Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / روزانہ 45 روپئے سے زندگی کے سفر کا آغاز

روزانہ 45 روپئے سے زندگی کے سفر کا آغاز

محمد مصطفی علی سروری
جونوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ وطن میں رہتے ہوئے انہیں نہ تو سلیقہ کی نوکری ہی ملنے والی ہے اور نہ ہی وہ لوگ صحیح سے کچھ کما پائیں گے، ان کے لئے لکھنو کے خان صاحب کی زندگی میں بہت سارے سبق سیکھنے کو ملیں گے ۔ لکھنو کے خان صاحب کون ہیں اور ان کی زندگی سے حیدرآباد کے نوجوانوں کو کیا سیکھنے کو مل سکتا ہے۔ آئیے بلا کسی تاخیر کے لکھنو کے خان صاحب کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تقریباً 50 برس کے خان صاحب (ان کا مکمل نام یہاں درج نہیں کیا جارہا ہے) آج سے تقریباً 25 برس قبل تلاش معاش میں لکھنو سے حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں اور شہر پہونچ کر روزگار کی تلاش میں ادھر ادھر گھومتے ہیں۔ تعلیم کے حوالہ سے اتنا عرض کرنا ضرور ہے کہ خان صاحب نے کوئی اعلیٰ تعلیم تو حاصل نہیں کی تھی ۔ ہاں اپنے گاؤںکے ہائی اسکول تک انہوں نے ضرور پڑھا تھا ۔ اب ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کرنے والا اپنا بائیو ڈاٹا تھوڑی بنائے گا لیکن خان صاحب کوایک ہنر ایک فن آتا تھا اور اپنی اسی صلاحیت کے بل پر وہ نوکری ڈھونڈ رہے تھے ۔ انہیں جو ہنر جو فن آتا تھا ، اس کو ’’سیکل ریپیرنگ‘‘ کہتے ہیں، ہاں خان صاحب کو سیکل ریپیر کرنے کا کام آتا تھا اور وہ حیدرآباد کے گلی کوچوں میں گھوم پھر کر اس کام کو ڈھونڈ رہے تھے اور پھر انہیں ایک ہفتہ میں ہی خیریت آباد کے ایک سیکل ٹیکسی کے مالک نے اپنے ہاں کام پر رکھ لیا اور انہیں یومیہ 50 روپئے مزدوری دینا طئے کیا ۔ خان صاحب بڑے خوش تھے کہ لکھنو سے نکلنے کے بعد انہوں نے سات برسوں تک گجرات کے شہر احمد آباد میں طبع آزمائی کی، وہاں بھی سیکل مرمت کرنے کی دکان لگائی مگر زیادہ کامیابی نہیں ملی اور خاص کر مسلمانوں کا ماحول انہیں نہیں مل سکا۔

اس کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ ممبئی میں کام کیا لیکن انہیں اطمینان نہیں ہوا اور جب انہوںنے شہر حیدرآباد کا رخ کیا تو ان کو کام کے ساتھ مسلمانوں کا ماحول اور دل کا سکون بھی ملا جلد ہی انہوںنے لکھنو کے قریب واقع گاؤں سے اپنی بیوی کو بھی کرایہ کا گھر لیکر بلالیا ۔ یوں سیکل ریپیر کر کے ان کی زندگی گزرنے لگی ، جلد ہی انہوں نے خیریت آباد کی سیکل ٹیکسی کو چھوڑکر دوسری جگہ سیکل کی مرمت کا کام سنبھال لیا اور آج حیدرآباد آئے ہوئے انہیں 25 برس بیت گئے، ایک مسجد کے قریب وہ خود اپنی ایک دکان چلاتے ہیں۔ جی ہاں انہوں نے اپنا پیشہ نہیں بھولا بلکہ آج بھی عمر کے اس حصے میں سیکل ہی مرمت کرنے کا کام کرتے ہیں۔ جب بھی اذان ہوتی ہے تو کام کاج چھوڑ کر مسجد کا رخ کرلیتے ہیں۔ ان کے مطابق اللہ رب العزت نے انہیں اتنا نوازا ہے کہ وہ اس پاک ذ ات کا شکر ہی ادا نہیں کرسکتے، ایک اجنبی شہر میں آج ان کا اپنا ذاتی مکان ہے اور ان کے تین بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ اپنے بچوں کو ایک کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ، دوسرے کو امریکہ اور تیسرے کو بینک  میں کیاشیئر بنانا چاہتے ہیں ۔ کیا سیکل کی مرمت کرتے ہوئے کوئی شخص شہر حیدرآباد میں اتنا کماسکتاہے کہ ذاتی گھر خرید سکے اور بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائے۔ اس سوال پر خان صاحب کہتے ہیں کہ کیوں نہیں ایسا ہوسکتا ہے ، وہ خود اس کی مثال ہے اور جب انسان اپنی خواہشات کو اپنی چادر تک ہی محدود رکھے تو یہ ممکن ہے اور سب سے بڑی بات اللہ رب العزت کی ذات ہے جو اپنے بندوں کی محنت اور نیک نیت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ پھر بھی جب ان سے پوچھا گیا کہ ارے خان صاحب بڑے بڑے کاروبار کرنے والا اور ملازمت کرنے والے لوگ بھی اکثر روتے ہیں کہ کیا بھئی آج کل کے زمانے میں اپنا ذاتی گھر خریدنا ممکن نہیں ہے اور آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ ذاتی گھر کے مالک ہیں تو خان صاحب نے وہ بات کہی جو ہمارا منہ بند کرنے کیلئے کافی تھی کہ ارے بھائی صاحب یہی تو مسئلہ ہے نا لوگوں کا ، کاروبار کرنے والے ہوں یا ملازمت کرنے والے، اول تو اپنی چادر کے حساب سے پیر نہیں پھیلاتے اور دوسری اہم بات لوگوں کے سا منے روتے رہتے ہیں ۔ ارے بھلا لوگ نہ تو کچھ دے سکتے ہیں اور نہ آپ سے کچھ چھین سکتے ہیں۔ رونا ہی ہے اپنی تکلیف کا اظہار کرنا ہی تو خدائے تعالیٰ کے روبرو کیوں نہیں روتے؟

ایک تو خدائے تعالیٰ کسی دوسرے کو نہیں بتلائے گا کہ فلاں شخص میرے سامنے آکر رو رہا تھا ، دوسری اہم بات کہ وہ ذات ہماری حاجتوں کو بھی پورا کرتی ہے، کیوں نہ درخواست ایسی  اتھاریٹی کو دی جائے جو ہمارے کاموں کو بھی پورا کرے اور ہماری عزت بھی بچی رہے۔ اتنا سب کچھ سننے کے بعد جب ہم نے ذاتی مکان کے حوالے سے خان صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ 10 برس قبل میں نے شہر حیدرآباد کے مضافات میں (شہر سے 10 کیلو میٹر کے فاصلہ) ایک مکان قرضہ لیتے ہوئے خریدا اور آج الحمد للہ قرضہ بھی چکادیا ہوں اور مکان بھی میرے استعمال میں ہے ۔ انہوں نے وضاحت بھی کہ شہر میں مکان خریدنا مشکل تھا ، میں نے شہر کے باہر مکان خریدا تاکہ کم سے کم گھر کے کرایہ سے تو بچا سکوں۔ 50 برس کی عمر میں اب بھی سیکل بنانے کا کام کیوں کر رہے ہیں؟ اپنا کام بدلا کیوں نہیں؟ اس سوال پر خان صاحب کا کہنا تھا کہ اس کام میں مجھے دلچسپی تھی اور شوق بھی حالانکہ ممبئی میں جب کام کرتا تھا تو میں دوسرا کام کرنے کی کوشش کی لیکن زیادہ کامیابی نہیں ملی ۔ خان صاحب کے مطابق جس کام میں آپ کی دلچسپی ہو ، اسی کام کوکرتے ہوئے آپ آسانی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ز یادہ کمانے کی شکر میں اگر کام کی فیلڈ بدل دی جائے تو فکر دوگنی ہوجاتی ہے اور کمائی بھی غیر یقینی رہتی۔
مہنگائی کے اس زمانے میں آخر سیکل مرمت کر کے کیسے کام چل پاتا ہے ۔ اس سوال پر خان صاحب نے بڑا زبردست جوا دیا کہ آپ لوگ حیدرآبادی دو چیزوں میں مار کھاجاتے ہیں۔ ایک تو کھانے کی چکر میں ، دوسرا شوق پورا کرنے کی چکر میں اور میں چونکہ نقل مکانی کر کے آیا  ہوں اور اپنے آپ کو ان دونوں عادتوں سے محفوظ رکھا ہوا ہوں تو شاید اس لئے میرا کام چل جاتا ہے۔ میں باہر کا کھانا بالکل نہیں کھاتا ہوں ، جب تک کوئی ایمرجنسی نہ ہو دوسرا میں کسی طرح کا کوئی شوق نہیں کرتا ہوں۔ جیسے بلکہ سال گزر جاتے ہیں کبھی کبھار ہی پان کھالینے کا شوق کرتا ہوں اور کچھ نہیں۔

بچوں کی تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ا جنبی شہر میں اپنی عملی زندگی شروع کی اور میں جب حیدرآباد آیا تھا تب میرے جیب میں واپس گھر جانے کا کرایہ بھی نہیں تھا ۔ آج اللہ کے کرم سے سر چھپانے کیلئے ایک گھر ہے اور میں اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دلانے کی ہر کوشش کروں گا اور اگر بچوں کی تعلیم کیلئے مجھے اپنا گھر بھی فروخت کردینا پڑے تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ خان صاحب نہ تو کوئی مولانا اور نہ ہی کوئی مفتی تھے اور نہ ہی کوئی استاد لیکن ان سے بات کر کے مجھے ایسا لگا کہ ’’میں ان کے روبرو چاہے ان کے نقطہ نظر سے اتفاق نہ کروں لیکن تنہائی میں مجھے ان کی باتیں چین سے بیٹھنے نہیں دیں گی‘‘۔
کیا واقعی ہم لوگ کھانے اور شوق کی چکر میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ کھانا ہی ہماری زندگی بن گیا ہے ؟ تھوڑی دیر کیلئے تو خیال آیا کہ ارے چھوڑو کیا اب سیکل مرمت کرنے والے کی باتوں کو دل سے لگاؤں مگر میں اپنے طور پر اپنے اطراف و اکناف جب نظریں دوڑاتا ہوں، تو مجھے احساس ہورہا ہے کہ آخر کچھ تو ہے ہمارے اندر جو ہماری ترقی کے سفر میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ خان صاحب نے کہا کہ ہمارے کھانے کے شوق ؟ واقعی مجھے لگتا ہے ہم لوگ کھانے کیلئے کیا کیا نہیں کر رہے ہیں۔ مجھے ایک قصہ یاد آگیا ۔ ایک غیر ملکی سیاح نے شہر دیکھنے کے بعد کہا کہ ارے جناب آپ کے شہر میں میں نے ایک عجیب بات نوٹ کی کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی آبادی مرکوز ہے، وہاں پر کھانے پینے کی ہوٹلیں اور دیگر فوڈ آؤٹ لٹ زیادہ ہوتے ہیں اور میں جہاں بھی ایسی چیزوں کو دیکھتا ہوں تو آسانی سے سمجھ لیتا ہوں کہ یقیناً یہ مسلمانوں کا محلہ یا اس علاقے میں مسلمان زیادہ ہیں۔ کیا یہ مشاہدہ سچ ہے کہ مسلمانوں کے ہی محلوں میں کھانے پینے کی اشیاء زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ کیا یہ صرف اس لئے ہوتا ہے کہ مسلم گھرانوں میں ہونے والے پکوان کے مقابلے میں باہر کے پکوان کو ترجیح دیتے ہیں۔
لڑکیوں کے سرپرست اور والدین کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ارے جناب ہم نے تو اپنی لڑکی کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ہے ، کوئی معمولی تعلیم نہیں بلکہ ہماری لڑکی نے پروفیشنل تعلیم حاصل کی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے ہماری لڑکی اتنی مصروف رہی کہ ہم لوگوں نے کبھی اس کو کچن میں جانے اور پکوان سیکھنے کو نہیں کہا؟  جب مسلم خواتین سب کچھ سیکھ رہی ہیں اور پکوان کو ہی بھول رہی ہیں تو لازمی بات کہ مسلم محلوں میں پکوان کی دکانیں اور ہوٹلیں عام ہی ہوں گی ۔ خان صاحب نے سیکل کی ریپیرنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا طویل سفر طئے کیا اور ہم ان سے نہیں سیکھنا چاہتے ہیں ۔ ٹھیک ہے مگر میری نظروں کے سامنے 7 ڈسمبر 2015 ء کا ٹائمز آف انڈیا موجود ہے جس میں بھارت یاگنک اور کاپش دامور کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق گجرات کے (Sanand) علاقے میں واقع فیکٹری میں 150 ایسے ورکرس ہیں جو 9 ہزار تا 20 ہزار روپئے کی ماہانہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں اور ان لوگوں کے بینک اکاؤنٹ ایک کروڑ روپئے محفوظ ہیں اور یہ لوگ کروڑپتی ہونے کے باوجود 9 تا 20 ہزار روپئے کی تنخواہ پرمقامی فیکٹری میں بطور لیبر کام کر رہے ہیں۔ میں سونا چاہتا ہوں ، میں حقیقت سے منہ موڑنا چاہتا ہوں، میں خان صاحب کی کہانی بھی قبول نہیں کروں گا اور نہ ٹائمز آف انڈیا  کی رپورٹ پر یقین کروں گا۔ یہودیوں نے سازش کی ہے ، دشمنوں نے جال بنا ہے ، میں کیسے ترقی کرسکتا ہوں ، زمانہ میرے خلاف ہے ،، اللہ کی پناہ !
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
[email protected]

TOPPOPULARRECENT