Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / روز نامہ’سیاست‘ کے بروقت انکشاف سے قیمتی اوقافی اراضی کا تحفظ

روز نامہ’سیاست‘ کے بروقت انکشاف سے قیمتی اوقافی اراضی کا تحفظ

اراضی ہڑپنے بھینسہ میں مقامی سیاسی جماعت کی کوشش ناکام، این او سی جاری کرنے سے وقف بورڈ کا انکار
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی (سیاست نیوز) روزنامہ سیاست کے بروقت انکشاف اور چوکسی کے باعث بھینسہ کی ایک اہم قیمتی اوقافی اراضی سیاسی قائدین کے حوالے ہونے سے بچ گئی ۔ بھینسہ میں عبداللہ خاں قبرستان کی 3111 مربع گز اوقافی اراضی جو سروے نمبر 330/2 کے تحت ہے، اسے میونسپلٹی کی اراضی قرار دیتے ہوئے مقامی سیاسی جماعت کے قائدین ہڑپنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کا سفارشی خط وقف بورڈ میں داخل کرتے ہوئے نو آبجیکشن سرٹیفکٹ حاصل کرنے کی تیاری مکمل کرلی تھی  اور مقررہ پروگرام کے مطابق آج 11 بجے دن این او سی کی اجرائی عمل میں آسکتی تھی لیکن روزنامہ سیاست نے اراضی پر مقامی جماعت کی نظر کے بارے میں رپورٹ شائع کی۔ جس میں وقف اراضی کو مقامی جماعت کے قائد کی جانب سے اپنی تحویل میں لینے کی سازش کو بے نقاب کیا گیا ۔ سیاست کی رپورٹ میں شائع شدہ تفصیلات کے بعد این او سی کی اجرائی کا معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا اور اس طرح ایک قیمتی اوقافی اراضی غیر مجاز قابضین کے ہاتھ میں جانے سے بچ گئی ۔ وقف بورڈ نے این او سی کی اجرائی سے انکار کرتے ہوئے اس سے متعلق تمام فائلوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ مقررہ پروگرام کے مطابق بھینسہ سے تعلق رکھنے والے مجلس کے قائد این او سی حاصل کرنے صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کے پاس پہنچے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران سیاست میں شائع شدہ رپورٹ موضوع بحث رہی اور ہر کوئی تفصیلات کے انکشاف پر حیرت زدہ تھا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے معاملہ کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اسے چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی سے رجوع کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کے قائد نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے روبرو وقف بورڈ کے ان ملازمین کے ساتھ تلخ کلامی کی جنہوں نے وقف ریکارڈ کے مطابق اس اراضی کو قبرستان ثابت کیا تھا ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے مقامی جماعت کے قائد کو ملازمین کے ساتھ سخت گفتگو سے منع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فائلوں کا وہ جائزہ لیں گے جس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا ۔ قبرستان کی اس اراضی پر فی الوقت 40 ملگیات تعمیر کی گئی ہے اور وقف اراضی کو ہڑپنے کیلئے میونسپلٹی نے کمپاؤنڈ وال کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے ۔ کمپاؤنڈ وال کی تعمیر کیلئے وقف بورڈ سے این او سی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ اراضی میونسپلٹی کی ہے تو پھر وقف بورڈ سے این او سی کی کیا ضرورت ؟ دوسری بات یہ کہ میونسپلٹی کو کمپاؤنڈ وال کی تعمیر کیلئے 21 لاکھ روپئے خرچ کرنے کا خیال کیوں آیا۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں میں مقامی جماعت کے قائد سے ان دستاویزات کو پیش کرنے کی خواہش کی جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ میونسپلٹی نے پٹہ دار سے یہ اراضی خریدی ہے۔ وہ اس طرح کی کوئی دستاویز پیش کرنے سے قاصر رہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پٹہ دار نے خود عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ یہ اراضی قبرستان کی ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مقامی جماعت کے جس قائد کی اس اراضی پر نظر ہے ، وہ خود بھی سابق میں وقف اراضی ثابت کرنے کیلئے عدالت سے رجوع ہوچکے ہیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے تمام متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اراضی کے بارے میں فائلس کے ساتھ رجوع ہوں۔ ضرورت پڑنے پر وہ بھینسہ کا دورہ کرتے ہوئے اراضی کا معائنہ کریں گے ۔ اسی دوران سیاست میں رپورٹ کی اشاعت اور این او سی کے حصول میں مقامی جماعت کی ناکامی پر بھینسہ کے مسلمانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی مسلمانوں نے قیمتی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں سیاست کی بروقت چوکسی کیلئے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کو مبارکباد دی۔ اس اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے جناب زاہد علی خاں سے ربط قائم کیا اور مقامی جماعت کی جانب سے اراضی کو ہڑپنے کی سازش سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ اب یہ معاملہ 23 مئی کو وقف بورڈ کے اجلاس میں پیش کیا جائے اور مقامی جماعت اس بات کی کوشش کرے گی کہ اپنے حامی ارکان کی مدد سے این او سی کے حق میں بورڈ کو راضی کرے۔

TOPPOPULARRECENT