رمضان میں تین روز کا اعتکاف

   

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی مسجد میں رمضان میں صرف تین روز کا اعتکاف ہوتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کافی ہے، جبکہ زید کہتا ہے کہ اعتکاف دس دن کا کرنا ہے ورنہ تمام محلہ کے لوگ گنہگار ہوں گے۔ شرعی حکم کیا ہے بیان کیجئے؟
جواب : رمضان المبارک کے آخری دہے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایۃ ہے۔ محلہ کی مسجد میں مکمل آخری دہے میں کوئی نہ کوئی اعتکاف رکھنا چاہئے ورنہ سب گنہگار ہوںگے۔ الدرالمختد جلد ۲ باب الاعتکاف ص ۱۴۱ میں ہے : (وسنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان) ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان و غیرہ ۔ اور ردالمحتار میں ہے : قولہ (ای سنۃ کفایۃ) نظیرھا اقامۃ التراویح بالجماعۃ ۔ فاذ اقام بھا البعض مسقط الطلب عین الباقین ۔ فقط واللہ أعلم

اعتکاف کےشرعی احکام
مرسل : ابوزہیر سید زبیر ہاشمی نظامی
شریعت اسلامیہ کی مقرر کردہ عبادتوں پر غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اعتکاف ایک جامع عبادت ہے۔اعتکاف کی تعریف: لغت میں اعتکاف کے لغوی معنی قیام کرنا،نفس کو قابو میں رکھنے کے بتلائے گئے ہیں اور اصطلاح شریعت میں مسجد میں تقرب کی نیت سے قیام کرنا۔
حضرت نعمان بن ثابت امام اعظم رحمہ اﷲ الباری نے اعتکاف کے لئے اُس مسجد کی شرط لگائی ہے کہ جس میں نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو اور صاحبِ نورالایضاح نے اسی قول کو قولِ مختار قرار دیا اور عورت اپنے گھر کی مسجد میں اعتکاف کرے گی، یعنی وہ مقام جس کو عورت کوئی جگہ نماز کے لئے متعین کرلی ہو۔اعتکاف کی فضیلت :اعتکاف کے متعلق احادیث شریفہ میں بہت ثواب کا ذکر آیا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ’’ معتکف گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیوں سے اُسے اِس قدر ثواب ملتا ہے کہ گویا اس نے تمام نیکیاں کیں‘‘۔ نیز ارشاد فرمایا کہ ’’جس نے ماہ ِرمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرلیا تو گویا اس نے دو حج اور دو عمرے کیا‘‘۔اعتکاف کے احکام :مسجد میں عبادت کی نیت کے ساتھ ٹہرنے کا نام اعتکاف ہے۔
اعتکاف کی تین قسمیں بتلائی گئی ہیں واجب ، سنت مؤکدہ اور مستحب۔
واجب: وہ اعتکاف ہے جس کی نذر کی جائے خواہ وہ نذر کسی شرط پر موقوف ہو یا نہ ہو واجب ہے۔
سنت مؤکدہ: رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ ہے ۔
مستحب : واجب و سنت مؤکدہ کے علاوہ باقی اعتکاف مستحب ہے۔ صحابی رسول صلی اﷲ علیہ وسلم امیہ بن یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مسجد میں ایک لمحہ بھی قیام کرتا ہوں تو ضرور اعتکاف کی نیت کرلیتا ہوں۔

اعتکاف واجب اور سنت مؤکدہ دونوں میں روزہ شرط ہے۔ اعتکاف مستحب میں شرط نہیں۔٭ اعتکاف واجب کی مقدار کم سے کم ایک دن ہے اور مسنون کی مقدار ایک عشرہ {یعنی بیس رمضان المبارک کی شام کو غروب آفتاب کے وقت مسجد میں داخل ہو، پھر عید الفطر کا چاند ہونے کے بعد نکل جائے} اور مستحب کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے۔٭ اعتکاف کی شرطیں: مسلمان ہونا، عاقل ہونا، مرد کا جنابت اور عورت کا حیض و نفاس سے پاک ہونا، مسجد میں اعتکاف کرنا اور اعتکاف کی نیت کرنا۔٭عورت اپنے گھر میں جہاں نماز پڑھاکرتی ہے وہیں پر اعتکاف کرے۔٭ معتکف کو قرآن مجید کی تلاوت، دینی کتابوں کا مطالعہ، درود شریف کی کثرت، نیک اور اچھی باتوں میں مشغول رہنا چاہئے۔
تنبـیہ : بالکل خاموش رہنا یا لغو باتیں کرنا مکروہ ہے۔
بحالت اعتکاف مسجد میں کھانا، پینا، سونا اور حاجت کی چیزیں خریدنا {بشرطیکہ مسجد کے اندر نہ ہو} اور نکاح کرنا جائز ہے۔٭معتکف کو بول و براز {یعنی پیشاب اور پاخانہ} کے لئے، فرض غسل کے لئے، وُضو کے لئے اور جمعہ کی نماز کے لئے زوال کے وقت یا اتنی دیر پہلے کہ جامع مسجد کو پہنچ کر خطبہ سے پہلے جمعہ کی سنت پڑھ سکے، اتنی دیر مسجد سے نکلنا جائز ہے مگر ضرورت سے زیادہ نہ ٹہرے۔٭بلا عذر قصدا یا سہوا مسجد سے باہر نکلنے، صحبت کرنے، کسی عذر سے باہر نکل کر ضرورت سے زیادہ ٹہرنے اور بیماری یا خوف کی وجہ سے مسجد سے نکل آنے سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے۔٭اعتکاف فاسد ہونے پر اگر واجب ہو تو قضاء کرنا واجب ہے، سنت و مستحب ہو تو ضروری نہیں۔ { اقتباس: نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصہ پنجم }