Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / روبینہ میمن کی پیرول کیلئے اپیل بامبے ہائی کورٹ میں مسترد

روبینہ میمن کی پیرول کیلئے اپیل بامبے ہائی کورٹ میں مسترد

یعقوب میمن کی بھاوج کو عارضی رہائی کی صورت میں لاء اینڈ آرڈ کے مسئلہ کا اندیشہ:عدالت
ممبئی۔/29ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) بامبے ہائی کورٹ نے1993 کے سلسلہ وار بم دھماکے کی دہشت گرد مجرم روبینہ سلیمان میمن کی وہ عرضی مسترد کردی جس کے ذریعہ اُن کی پیرول پر رہائی کی استدعاء کی گئی تھی۔ جسٹس وی کے تاہل رمانی اور جسٹس اے ایم بدر کی بنچ نے ایک حالیہ فیصلہ میں کہا : ’’ ہم درخواست گذار ( روبینہ) کی پیرول پر رہائی کیلئے آمادہ نہیں ہیں کیونکہ اُسے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اُس کے رول کی پاداش میں ٹاڈا کی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے۔‘‘ روبینہ ٹائیگر میمن کی بھاوج بھی ہے، جس کے تعلق سے باور کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم ہے اور سلسلہ وار دھماکوں کے کلیدی سازشیوں میں سے ہے۔ مارچ 1993 میں پیش آئے دھماکوں نے شہر کو دہلادیا تھا جس کے نتیجہ میں 257 ہلاکتیں ہوئیں اور زائد از 700 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ روبینہ کو 2006 میں ممبئی کی ٹاڈا کورٹ نے 3 دیگر ارکان خاندان کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی جبکہ اس کے شوہر سلیمان کو ثبوت کے فقدان کے سبب الزامات منسوبہ سے بری کردیا گیا۔ اُس کے دیور یعقوب کو دہشت گردی کے الزامات پر پھانسی دے دی گئی۔ روبینہ موجودہ طور پر پونے کی یرواڑہ جیل میں قید ہے اور اس نے پیرول کیلئے 22جنوری 2015 کو جیل حکام کے توسط سے درخواست داخل کی تھی۔ تاہم اس کی عرضی 15جنوری 2016 کو مسترد کردی گئی۔ اس فیصلہ سے غیر مطمئن روبینہ نے اپیل دائر کی جسے رواں سال ماہِ مئی میں خارج کردیا گیا۔ اس کے بعد وہ رٹ پٹیشن کے ذریعہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی اور پیرول کیلئے استدعاء کی جسے گذشتہ ہفتہ مسترد کیا گیا۔

روبینہ کی وکیل فرحانہ شاہ نے دلیل پیش کی کہ 3 شریک ملزمین جنہیں اسی کیس میں ٹاڈا کے تحت مجرم قرار دیا گیا، انھیں جیل سے عارضی رہائی دی جاچکی ہے۔ وہ سردار شاہ ولی خان، ناصر عبدالقادراور عیسیٰ عبدالرزاق میمن ہیں۔ شاہ ولی کو 9 جون 2014 کو پیرول پر چھوڑا گیا، اسی طرح 27 جون 2014 کو عبدالقادر کو رہائی ملی نیز عبدالرزاق میمن کو 10جون 2016 کو پیرول پر رہائی دی گئی۔ فرحانہ کا استدلال ہے کہ یہ تینوں شریک ملزمین کو 1993 کے بم دھماکے کیس میں روبینہ کے ساتھ یکساں الزامات کا سامنا رہا، انھیں عارضی رہائی دی گئی اسی لئے یہی سہولت روبینہ کو بھی دی جانی چاہیئے۔ ایڈیشنل پبلک پراسکیوٹر ایچ جے ڈھیدیا نے بیان کیا کہ روبینہ کی عارضی رہائی کیلئے درخواست جیل کے قاعدہ4(4) کے تحت مسترد کی گئی ہے۔ یہ قاعدہ بیان کرتا ہے کہ ایسے قیدی جن کی رہائی کی سفارش کمشنر آف پولیس یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امن عامہ اور بھائی چارگی کی بنیاد پر نہ کریں، انھیں پیرول عطاء نہیں کی جائے گی۔ پراسکیوٹر نے کہا کہ روبینہ کی پیرول کی درخواست مسترد کرنے والے حکمنامہ میں بیان کیا گیا کہ درخواست گذار یعقوب میمن کے بھائی کی بیوی ہے۔ وہ اپنی عارضی رہائی کی مدت ممبئی کے ماہین علاقہ میں گذارے گی جہاں تمام برادریوں کے لوگ رہتے ہیں۔ اگر اسے پیرول پر رہا کیا جاتا ہے تو لوگ بڑی تعداد میں اس سے ملاقات کیلئے آئیں گے اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوگا بالخصوص اس حقیقت کے پیش نظر کہ یعقوب میمن کی تجہیز و تکفین کے دوران بہت ہجوم دیکھنے میں آیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT