Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / روسی فوج کی شام سے واپسی شروع، امریکہ کا محتاط ردعمل

روسی فوج کی شام سے واپسی شروع، امریکہ کا محتاط ردعمل

روسی اقدام سے قبل اوباما اور پوتن کی فون پر بات چیت ۔ عسکری سازوسامان کا بھی شام سے تخلیہ ۔ ہم نے اپنے مقاصد کی تکمیل کرلی : روس
ماسکو ؍ واشنگٹن ، 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) روس کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کے احکامات پر شام سے روسی فوج کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ روس کے اصل ارادے کیا ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے روسی اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے ستائش کی ہے۔ روسی صدر نے پیر کو غیر متوقع طور پرشام سے روسی افواج کے ’مرکزی حصے‘ کو واپس بلانے کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ ان کے ملک نے شام میں اپنے اہداف حاصل کرلئے ہیں۔ روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ شام میں فضائی کارروائیوں میں شریک روسی طیاروں کی پہلی ٹکڑی واپس روس روانہ ہوگئی ہے۔ اس سے قبل روس کے سرکاری ٹی وی پر نشر کردہ مناظر میں شام میں موجود عسکری سازوسامان کو طیاروں پر لادتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ روسی حکام کے مطابق شام سے روسی افواج کی واپسی کے باوجود شامی صوبے لاذقیہ میں روس کے ہمیمم ایئربیس اور بحیرہ روم میں طرطوس میں بحری اڈے پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ امریکی حکام نے روس کے جزوی فوجی انخلا کے اعلان کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ ’’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ روس کے اصل ارادے کیا ہیں۔‘‘ امریکی صدر براک اوباما نے اس سلسلے میں روسی صدر سے پیر کی شب فون پر بات بھی کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں قائدین نے ’’شام سے روسی افواج کے جزوی انخلا اور جنگی اقدامات کی مکمل روک تھام کیلئے درکار اقدامات پر بات کی‘‘۔

بیان کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ شام میں تشدد کے خاتمے کیلئے سیاسی تبدیلی ضروری ہے۔ روسی صدر کی جانب سے شام سے افواج کے انخلا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں شام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ روس، شام کے صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی ہے اور شامی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے سے متفق ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجوں کا انخلا ’’زمینی صورتحال سے مطابقت رکھتا ہے‘‘۔ روسی صدر نے کہا تھا کہ صدر بشار الاسد کی حمایت میں روس کی بمباری مہم نے اس تنازعہ کا رخ بدلا اور وہ حالات پیدا کئے کہ اب قیامِ امن کیلئے بات چیت ہو رہی ہے۔

ستمبر 2015ء میں شام کی خانہ جنگی میں روسی مداخلت سے اس جنگ میں شامی حکومت کا پلڑا بھاری ہوگیا تھا اور اس کے بعد حکومتی افواج نے باغیوں کے قبضے سے کئی علاقے چھڑوائے تھے۔ روس شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بارے میں دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ مغربی طاقتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ روس بشارالاسد کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روس، شام میں فوجی مداخلت کے ذریعے صدر بشار الاسد کی پوزیشن مضبوط کرنا، اسٹریٹیجک اہمیت کے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کا کردار ہو اور اس نے یہ سب اہداف حاصل کر لئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT