Monday , September 25 2017
Home / کھیل کی خبریں / روس سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کا الزام تسلیم کر لے: واڈا

روس سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کا الزام تسلیم کر لے: واڈا

روس نے ملک میں کبھی سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کا پروگرام نہیں چلایا ، سابق وزیر کھیل سمرنوف کی وضاحت

گلاسگو ، 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی کے حکام نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ پروگرام کو چلانے کے الزام کو تسلیم کر لے تاکہ کھیلوں کی دنیا کا اعتماد بحال ہو سکے۔ روس کے سابق وزیر کھیل اور ملک میں انسداد ڈوپنگ کمیشن کے سربراہ ویتلے سمرنوف نے کہا ہے کہ انھوں نے کبھی سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کا پروگرام نہیں چلایا۔ ڈوپنگ کا سکینڈل افاش ہونے پر واڈا یعنی عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی نے زور دیا تھا کہ روسی اتھلیٹس پر ریو اولمپکس میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے تاہم اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی نے ہرکھیل کی انفرادی فیڈریشنز سے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا روسی اتھلیٹس مقابلوں میں شرکت کے اہل ہیں یا نہیں۔ واڈا کے فاؤنڈیشن گروپ کے گلاسگو میں ہونے والے اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ ڈوپنگ کی پروفیسر رچرڈ مکلیرن کی سربراہی میں کی گئی تحقیقات کا دوسرا حصہ 9 ڈسمبر کو جاری کیا جائے گا۔ ڈوپنگ ایجنسی کے صدر گریگ ریڈی نے کہا کہ’ وہ پر اعتماد ہیں کہ واڈا روس کے ساتھ اس معاملے پر پیش رفت کر رہی ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ مکلیرن کمیشن نے نشاندہی کی تھی کہ ماسکو کی لیبارٹری اور وزارتِ کھیل میں ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔’ خیال رہے کہ رواں برس واڈا کی جانب سے کی جانے تحقیقات میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ روسی کھیلوں کی کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونوں میں ہیرا پھیری ‘کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی کی۔’ یہ تحقیق روس کی انسداد ڈوپنگ کی لیبارٹری کے سابق سربراہ کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کی وجہ سے کروائی گئی۔ گرگوری روڈچنکاف کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوچی میں منعقد کھیلوں کے دوران درجنوں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کی تھیں۔ ان الزامات کو ثابت کرنے کیلئے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ رچرڈ مکلیرن نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں واقع انسداد ڈوپنگ لیبارٹری میں رکھے جانے والے 2014ء کی سوچی کھیلوں کے پیشاب کے نمونوں کو لندن میں واقع ایک اور لیبارٹری میں یہ دیکھنے کے بھیجا کہ کیا بوتلوں پر کھرچنے نے نشان تھے یا نہیں۔ مکلیرن نے کہا تھا کہ بوتلوں کو ’’100 فیصد کھرچا گیا تھا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT