Monday , August 21 2017
Home / دنیا / روادار اسلام کو فروغ دینے کی اپیل علمائے دین پر حکومت انڈونیشیاء کا زور ، نائب صدر کا بیان

روادار اسلام کو فروغ دینے کی اپیل علمائے دین پر حکومت انڈونیشیاء کا زور ، نائب صدر کا بیان

جکارتہ ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر انڈونیشیاء نے آج ملک کے علمائے دین سے اپیل کی ہیکہ وہ روادار اسلام کو فروغ دینے کے پیغامات کی ترویج و اشاعت کریں اور انتہاء پسندی کو کچلنے کی کوشش کریں جو اکثر اسلامی تعلیمات کی غلط تاویل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی چوٹی کانفرنس میں اعتدال پسند اسلامی قائدین سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جوسف کلا نے کہا کہ انہیں یقین ہیکہ جو نوجوان کٹر عقیدہ نہیں رکھتے، عسکریت پسندوں کا آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں۔ سیاسی مقاصد کیلئے دولت نہیں ہوتی بلکہ جنت کا مختصر راستہ بتایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ علمائے دین کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور غلط تاویلات کی اصلاح پر توجہ دینا ضروری ہے۔ آج ہم سب اسی مقصد سے یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ بنیاد پرستی کو دہشت گردی، جنگوں اور خانہ جنگی کو کچل دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب 60 کروڑ مسلمان تقریباً 57 ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ اسلام کی اچھائی کے پیغام کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس چوٹی کانفرنس کا اہتمام نہضتہ العلماء نے کیا تھا جو انڈونیشیاء کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے۔ تنظیم کو توقع ہیکہ اسلام کی امن پسندی کی اہمیت کو اجاگر کرنے سے دنیا بھر میں بنیاد پرستی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔ اس چوٹی کانفرنس میں 300 سے زیادہ مندوبین شرکت کررہے ہیں جن کا تعلق 33 ممالک بشمول ملیشیاء، سعودی عرب، مصر، ترکی، شام اور ایران سے ہے۔ دو روزہ چوٹی کانفرنس میں تمام علمائے دین شریک ہیں۔ کلا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بنیاد پرستی اور دنیا کے دیگر علاقوں میں اس کی کارروائیوں کے نتیجہ میں جابرانہ حکومتوں کے خلاف جمہوریت کے نام پر خانہ جنگی برپا کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں لوگ جہالت کا شکار ہورہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ بنیاد پرستی اور دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے تمام ممالک کی یکجہتی اور اتحاد ضروری ہے کلا نے کہا کہ اعتدال پسند اسلامی مملکتیں جو رحم دلی، صداقت اور اتحاد کا پوری مسلم برادری کو درس دے سکتی ہیں۔ خود خانہ جنگی میں مبتلاء ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیاء میں اسلامی عسکریت پسندوں کے کئی حملے دیکھے جاچکے ہیں۔ ان میں 2002ء کے بالی بم حملے بھی شامل ہیں جن میں 202 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر غیرملکی سیاح شامل تھے۔ ان سے چھوٹے اور کم مہلک حملے حالیہ برسوں میں سرکاری عہدیداروں خاص طور پر پولیس کے عہدیداروں پر کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT