتے ہیں جس میں ہر روز حیدرآبادی بریانی پیش کی جاتی ہے اور یہ افطار سنٹر ریاض میں کافی مقبول ہے ۔ دور دراز علاقوں سے ہندوستانی اور دیگر ممالک کے تارکین وطن یہاں بڑے شوق سے حیدرآبادی بریانی کھانے آتے ہیں۔ مظفر صاحب کی جانب سے افطار کا یہ سلسلہ پچھلے کئی برس سے جاری ہے ۔ اسی طرح حرمین شریفین میں سعودی حضرات افطار کے بڑے بڑے دسترخوان لگاتے ہیں جس سے تمام ضیوف الرحمان مستفید ہوتے ہیں۔ مگر پچھلے ہفتہ مقامی اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ ضیوف الرحمن کے حلقوں میں افطار دسترخوان کی تصاویر لیکر سوشیل میڈیا پر ڈالنے کا رجحان بڑھ گیا ہے ۔ اب تک سماجی تقاریب کی تصاویر سوشیل میڈیا پر جاری کی جارہی تھیں۔ روز بروز ایمان افروز مناظر کی تصاویر بھی سوشیل میڈیا کا راستہ اپنانے لگیں۔ مسجد الحرام میں حاضری ، مسجد نبوی شریف میں افطار دسترخوان کی انفرادیت اور ان مواقع پر اسلامی اخوت کے روح پرور مناظر کی تصاویر کثرت سے سوشیل میڈیا پر دیکھی جانے لگی ہیں۔ لوگ مسجد نبوی اور حرم مکی میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ فوٹو بناکر حرمین شریفین میں اپنی حاضری کو یادگار بناتے ہیں بلکہ ان تصاویر کو فوری طور پر سوشیل میڈیا پر بھی ڈال دیتے ہیں اور whatsapp پر آنے والی ہر تصویر یا خبر کو بنا سوچے سمجھے فارورڈ کرنے والے اسے آگے بھی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک اور بات یہ کہ ان مقدس مقامات کی حاضری کے آداب سے وقفیت حاصل کئے بغیر لوگ یہاں آجاتے ہیں۔ اپنی نادانیوں اور لاپرواہی سے خود گنہگار ہوتے ہیںاور آگہی رکھنے والے باادب زائرین کو حیرانی میں مبتلا کرتے ہیں۔ ان غیر ملکیوں میں وہ بھی شامل ہیں جو صرف عمرہ و زیارت کی خاطر اپنے اپنے ملکوں سے مقامات مقدسہ آتے ہیںاور یہاں ان کی بھی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جو مملکت سعودی عرب میں برسرکار ہیں اور بار بار عمرہ و زیارت مدینہ منورہ کی سعادت حاصل کرنے حرمین شریفین آتے ہیں ۔ حرم مکی میں کچھ دیگر باتوں کے علاوہ جو بات ہمیں سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے ، وہ زائرین کا حجر اسود کا بوسہ لینے کیلئے دھکم پیل کرنا ہے ۔ ہمیں یہ بات سوچ کر ہی اپنے آپ میں شرم سی محسوس ہوتی ہے کہ کیا خانہ کعبہ میں طواف بیت اللہ کرنے اور حجر اسود کو بوسہ دینے والوں کو منظم یا کنٹرول کرنے کیلئے پولیس اہلکار متعین کیا جانا چاہئے ؟ ہم مکہ مکرمہ میں ضیوف الرحمان کی حیثیت میں ہیں اور کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور حجر اسود کو بوسہ دینے کے مقدس عمل کی کوشش کررہے ہیں ، اس مقام پر پہنچ کر اہل ایمان خوف خدا وندی سے لرزہ براندام ہوجاتے ہیں کیونکہ اول تو یہ بیت اللہ ہے ، دوسرے یہ کہ حجر اسود جسے آقائے دوجہاں نبی رحمت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا تھا اور ہم اس حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان اعمال کی انجام دہی کے وقت اگر ہمارے اندر خوف خدا نہیں ، احترام کعبہ نہیں اور حجر اسود کو بوسہ دینے کا سلیقہ اور اس کے تقدس کا خیال نہیں تو کیا فائدہ ۔ کیاہمارے ذہن میں کبھی یہ بات آتی ہے کہ خانہ کعبہ میں مناسک کی ادائیگی میں ہم کس قدر نازیبا اور گستاخانہ عمل اور رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اپنا طواف جلداز جلد مکمل کرنے اور حجر اسود کا بوسہ لینے میں ہم کس قدر خود غرض ہوجاتے ہیں کہ ہم وہاں موجود عورتوں ، ضعیفوں اور اپنے کمزور ہم نفسوں کا خیال کئے بغیر صرف اپنا طواف اور حجر اسود کے بوسہ کیلئے اسلامی اقدار اور اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جبکہ ہمیں یہاں بے حد عجز و انکساری کا نمونہ بنے رہنا چاہئے ۔

دوسری طرف سعادت زیارت مسجد نبویؐ حاصل کرنے والوں نے دیکھی ہوگا کہ لوگ مسجد میں بیٹھے مسلسل اپنے موبائیل فون پر ویڈیو نکالتے اور تصویریں بناتے رہتے ہیں ۔ حضرات یہ سچ ہے کہ ہر شخص کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ حرمین شریفین میں اپنی حاضری کو یادگار کے طور پر اپنے کیمرے میں قید کرے۔ مگر یہ کام وہ لوگ ادائیگی مناسک اور زیارت سے فارغ ہوکر حرمین کے باہر جاکر بطور یادگار حرمین کو Back Ground میں رکھکر دوچار تصویریں بنالیں نہ کہ خانہ کعبہ کے طواف کے دوران ،روضہ اقدس پر سلام عرض کرنے کے موقع پر مسلسل ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کرتے رہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے اور ہمارے سینوں کو خوف خدا سے بھردے۔آمین

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT