Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / رمضان کے عارضی بازاروں سے معمول کی وصولی

رمضان کے عارضی بازاروں سے معمول کی وصولی

تاجرین کو غنڈہ عناصر کی ہراسانی ، جگہوں کی فروختگی ، پولیس کو توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد۔8جون (سیاست نیوز) شہر میں ماہ رمضان المبارک کے دوران مختلف مقامات پر لگائے جانے والے بازاروں کو معمول وصول کرنے والے عناصر سے پاک رکھنے کیلئے فی الفور اقدامات کئے جانے ضروری ہیں۔ حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں ماہ رمضان المبارک کے دوران 20تا25دن کیلئے بازار لگائے جاتے ہیں ان بازاروں میں کاروبار کرنے والے تاجرین کو مقامی غنڈہ عناصر کی ہراسانی سے بچایا جانا ضروری ہے چونکہ بیشتر علاقوں میں نہ صرف ٹریفک پولیس بلکہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے غیر سماجی عناصر معمول وصول کرتے ہوئے تاجرین کو ہراساں کرتے ہیں۔ اہم بازاروں اور سڑکوں پر باضابطہ جگہ فروخت کی جاتی ہے اور اس جگہ کی فروخت سے مقامی دکانداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پرانے شہر میں متعدد مرتبہ دکاندار اس مسئلہ سے محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کو واقف کروا چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض غیر سماجی عناصر کی جانب سے سڑکوں پر جگہ کی فروخت سے عاجز بعض دکانداروں نے اپنے طور پر جگہ کرائے پر دینی شروع کردی ہے تاکہ غیر سماجی عناصر کی حوصلہ افزائی نہ ہونے پائے لیکن یہ عناصر اس کے باوجود فٹ پاتھ اور سڑکوں پر کام کرنے والے تاجرین کو ہراساں کرتے ہوئے بھاری رقومات وصول کر رہے ہیں۔ ذرائع کے بموجب سڑکوں پر ٹھیلہ بنڈیوں کے ذریعہ کاروبار کرنے والے افراد کو یہ عناصر بھاری سود پر رقومات فراہم کرتے ہوئے دولت بٹورنے میں مصروف ہیں۔ غنڈہ و غیر سماجی عناصر کی یہ سرگرمیاں صرف پرانے شہر تک محدود نہیں ہیں بلکہ اب یہ ٹولی چوکی ‘ مہدی پٹنم ‘ سعیدآباد ‘ سنتوش نگر ‘ ملے پلی اور دیگر علاقوں تک وسعت حاصل کرچکی ہے۔ سابق میں پرانے شہر کے علاقوں میں اس طرح کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے ساؤتھ زون پولیس کی جانب سے راست ڈی سی پی ‘ ایڈیشنل ڈی سی پی اور اہم فون نمبرات کے ساتھ بیانرس کی تنصیب عمل میں لائی گئی تھی جس کے نتیجہ میں بیشتر عناصر غائب ہو گئے تھے اگر یہی طریقہ کار محکمہ پولیس و بلدیہ کی جانب سے پورے شہر میں اختیار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں غریب تاجرین کو غنڈہ گردی کا شکار ہونے سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ شہر حیدرآباد میں غیر سماجی عناصر کی ان  سرگرمیوں کو کچھ حد تک سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے اور اس سیاسی سرپرستی کے خاتمہ کے لئے سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار اپنے کارکنوں کو ہدایت جاری کریں تو ممکن ہے کہ غریب عوام اس ماہ مبارک کے دوران چھوٹے کاروبار کے ذریعہ کچھ کما لے لیکن شائد سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی خاموشی ان کے کارکنوں کا ذریعہ معاش ہے۔ محکمہ پولیس کو چاہئیے کہ وہ فوری حرکت میں آتے ہوئے ان سرگرمیوں کو روکنے کے اقدامات کرے اور سود خوروں پر سخت نظر رکھی جائے۔

TOPPOPULARRECENT