Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / رمضان میں تین روز کا اعتکاف

رمضان میں تین روز کا اعتکاف

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں رمضان میں صرف تین روز کا اعتکاف ہوتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کافی ہے، جبکہ زید کہتا ہے کہ اعتکاف دس دن کا کرنا ہے ورنہ تمام محلہ کے لوگ گنہگار ہوں گے۔ شرعی حکم کیا ہے بیان کیجئے؟
جواب :  رمضان المبارک کے آخری دہے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایۃ ہے۔ محلہ کی مسجد میں مکمل آخری دہے میں کوئی نہ کوئی اعتکاف رکھنا چاہئے ورنہ سب گنہگار ہوںگے۔ الدرالمختد جلد ۲ باب الاعتکاف ص ۱۴۱ میں ہے : (وسنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان) ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان و غیرہ ۔ اور ردالمحتار میں ہے : قولہ (ای سنۃ کفایۃ) نظیرھا اقامۃ التراویح بالجماعۃ ۔ فاذ اقام بھا البعض مسقط الطلب عین الباقین ۔
مسجد میں کھانا اور سونا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں کھانا پینا بستر کر کے سونا سامان کے ساتھ کئی دن تک قیام کرنا کیا ایسا کرسکتے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے جواب مرحمت فرمائیے ؟
جواب :  مسجد میں قیام ، کھانا پینا ، سونا صرف معتکف کے لئے جائز ہے۔ اگر کوئی مسافر مسجد میں نفل اعتکاف کی نیت سے ٹھہرے تو اس کے لئے یہ امور جائز ہیں۔ مسجد میں کئی دن قیام کے لئے (غیر رمضان میں ہو تو) متولی یا مسجد کی انتظامی کمیٹی کی ا جازت ضروری ہے کیونکہ مسجد کے مال کی حفاظت کے لئے مسجد کو بند کرنا یا نگرانکار مقرر کرنا پڑتا ہے، یہ امور انتظامی کمیٹی یا متولی کے ذمہ ہیں۔
وظیفہ کی رقم لڑکی کے نام جمع کرنے پر زکوٰۃ کا حکم
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
۱۔ زید کو سبکدوشی کے بعد گرایجویٹی اور وظیفہ فروختگی کا معاوضہ حاصل ہوا۔ جس پر ایک سال گزرچکا ہے ۔ کیا اس رقم پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی ۔
۲۔کیا اس رقم سے لڑکی کی شادی کیلئے بینک میں کچھ رقم جمع کردی گئی ہے۔ کیا اس رقم پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی ؟
جواب :  ۱۔ وظیفہ کے بعد گریجویٹی اور وظیفہ فروختگی سے حاصل شدہ رقم پر ایک سال گزرنے کی بناء زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
۲۔  اس رقم سے لڑکی کی شادی کے لئے بینک میں رقم رکھی جائے اور لڑکی کو اس رقم کا مالک بنادیا جائے اور لڑکی سن بلوغ کو پہنچ چکی ہے تو بعد ایک سال اس پر لڑکی کو زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے ۔ اگر وہ رقم زید کی لڑکی کے نام پر ہو لیکن قابض زید ہی ہو تو زید پر زکوٰۃ لازم ہے اور اگر زید نے لڑکی کو مکمل معہ قبضہ مالک بنادیا ہے وہ سن بلوغ کو نہیں پہنچی ہے تو کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
اپنے سگے بھائی کو زکوۃ دینے کا حکم
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے بھائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں، زید پر زکوٰۃ واجب ہے، زید ہر سال زکوٰۃ نکالتا ہے، کیا زید اپنے سگے بھائی کو زکوٰۃ کی رقم دے سکتا ہے ؟
۲۔ زید ایک عالم صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن ، اولاد کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے لیکن زید زکوٰۃ کے علاوہ اپنے بھائی کی مدد سے قاصر ہے۔ ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں شریعت اسلامی میں اصول و فروع یعنی ماں ، باپ ، دادا ، دادی، ، نانا ، نانی (اخر سلسلہ تک) اسی طرح بیٹا ، بیٹی ، پوترا ، پوتری، نواسا، نواسی، (اخیر سلسلہ تک) کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ البتہ حقیقی بھائی کو بشرط محتاجی زکوٰۃ دینا درست ہے۔ و نیز ماں باپ اور اولاد کے سواء باقی قرابت داروں کو زکوٰۃ دینے میں صلہ رحمی اور صدقہ دونوں پورے ہوتے ہیں۔ لہذا اگر زید کے حقیقی بھائی کسمپرسی میں ہیں تو زید کا ان کو زکوٰۃ دینا دیگر مستحقین کو دینے سے بہتر اور زیادہ اجر و ثواب کا موجب ہے ۔ ردالمختار ج جلد ۲ کتاب الزکوۃ باب المصرف میں ہے :  ’’و قید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الأ قارب کالاخوہ  والا عمام والأخوال و الفقراء ہل ھم اولیٰ لانہ صلۃ و صدقۃ ‘‘۔     فقط واللہ أعلم

TOPPOPULARRECENT