Wednesday , May 24 2017
Home / دنیا / روسی مداخلت کی شفاف تحقیقات کیلئے رابرٹ ملر خصوصی کونسل مقرر

روسی مداخلت کی شفاف تحقیقات کیلئے رابرٹ ملر خصوصی کونسل مقرر

:   امریکی صدارتی انتخابات    :

پارٹی وفاداریوں سے قطع نظر اعلیٰ سطحی امریکی قانون سازوں کی جانب سے تقرری کا خیرمقدم

واشنگٹن ۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایف بی آئی کے سابق ڈائرکٹر رابرٹ ملر کو 2016ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت اور روس و صدر ٹرمپ کی انتخابی مہمات کے دوران روابط کی تحقیقات کیلئے خصوصی کونسل مقرر کیا گیا ہے۔ یاد رہیکہ گذشتہ ایک ہفتہ وائیٹ ہاؤس کیلئے انتہائی تکلیف دہ گزرا ہے جہاں صدر ٹرمپ نے ایف بی آئی ڈائرکٹر جیمس کومی کو برطرف کردیا جو اس معاملہ کی وفاقی تحقیقات کررہے تھے۔ اس تکلیف دہ ہفتہ کے بعد ہی ڈپٹی اٹارنی جنرل راڈ روزنٹین نے 72 سالہ رابرٹ ملر کو مقرر کیا جس کے بارے میں روزنٹین کا استدلال یہ ہیکہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی مکمل تحقیقات کی جائے اور وہ بھی ایسی کہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہ جائے جس میں روسی حکومت اور صدر ٹرمپ کی انتخابی مہمات کے نگرانکاروں کے درمیان شخصی روابط کی تحقیقات بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر اس تقرری پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ یقینی طور پر اس معاملہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے جس سے یہ بات ازخود سامنے آجائے گی کہ صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ وہ ہمیشہ سے یہ کہتے آئے ہیں کہ اس معاملہ کی گہرائی سے تحقیقات کروائی جائے تب کہیں جاکر عہدیداروں اور عوام کے ذہنوں سے شک و شبہات کو دور کیا جاسکے گا۔ اب مجھے اس بات کا انتظار ہیکہ یہ معاملہ جلد از جلد اختتام پذیر ہو کیونکہ بحیثیت صدر مجھے اور بھی کئی ذمہ داریاں نبھانی ہیں اور میں امریکی عوام کے مفاد کی خاطر اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔ امریکہ کا خوشحال مستقبل اس وقت ان کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری طرف مسٹر روزنٹین نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی کونسل کی تقرری بیحد ضروری تھی کیونکہ امریکی عوام کو باور کروانے کیلئے ضروری ہیکہ کونسل کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائیں اور اس طرح عوام کو مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا ملک قانون کی پاسداری کرنے والا ملک ہے اور عوام کو بھی یہی پیغام دیا جائے گا کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں۔ سرکاری عہدیدار بھی ملک کے قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ رابرٹ ملر کو تحقیقات کیلئے تمام وسائل دستیاب رہیں گے اور قوی امید ہیکہ وہ تمام قوانین کو ملحوظ رکھتے ہوئے حقائق کو نظرانداز نہ کرتے ہوئے ایک منصفانہ نتیجہ پیش کریں گے۔ رابرٹ ملر نے ایف بی آئی کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے 12 سال خدمات انجام دی۔ قبل ازیں موصوف نارتھرن ڈسٹرکٹ آف کیلیفورنیا کے اٹارنی تھے جبکہ خانگی پریکٹس کے ذریعہ اسی درمیان انہوں نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے۔ یاد رہیکہ منگل کے روز اے بی سی نیوز نے یہ خبر دی تھی کہ ایف بی آئی کے ڈائرکٹر جیمس کومی کو صدر ٹرمپ نے ماہ فروری میں سابق قومی سلامتی مشیر مائیکل فلائن کے خلاف تحقیقات مسدود کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ایوان کے اسپیکر پال ریان نے کہا کہ شفاف اور آزادانہ تحقیقات ان کی بھی اولین ترجیح ہے کیونکہ حقائق کی تلاش ہمیں کہاں لے جاتی ہے، ہمیں بس یہی دیکھنا ہے۔ پارٹی وفاداریوں سے قطع نظر اعلیٰ سطحی امریکی قانون سازوں نے بھی تحقیقات کیلئے رابرٹ ملر کی تقرری کا خیرمقدم کیا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر انفرینکس نے کہا کہ رابرٹ ملر کی تقرری ایک بہترین فیصلہ ہے اور تحقیقات کے بعد امریکی عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT