Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / رواداری کیلئے صدر جمہوریہ ہند کی ایک بار پھر اپیل

رواداری کیلئے صدر جمہوریہ ہند کی ایک بار پھر اپیل

دسہرہ ایک سماجی تہوار بن گیا ہے، قیامگاہ پر این ڈی ٹی وی کو انٹرویو، اپیل کو وزیراعظم نریندر مودی کی بھی تائید
کرنا ہار (مغربی بنگال) ۔ 20 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ رواداری اختیار کی جائے اور اختلافات کو قبول کرتے ہوئے ناراضگی کا احترام کیا جائے ۔ ان کا یہ تبصرہ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے پس منظر میں منظر عام پر آیا ہے ۔ اپنی آبائی قیامگاہ کرناہار (مغربی بنگال) پر این ڈی ٹی وی سے بات چیت کے دوران صدرجمہوریہ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ میں نے بیان دیا ہے کہ ہمیں اس پوشیدہ پیغام کو شناخت کرنا چاہئے اور اسے دیگر اقوام تک پہنچانا چاہئے کہ روز مرہ کی عمل میں چاہے وہ ہمارے تمدن اور ثقافت کا حصہ ہو یا ہمارے رویہ کا ، ہمارا رویہ اور سلوک رواداری پر مبنی ہونا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ مغربی ایشیاء کے تین ممالک کا دورہ کرنے کے دوران ان سے ہندوستان میں باہمی ہم آہنگی کے بارے میں جو انتہائی کامیاب ہے، سوال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی پارلیمانی جمہوریت ایک ایسے ملک میں قائم ہے جہاں مختلف زبانوں، نسلوں ، مذاہب ، رسوم و رواج ، عقائد اور عوام کی زبردست تعداد ہم آہنگی کے ساتھ سکونت پذیر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں جواب دیا کہ شائد یہ ہماری تہذیب و تمدن کا حصہ ہے جس نے ہمیں باہم ہم آہنگی کے ساتھ جینا سکھایا ہے ۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایک بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے تنوع  پر فخر بھی کرتے ہیں۔ یہ ہمارے وجود کا حصہ ہے ۔ ہماری تہذیب نے ہمیں رواداری کو فروغ دینا ، اختلافات کو قبول کرنا اور ناراضگی کا احترام سکھایا ہے ۔

یہی ہمارے اتحاد کا راز ہے۔ درگا پوجا کے موقع پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تہوار کے موقع پر انہیں یہ پیغام دوسروں تک اپنے قول اور عمل کے ذریعہ پہنچانا چاہئے کہ رواداری ہمارے خمیر میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ درگا پوجا صرف ایک فرقہ کا تہوار نہیں بلکہ اپنے امن اور ہم آہنگی کے پیغام کے ذریعہ ایک سماجی تہوار بن گیا ہے۔ یہ بدی پر نیکی، نور کی ظلمت پر اور علم کی جہالت پر فتح کا تہوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعاء کرتے ہیں کہ یہ تہوار ہمارے ملک کی اخلاقی بنیادوں کو مستحکم کرے اور ان تمام کو مار بھگائے جو انتشار اور تباہی میں یقین رکھتے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ کل انسانیت اور تکثیریت کسی بھی حالت میں ترک نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ یہ ہندوستانی سماج کا ایک حصہ ہے۔ ایک اجتماعی طاقت ہونا چاہئے جو سماج میں بدی کی طاقتوں کے خلاف جنگ کرسکے۔ صدر جمہوریہ کا سخت لب و لہجہ والا یہ پیغام 15 دن کے اندر تیسری مرتبہ منظر عام پر آیا ہے جبکہ دادری میں ذبیحہ گاؤ اور اس کے گوشت کے استعمال کے شبہ میں ایک مسلمان کو زد و کوب کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا ، شیوسینا نے پاکستانی گلوکار غلام علی کا موسیقی کا پروگرام اور ہند۔پاک کرکٹ بورڈس کے سربراہوں کے مذاکرات ملتوی کرنے پر مجبور کردیا۔ سدھیندر کلکرنی کے چہرہ پر سیاہی پوت دی گئی جنہوں نے سابق وزیر خارجہ پاکستان کی کتاب کے رسم اجراء کا اہتمام کیا تھا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی صدر جمہوریہ کے بیان کی تائید کی۔

TOPPOPULARRECENT