Monday , March 27 2017
Home / Top Stories / ’’روز وہی ڈرامہ‘‘ پارلیمنٹ میں ہنگامہ پر اسپیکر کا اظہار برہمی

’’روز وہی ڈرامہ‘‘ پارلیمنٹ میں ہنگامہ پر اسپیکر کا اظہار برہمی

سماج وادی پارٹی رکن اکشے یادو نے کاغذات پھاڑ کر فضاء میں لہرائے، راجیہ سبھا میں متحدہ اپوزیشن نے کارروائی روک دی
نئی دہلی۔24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں آج کارروائی تقریباً ایک گھنٹے کے لئے روک دی گئی۔ دن کی کارروائی کا جیسے ہی آغاز ہوا نوٹوں کی منسوخی کے خلاف متحد اپوزیشن نے پھر ایک بار اس مسئلہ پر بحث کرنے کے لئے پرشور مطالبہ کیا۔ تحریک التوا کے تحت بحث کے لئے اپوزیشن کی ضد کے درمیان سماج وادی پارٹی کے رکن اکشے یادو نے سکریٹری جنرل کی کرسی کے قریب چند کاغذات چاک کرکے فضاء میں لہرادیئے جو ایوان کے اندر ادھر ادھر بکھر گئے۔ کانگریس ترنمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے کئی ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ کر مخالف حکومت نعرے لگائے۔ اس صورتحال سے بظاہر ناراض اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ روزکا وہی ڈرامہ ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے کارروائی دوپہر تک کے لئے ملتوی کردیا۔ یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہوئی کہ سماج وادی پارٹی رکن کی جانب سے چاک کردہ کاغذات کے ٹکڑوں پر سکریٹری جنرل کی میز سے اٹھایا گیا تھا۔

جیسے کرسی صدارت کی جانب سے سابق چیف منسٹر اترپردیش رام نریش یادو اور کرناٹک موسیقار ایم بالکرشنن کے انتقال پر تعزیتی پیام پیش کرنے کے فوری بعد کانگریس، ترنمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ارکان نے نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر تحریک التوا پر زور دیا۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ آج بھی وہی مطالبہ، ہر روز وہی ڈرامہ، نہیں نہیں ایسا نہیں، کہہ کر کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے فوری بعد کانگریس بائیں بازو پارٹیوں سماج وادی اور ترنمول کانگریس پارٹی کے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرہ بازی شروع کی۔ ایسے میں ایوان نے وقفہ صفر کا آغاز کیا۔ اس موقع پر سرکاری بنچوں پر حکمراں پارٹی کے ارکان غائب تھے۔ انا ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اٹھ کھڑے ہوئے لیکن وہ دیگر ارکان کے ساتھ ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ یادو نے جیسے ہی کاغذات کو چاک کردیا اسپیکر نے ایوان کی کارروائی فوری ملتوی کردی۔ راجیہ سبھا میں بھی متحدہ اپوزیشن نے کارروائی میں خلل پیدا کردیا۔ یہ ارکان مسلسل دبائو ڈال رہے تھے کہ کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر ایوان میں وزیراعظم نریندر مودی کو بیان دینا چاہئے۔ اس بحث کا جواب دینا چاہئے۔

اگرچہ کہ حکمراں پارٹی کے ارکان نے بھی نعرہ بازی شروع کی اور وہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو تقریر سے روکنے کی کوشش کررہے تھے۔ نوٹوں کو بند کردیئے جانے کے خلاف منموہن سنگھ اسے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ منظم لوٹ مار ہورہی ہے۔ راجیہ سبھا کے نائب صدرنشین پی جے کورین نے دوپہر تک کارروائی ملتوی کردی۔ اپوزیشن اس بات پر قطعی راضی نہیں تھی کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو بند کرنے سے عام عوام کو ہونے والی دشواریوں پر بحث دوبارہ شروع کرنے نائب صدر نشین تیار نظر آرہے تھے۔ اس موقع پر سرکاری بنچوں پر موجود ارکان نے منموہن سنگھ کو بولنے کی اجازت نہیں دی۔ ایوان میں دن بھر کی کارروائی کے لئے جیسے کاغذات پیش کئے گئے اور وقفہ صفر شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ سابق وزیراعظم اس موضوع پر بولنا چاہتے ہیں تو اس درخواست کو نائب صدرنشین نے قبول کرلیا۔ تاہم قائد ایوان اور وزیر فینانس ارون جیٹلی نے منموہن سنگھ کی مخالفت کی اور کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر مباحث سے باہر انہیں بولنے کا موقع دیا جائے۔ منموہن سنگھ اس بحث کے بعد حصہ لے سکتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT