Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / روزِ اول سے ہی کشمیری عوام کے جذبات کچلنے کی کوشش

روزِ اول سے ہی کشمیری عوام کے جذبات کچلنے کی کوشش

مسئلہ کا بنیادی حل تلاش کرنے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا مشورہ
سری نگر ، 9 اگست (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ کے پُرآشوب حالات میں ہزاروں عام شہریوں کے زخمی ہونے اور قیمتی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ بے چینی اور تناؤ میں ہر گزرتے دن میں ہورہے اضافے پر افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر و سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ نئی دہلی اس بات کو تسلیم کرے کہ کشمیر میں بحران کی بنیاد 1953میں ہوئی وہ نا انصافی ہے جب جموں وکشمیر کے عوام کے جذبات اور احساسات کو دبانے کے لئے یہاں کے جمہوری طور منتخب وزیر اعظم کو غیر قانونی ، غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی دل دکھانے والے بات ہے کہ چند مرکزی لیڈران، جو آج جموں وکشمیر کے سیاسی مسئلہ کی بات کررہے ہیں، اُس وقت خاموش اور لاتعلق رہے جب 2010کے مرکزی مصالحت کاروں کی رپورٹ اور جسٹس صغیر کمیٹی رپورٹ بحث اور اطلاق کے لئے دستیاب تھے ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی میں بیٹھے مذکورہ مرکزی لیڈران جو آج مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی بات کررہے ہیں، ماضی میں اس مسئلہ پر رسمی ،روایتی اور آزمودہ طریقہ کار پر عمل پیرا رہے ۔ ان لیڈران کا موجودہ موقف تسلی بخشی اور قابل ستائش ہے اور مجھے اُمید ہے کہ یہ لیڈران اُس وقت پیچھے ہٹ کر اپنی روایتی پالیسی اور طریقہ کار اختیار نہیں کریں گے

جب اس مسئلے کا سیاسی حل کے اُن کے لئے موزوں نہیں ہوگا۔جموں وکشمیر خصوصاً وادی میں ہر ایک پُرآشوب دور اور موجودہ بے چینی کشمیر یوں کے جذبات اور احساسات کو ایک طویل اور سوچے سمجھے طریقہ کار کے ذریعہ ختم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ جو کچھ 9اگست 1953کو ہوا وہ آج بھی کشمیرکے عوام کو یاد دلاتا ہے کہ نئی دہلی یہاں سیاسی جذبات کو قابو کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کرتی ہے یا پھر وقتی طور پر آگ بجھانے کی پالیسی اختیار کرتی ہے ۔ جب تک مسئلہ کشمیر کے بنیادی حقائق کو تسلیم کرکے اسے سیاسی اور آئینی طور پر حل نہیں کیا جاتا ، تب سے لوگوں کے جذبات اور احساسات کو طاقت کے بل بوتے پر مٹانے کی تمام کوششیں الٹی پڑ جائیں گی۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارلیمنٹ میں وادی کے حالات پر بحث کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ جموں وکشمیر کے مسئلے کی بنیاد تسلیم کرے اور کھلے ذہن اور نیک نیتی کیساتھ 1953کی پوزیشن کی بحالی کیلئے اچھی شروعات کی جائے ۔حیلے بہانوں اور ذمہ داریوں سے بھاگنے کی گمراہ کن پالیسیاں اب اور نہیں چلیں گی۔کشمیر کا مسئلہ کشمیر کسی اور ملک یا پھر دہشت گردی کا مسئلہ نہیں، یہ مسئلہ کشمیریوں کے عزت و آبرو اور اُن کے سیاسی جذبات کا مسئلہ ہے ۔نئی دہلی کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کریں اور تمام گروپوں کو ساتھ لیکر کوئی حتمی حل تلاش کرے ۔اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اسلام آباد کے ساتھ بھی مذاکراتی عمل ضروری ہے تاکہ برصغیر میں دیرپا امن قائم ہوسکے ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو ذاتی طور پر مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے لئے کوششوں کی پہل کرنی چاہئے ، تاکہ اس دیرینہ مسئلہ کا کوئی پائیدار حل سامنے نکل کر آئے ۔ نیشنل کانفرنس صدر نے ودی میں موجودہ تناؤ اور بے چینی کے دوران جاں بحق ہوئے شہریوں کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ اُن کے ساتھ زخمی ہوئے افراد کے ساتھ بھی اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اُن کی فوری صحت یابی کے لئے دعا کی۔
آئی اے ایس عہدیدار کی
جیل میں خودسپردگی
بھوپال۔/9اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ناجائز آمدنی کے معاملہ میں برخاست آئی اے ایس آفیسر ٹینو جوشی نے بھوپال سنٹرل جیل میں خودسپردگی کردی ہے۔ وہ علاج کے لئے تین مہینے کی عبوری ضمانت پر تھیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ اکھلیش تومر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے ٹینو جوشی نے کل جیل میں خود سپردگی کردی۔ انہیں خواتین کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT