Thursday , July 27 2017
Home / شہر کی خبریں / رمضان میں جمعہ الاٹ کرنے ٹی آر ایس کے رکن کی درخواست پر تنازعہ برقرار

رمضان میں جمعہ الاٹ کرنے ٹی آر ایس کے رکن کی درخواست پر تنازعہ برقرار

سکریٹری اقلیتی بہبود کو پولیس سے رپورٹ کا عدم حصول ، مکہ مسجد میں تقریر کی اجازت طلبی شرانگیزی کے مترادف
حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد میں رمضان المبارک کے موقع پر تیسرا جمعہ الاٹ کرنے کیلئے ٹی آر ایس کے ایک کارکن کی درخواست پر پیدا شدہ تنازعہ ابھی تک برقرار ہے۔ پولیس نے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کے مکتوب پر ابھی تک اپنی رپورٹ روانہ نہیں کی ہے جس کے باعث مکہ مسجد میں رمضان کے جمعے الاٹ کرنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔ سید عمر جلیل نے بتایا کہ خود کو ٹی آر ایس کا کارکن ظاہر کرنے والے اے ایس راؤ نے محکمہ اقلیتی بہبود میں درخواست داخل کی اور تیسرا جمعہ الاٹ کرنے کی خواہش کی تاکہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خطاب کرسکے۔ کسی غیر مسلم شخص کی جانب سے اس طرح کی یہ پہلی درخواست ہے جس پر سکریٹری اقلیتی بہبود نے پولیس سے رائے طلب کی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کا ماننا ہے کہ اس تنازعہ کو مستقل طور پر حل کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ شخص گزشتہ سال اسی طرح کی درخواست داخل کرچکا ہے۔ دستور میں اظہار خیال کی آزادی کے نام پر مکہ مسجد میں تقریر کی اجازت طلب کرنا شرانگیزی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر پولیس کی رپورٹ ملتے ہی وہ جمعہ الاٹ کردیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مسجد میں 43 اور شاہی مسجد باغ عامہ میں 14 کیمرے نصب کئے جارہے ہیں اور یہ کام رمضان المبارک کے آغاز سے قبل مکمل ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران دونوں مساجد میں روزہ داروں اور مصلیوں کی سہولت کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے۔ مکہ مسجد میں وضو کے لئے صاف پانی اور افطار و تراویح کے موقع پر پینے کیلئے ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ جبکہ گرمی کی شدت کو دیکھتے ہوئے دونوں مساجد میں بڑے ایرکولرس نصب کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے بعد مکہ مسجد کی چھت کی مرمت اور دیگر مرمتی کاموں کا آغاز ہوگا۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعہ ان کاموں کی تکمیل کی جائے گی ۔ سید عمر جلیل نے بتایا کہ مختلف گوشوں اور خاص طور پر سرکاری ملازمین کی جانب سے انہیں نمائندگی کی گئی کہ شاہی مسجد میں نماز جمعہ کے وقت کی پابندی نہیں کی جا رہی ہے جس کے باعث انہیں دفاتر میں اعلیٰ عہدیداروں کی برہمی کا سامنا ہے ۔ عمر جلیل نے تحریری طور پر احکامات جاری کئے اور شاہی مسجد کے حکام کو پابند کیا کہ نماز جمعہ بہر صورت مقررہ وقت یعنی ایک بجکر 40 منٹ پر ادا کی جائے۔ مسجد کے اطراف واقع سرکاری دفاتر کے مسلم ملازمین نے اس سلسلہ میں کئی عوامی نمائندوں سے بھی شکایت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود کی زبانی ہدایات کا اثر نہ ہونے پر تحریری طور پر احکامات جاری کئے گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT