Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / روس، شام میں اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ مجتمع کرے گا

روس، شام میں اپنی فوجی طاقت کو دوبارہ مجتمع کرے گا

شام کی سرکاری فوج کی مدد جاری رکھنے کا عہد، فوج کی دستبرداری عارضی، صدر روس پوٹن کا بیان
ماسکو 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شام میں اپنی فوجی طاقت کو چند منٹوں میں مجتمع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے صدر روس ولادیمیر پوٹن نے کہاکہ اگر ضرورت پڑے تو شام میں سرکاری افواج کی مدد جاری رکھی جائے گی۔ روسی افواج کی دستبرداری عارضی عمل ہے۔ بیرونی انتہا پسند گروپوں سے مقابلہ کرنے کا ہم عہد کرچکے ہیں۔ پوٹن نے کہاکہ شام سے اِس ہفتہ کے اوائل میں ہم نے بعض جنگی جہازوں کو واپس طلب کرلیا ہے لیکن روس کے پاس خاطر خواہ فوج ہے اگر ضرورت پڑے تو داعش کے خلاف وہ اپنی لڑائی کو پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا۔ نصرہ فرنٹ اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کے خلاف بھی روسی افواج کمربستہ ہے۔ شام کی فوج کو ہتھیاروں کے علاوہ فوجی تربیت اور کارروائی کرنے کی صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کا کام بھی جاری رہے گا۔ ترکی، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو بظاہر دھمکی دیتے ہوئے ان ملکوں نے شام کو اپنی فوج روانہ کرنے کے امکان کے بارے میں سوال کیا تھا، پوٹن نے اِس بات پر زور دے کر کہاکہ روس کی فوج شام کے تعلق سے ہمیشہ چوکس و چوکنا رہے گی۔ اِس کا ایر ڈیفنس میزائیل سسٹم ہمیشہ تعینات رہے گا۔ روس کے پاس طاقتور میزائیلس موجود ہیں۔ کسی بھی نشانے کو ضرب لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صدر روس پوٹن کے یہ بیانات شام میں ایک مضبوط فوجی طاقت کی موجودگی کی برقراری کے لئے اِن کے ارادوں کو آشکار کرتے ہیں۔ صدر شام بشارالاسد کی فوج نے بھی امن مذاکرات سے قبل غیرمعمولی پیشرفت کی ہے۔ شام کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے جاری سفارتی کوششوں میں روس بھی ایک اہم رول رکھتا ہے۔ روسی فوجی عہدیداروں کے اعزاز میں منعقدہ کریملن تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے پوٹن نے کہاکہ شام میں جاری فوجی کارروائیوں سے روسی قیادت کے عزم کو تقویت حاصل ہوئی ہے اور روس پوری ذمہ داری کے ساتھ شام کے شہریوں کے دشمنوں کو ختم کردے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ شام میں ہماری فوجی کارروائی پر تقریباً 480 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے شام کی فوج کو بھی مؤثر تربیت دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ روسی مسلح افواج کو طویل مسافتی کروز میزائیلس کے تجربہ کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارت دفاع نے پہلے ہی اِن میزائیلس کی تیاری کے لئے فنڈس مختص کئے ہیں۔

شمالی شام میں وفاقی خطہ کیلئے کردش کا اعلان
ریمیلن 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شام کے کردش طبقہ نے اپنے زیرقبضہ علاقوں کو وفاقی خطہ قرار دیا ہے۔ جنگ و جدال سے متاثرہ اِس ملک کے شمالی حصہ میں اِس وقت کرد باغیوں کا قبضہ ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن اتحاد نے کردوں کے اِس اقدام کو مسترد کردیا ہے۔ کرد باشندوں کے اِس اعلان سے پڑوسی ملک ترکی برہم ہوجائے گا اور 5 سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لئے جنیوا امن مذاکرات پیچیدہ ہوجائیں گے۔ امریکہ نے داعش کے خلاف لڑائی کے لئے کرد باغیوں کی زبردست پشت پناہی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT