Friday , September 22 2017
Home / عرب دنیا / روسی طیارہ حادثہ اوردولت اسلامیہ کے دعویٰ کی تحقیقات

روسی طیارہ حادثہ اوردولت اسلامیہ کے دعویٰ کی تحقیقات

EL-ARISH, NOV 1 :- Egypt's Prime Minister Sherif Ismail (4rth R) listen to Egyptian team from police and army at the remines of a plane crash at the desert in central Sinai near El Arish city north of Egypt, October 31, 2015. The Russian airliner carrying 224 passengers crashed into a mountainous area of Egypt's Sinai peninsula on Saturday shortly after losing radar contact near cruising altitude, killing all aboard. REUTERS/UNI PHOTO-10R

روس اور فرانس کی مدد سے مصری فوج کی تحقیقات کا آغاز ‘ دولت اسلامیہ کا دعویٰ مشکوک
قاہرہ ۔یکم نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بین الاقوامی تحقیقات کنندوں نے آج روسی ایئر بس کی مصر کے جزیرہ نمائے سینائی میں حادثہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا جس میں طیارہ میں سوار 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ بلیک باکسیس دستیاب ہونے پر انہیں تجزیہ کیلئے روانہ کردیا گیا جب کہ دولت اسلامیہ سے الحاق رکھنے والے ایک گروپ نے جٹ طیارہ کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ مصر میں دولت اسلامیہ سے ملحق گروپ صحرا سینائی  میں مہلک شورش پسندی شروع کر رکھی ہے ۔ اُس نے دعویٰ کیا تھا کہ طیارہ کو جزیرہ نمائے سینائی کے پہاڑی علاقہ میں اُسی نے مار گرا ہے لیکن مصر اور روس دونوں کی حکومتوں نے اس دعوے کو مسترد کردیا ۔ وزیر اعظم مصر شریف اسمعیل نے کہا کہ ماہرین نے توثیق کی ہیکہ عسکریت پسند کسی طیارہ کو جو 30ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کررہا ہو مار کر گرانا کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔

روس کے وزیر حمل ونقل میکسم سوکولوف نے کہا کہ اس دعویٰ کو درست نہیں سمجھا جاسکتا ۔ مصری فوج کے ترجمان محمد سمیر نے بھی اس دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وہ جو چاہے بیانات جاری کرسکتے ہیں لیکن موجودہ مرحلہ پر دہشت گردوں کے طیارہ کو مار گرانے کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہے ۔ ہمیں حقیقی وجوہات کا شہری ہوا بازی اتھارٹی کی روسی عہدیداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعہ تحقیقات کی تکمیل کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے لیکن فوج کو اس دعویٰ کی  صداقت پر شبہ ہے ۔ روسی اور فرانسیسی تحقیقات کنندوں نے مشترکہ طور پر مصری زیرقیادت تحقیقات میں تعاون و اشتراک کیا ہے ۔ شہری ہوا بازی کی سب سے بڑی کمپنی کے ماہرین بھی تحقیقات میں تعاون کررہے ہیں ۔ تحقیقات کنندوں کا کہنا ہے کہ وہ ایندھن کے نمونوں کی جانچ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT