Wednesday , March 29 2017
Home / اداریہ / رواداری اور صدر جمہوریہ کا بیان

رواداری اور صدر جمہوریہ کا بیان

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے نوع انساں کو
محبت کی زباں بن جا اخوت کا بیاں ہوجا
رواداری اور صدر جمہوریہ کا بیان
صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے بھی ملک کی جامعات میں بگڑتے ہوئے ماحول پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کردیا ہے ۔ صدر جمہوریہ کا کہنا تھا کہ عدم روادار ہندوستانیوں کیلئے ملک میںکوئی جگہ نہیںہونا چاہئے ۔ صدر جمہوریہ کی رائے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ وہ ملک کے سربراہ ہیں اور وہ ملک کی جامعات میں ‘ جہاں تعمیر و تحقیق کا کام ہونا چاہئے ‘ جہاں نوجوانوں اور طلبا میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھایا جانا چاہئے اور جہاںاخلاقیات کا درس دیا جانا چاہئے وہاں نوجوانوں کے ذہنوں کو منتشر کیا جا رہا ہے اور ان کے ذہنوں کو متعصب سوچ و فکر کے ساتھ پراگندہ کیا جا رہا ہے اورا فسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ قوم پرستی اور حب الوطنی کے نام پر کیا جا رہا ہے ۔ دہلی یونیورسٹی ‘ رامجس کالج اور جے این یو کے طلبا کے مابین جو ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ نہ صرف طلبا برادری اور نوجوانوں کیلئے اچھی نہیں ہے بلکہ اسے ملک کے مستقبل کیلئے بھی اچھا نہیں کہا جاسکتا ۔ ہر ملک میں نوجوان اور طلبا ہی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ا ن ہی نوجوانوں میں سے آگے چل کر کوئی ملک کی خدمت سیاسی میدان میں کرسکتا ہے تو کوئی سائینس و تحقیق کے میدان میں ملک کا نام روشن کرسکتا ہے ۔ کوئی ریسرچ کے شعبہ میں اپنی مہارت کا لوہا منواسکتا ہے تو کوئی مورخ بن سکتا ہے ۔ کوئی انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں دنیا کو اپنا گرویدہ بناسکتا ہے تو کوئی کسی اور شعبہ میں ہندوستان کا نام آگے بڑھا سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ ماحول ایسا کردیا گیا ہے کہ طلبا برادری اپنے اولین مقصد کو بھول کر ایک دوسرے کو قوم دشمن اور غیر سماجی عناصر قرار دینے میں مصروف ہوگئی ہے ۔ ملک کی جامعات میں تعلیمی اسنادات دئے جانے کی بجائے یہ سرٹیفیکٹ دیا جارہا ہے کہ کون ملک کا وفادار ہے اور کون ملک کا مخالف ہے ۔ یہ فیصلے کرنا طلبا برادری کا کام نہیں ہے اور طلبا برادری کو اپنی تعلیم اور ریسرچ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ قوم مخالف سرگرمیوں کو یقینی طور پر کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا لیکن کسی کو عدالتوں کی جانب سے واقعی قوم مخالف قرار دئے بغیر قوم مخالف قرار دینے کا حق بھی کسی کو حاصل نہیں ہے ۔ یہ کام نفاذ قانون کی ایجنسیوں اور عدالتوں پر چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔
جس طرح سے رامجس کالج میں ایک سمینار کے انعقاد پر اے بی وی پی کی جانب سے غنڈہ گردی کی گئی اور مخالف تنظیموں کے طلبا کو مارپیٹ کی گئی وہ افسوسناک ہے ۔ یہاں ایک مخصوص گوشہ ہے جو محض اپنے ایجنڈہ اور نظریات کو مسلط کرنے پر تلا ہوا ہے اور معمولی سے بھی مخالفانہ آواز کو برداشت نہیں کر رہا ہے ۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔ ہر ایک کو ملک کے قانون اور دستور کے پیرائے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے اختلاف کا پورا پورا حق حاصل ہے ۔ اگر کوئی اس حق کا بیجا استعمال کرتا ہے اور قوم مخالف سرگرمیوں کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ملک میں قانون موجود ہے ۔ نفاذ قانون کی ایجنسیاں موجود ہیں۔ ہماری عدالتیں موجود ہیں۔ یہ سب ملک کر قوم مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں لیکن جب تک عدالتوں کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک کسی کو ایک مخصوص لیبل لگادینے کا حق کسی بھی تنظیم یا شخصیت کو حاصل نہیں ہے ۔ کسی کو محض اس لئے قوم مخالف قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ آپ کے نظریات سے اتفاق نہیںکرتا ۔ اس کا اپنا ایک علیحدہ نقطہ نظر ہے ۔ جب ایسا کیا جاتا ہے تبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا سماج اورمعاشرہ رواداری کی روایت سے انحراف کر رہا ہے ۔ اخلاقیات اور اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے اور ایسے ملک میں تشدد کا سہارا لیا جا رہا ہے جو ساری دنیا میں عدم تشدد کی مثال بن سکتا ہے ۔ ہمارا ماضی سارا عدم تشدد کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے ۔ ہم ماضی کی ان شاندار روایات کو ختم کرنے اور توڑنے کے مرتکب ہوتے جارہے ہیں جو مناسب نہیں ہے ۔
جب مختلف گوشوں سے جامعات کے کیمپسوں میں رواداری پر زور دیا جارہا تھا تو ان گوشوں کو بھی قوم مخالف کا لیبل لگادیا گیا تھا لیکن اب صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے بھی یہ واضح کردیا ہے کہ ملک میں عدم رواداری کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ہمیں اس رائے کا احترام کرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی حکومت کو خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اورا یک مخصوص نقطہ نظر اور ایجنڈہ کو مسلط کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے ہمہ جہتی سوچ و فکر اور تکثیریت والے معاشرہ کی تشکیل کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہر نقطہ نظر کے حامل افراد کو دوسرے نقطہ نظر والوں کا احترام کرنے کی تلقین کی جانی چاہئے ۔ جامعات میں حب الوطنی اور قوم پرستی کے سرٹیفیکٹ بانٹنے کی بجائے تعلیمی اسنادات اور مہارتوں کے حصول پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی غیر قانونی کام کو روکنے کیلئے بھی قانون کا ہی سہارا لیا جانا چاہئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT