Friday , July 21 2017
Home / تفریح / رنگون میرا امیج بدل کر رکھ دے گی :شاہد کپور

رنگون میرا امیج بدل کر رکھ دے گی :شاہد کپور

جانے مانے اداکار پنکج کپور اور نیلما عظیم کے بیٹے شاہد کپور نے اپنا فلمی کیریئر ویسے تو سبھاش گھئی کی فلم تال سے شروع کیا تھا، لیکن اس فلم میں ان کے چھوٹے سے کردار نے ان کی کوئی خاص پہچان نہیں بنائی۔ 2003ء میں جب ان کی عشق وشق ریلیز ہوئی تو شائقین نے انہیں بہت پسند کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد شاہد سے عوام کو کافی امیدیں ہوگئیں، لیکن بدقسمتی سے عشق وشق کے بعد ان کی فلم ’’فدا‘‘ پہلے ہی شو کے بعد تھیٹرس سے وداع ہوگئی۔ اس کے بعد ان کی دل مانگے مور کب آئی اور کب سنیما گھروں سے اُتر گئی کسی کو پتہ ہی نہیں چل سکا۔ دیوانے ہوئے پاگل، واہ لائف ہوتو ایسی، اور شکھر بھی شاہد کے لئے کوئی کرشمہ نہیں کرسکیں۔ 36 چینا ٹاؤن اور چپکے چپکے میں کرینہ کے ساتھ جوڑی بنانے پر بھی انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا، لیکن سورج برجاٹیہ کی فلم وواہ کو ایک بار پھر عوام نے پسند کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد شاہد ایک بار پھر ڈیمانڈ میں آگئے۔ جب وی میٹ، کمینے، آر راجکمار، حیدر اور اُڑتا پنجاب میں ان کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔ فی الحال ان کی وشال بھردواج کے ڈائرکشن میں بنی رومانٹک ڈرامہ فلم رنگون ریلیز ہوئی ہے جس میں وہ سیف علی خان اور کنگنا رناوت کے ساتھ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سنجے لیلا بھنسالی کی میگا بجٹ فلم پدماوتی بھی کررہے ہیں جس میں وہ رانا راول رتن سنگھ کے کردار میں دیکھے جائیں گے جو 14 ویں صدی کی راجستھان کی تاریخ سے جڑی کہانی ہے جس میں شاہد دیپیکا پڈوکون کے ساتھ ہیں۔ آئیے ملتے ہیں بالی ووڈ کے اس ہارٹ تھروب اداکار سے۔
س : رنگون میں آپ کے کام کے خوب چرچے ہیں کیا کہیں گے؟
ج : اس فلم میں یقینا سبھی نے اپنے اپنے کرداروں کے لئے تگڑی محنت کی ہے اور جی جان سے کام کیا ہے۔ ویسے اس فلم کا سبجکٹ بھی کچھ اتنا ہی دلچسپ ہے۔ وشال بھردواج جی کے ساتھ ویسے یہ میری تیسری فلم ہے، لیکن اس بار بھی ان کے ساتھ کام کرکے میں نے کچھ اور سیکھا ہے۔ یہ ایک رومانٹک ڈرامہ فلم ہے جو دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں ہے۔ یہ ایک دلچسپ فلم ہے جس کے لئے وشال جی نے کافی سخت محنت کی ہے۔
س :  فلم میں اپنے کردار کے بارے میں بتائیے؟
ج : میرے کردار کے لئے اتنا کہنا ٹھیک رہے گا کہ میں نے ابھی تک ایسا رول نہیں کیا اور نہ ہی ایسی فلم کی ہے۔ وشال نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ فلم میں میرا نیا لک بھی لوگوں کو بہت پسند آئے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فلم ضرور میرا امیج بدل کر رکھ دیگی۔
س :  عشق وشق کے بعد آپ سے کئی توقعات تھے، لیکن اچانک آپ ان امکانات سے کافی پیچھے رہ گئے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ پھر سے نمبر ون کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے؟
ج : اس طرح کی باتوں پر میں کبھی توجہ نہیں دیتا۔ میری کوشش یہی رہتی ہے کہ میں اپنے کام پر توجہ دوں میرے دل میں نہ سوپر اسٹار بننے کی چاہ ہے نہ نمبر ون کی دوڑ میں جانے کی، میں تو صرف اچھی سے اچھی فلمیں کرنا چاہتا ہوں ہاں میں یہی سوچتا ہوں کہ میں اپنے کام کے ذریعہ انڈسٹری میں اپنے لئے کوئی خاص مقام بنالوں۔
س : حیدر جیسی فلموں کے بعد آپ کو ایک کامیاب اداکار کے طور پر جانا جانے لگا ہے، کیا آپ کو اس بات کا احساس ہے؟
ج : میں نہیں جانتا لیکن مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اب انڈسٹری میں میری مضبوط پوزیشن ہوگئی ہے اور میرا مارکٹ ویلیو بھی اچھا ہے۔ میں نے حقیقت میں اپنے کیریئر کے لئے محنت کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ پرڈیوسرس مجھ سے جو امید لگاتے ہیں میں اس پر پورا اتروں۔
س : آپ سولو ہیرو والی فلمیں ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
ج :  ہاں میں اپنے آپ پر بھروسہ کرتا ہوں اس لئے میں سولو ہیرو والی فلمیں ہی کرنا چاہتا ہوں اور جب وی میٹ کے بعد میں نے یہ ثابت بھی کردیا تھا کہ میں اکیلا ہی فلم کا بوجھ اٹھا سکتا ہوں، کوئی غلط فلم کرنے کے بجائے میں گھر بیٹھنا زیادہ پسند کروں گا۔ اب میں اپنے کو متوازن اور کنٹرول شدہ ایکٹر محسوس کررہا ہوں۔
س :  لوگ آپ کو گھمنڈی بھی کہتے ہیں جب کوئی آپ کو گھمنڈی کہتا ہے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
ج : میں پچھلے کئی برسوں سے سنتا آرہا ہوں کہ میں گھمنڈی ہوں، کسی ایکٹر کے بارے میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ان میں سے سبھی سچ نہیں ہوتیں، میں ان سب سے متاثر نہیں ہوتا، لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر میں گھمنڈی ہوتا تو میرا پریوار میری کھنچائی کرتا۔
س :  پھر آپ کس طرح کے انسان ہیں؟
ج :  میں گھمنڈی نہیں ہوں، میں کانفیڈنٹ اور ریزرو ہوں، میں لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ کچھ بھی طے کرنے سے پہلے مجھے ٹھیک سے جانیں۔ میں آج بھی یہی کہتا ہوں کہ میں ایک عام شخص ہوں۔
س : کچھ ڈائرکٹرس کی آپ سے یہ شکایت بھی ہے کہ آپ انہیں پہلے ہاں کہہ کر بعد میں نہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
ج : میں نے ایسا کبھی نہیں کیا ہاں، فیصلہ لینے میں تھوڑی دیر ضرور لگاتا ہوں۔ یہ کہنا میری سب سے بڑی مشکل ہے میں کسی فلم میکر سے تبھی ملتا ہوں جب اگلی فلم میں اپنے لئے کوئی رسپانس دیکھتا ہوں ورنہ نہیں۔
س : اپنے کیریئر کے لئے آپ نے اپنے اداکار والدین سے کیا تعاون حاصل کیا؟
ج : میں نے ان سے اپنے کام کے متعلق کوئی سفارش نہیں لی جہاں تک اپنے والدین سے کچھ لینے کا سوال ہے تو میں نے ان سے ان کا ایکٹنگ ٹیلنٹ لیا ہے۔ میں نے اپنے والدین کو یہ تک نہیں بتایا تھا کہ میں اداکار بننا چاہتا ہوں، تو پھر ان کا مجھے پرموٹ کرنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔
س : کسی قائم اداکار سے جب آپ کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
ج :  میں کسی سے اپنا مقابلہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ یہ ایک بے تکی بات ہے کہ میں خود کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور اداکار کی وجہ سے جدوجہد میں مصروف ہوں۔
س : انڈسٹری میں اپنی مضبوط پوزیشن بنانے کے لئے آپ نے کیا سوچا ہے؟
ج :  یہاں میری بیکنگ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ میرے ٹیلنٹ کے علاوہ یہاں میرا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ ایسے میں اگر میں یہ سوچنا شروع کردوں کہ میں نے کمال کردیا ہے تو یہ میری بہت بڑی بھول ہے۔ اگلے اور تین چار سال تک کے لئے میں صرف فلم انڈسٹری میں ایک اسٹوڈنٹ کی حیثیت سے ہی رہنا چاہتا ہوں، لیکن میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ آپ کے سامنے کوئی بھی کام آپ کے اندر کی طاقت سے بڑا نہیں ہوسکتا۔
س : کچھ دنوں سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ میڈیا کے ساتھ بھی آپ کا رویہ ٹھیک نہیں ہے؟
ج :  ہر کامیاب فنکار کو اس راستے سے گذرنا پڑتا ہے جب آپ کوئی چیز ماننے سے انکار کرتے ہیں تو یہ آپ کے لئے منفی رویہ اختیار کرلیا جاتا ہے۔ آپ کے بارے میں طرح طرح کی خبریں چھاپی جاتی ہیں اور میڈیا اس حد تک ہاتھ دھوکر آپ کے پیچھے پڑ جاتا ہے کہ آپ ان سے الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ابتداء میں بھی میرے ساتھ ایسا ہوا ہے لیکن رفتہ رفتہ میں سب کچھ سمجھ چکا ہوں۔ اب میڈیا کی ان خبروں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں بہت جلد غصہ میں آجاتا ہوں لیکن ایسا میرے بارے میں غلط کہا جاتا ہے۔
س : آج کل آپ ملٹی اسٹار فلموں سے بھی پرہیز کررہے ہیں؟
ج : نہیں ایسا کچھ نہیں ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ اسٹارس کی پرہجوم فلموں میں نہیں آنا چاہتا کیونکہ وہاں مجھے اپنے کیریئر کی سیکوریٹی محسوس نہیں ہوتی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT