Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / روس و ترکی کے مابین کشیدگی

روس و ترکی کے مابین کشیدگی

صیاد نے کس ہشیاری سے اک رنگیں پھندا ڈالا ہے
ہر شخص یہی کہکر خوش ہے اب کوئی اسیر دام نہیں
روس و ترکی کے مابین کشیدگی
ترکی کی جانب سے روس کے جنگی طیارہ کو مار گرائے جانے کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ روس نے ترکی کو باضابطہ دھمکیاں دینی شروع کردی ہیں۔ ترکی کی جانب سے بھی ان دھمکیوں کو خاطر میں لائے بغیر ان کا جواب دیا جا رہا ہے اور حالات قابو میں ہونے کی بجائے مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ رو نے جنگی طیارہ کو مار گرائے جانے کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تعبیر کیا تھا ۔ ترکی کا کہنا تھا کہ اس نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر روسی طیارہ کو مار گرایا تھا اور اسے بارہا انتباہ دیا گیا تھا لیکن اس طیارہ نے انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی ۔ روس نے اس طیارہ کو دی جانے والی وارننگ کا آڈیو ٹیپ بھی جاری کرکے اپنے موقف کو واضح کرنے کی کوشش کی تھی لیکن روس اس جواز کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور خاص طور پر روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے اس واقعہ کے بعد سے جارحانہ تیور اختیار کئے ہیں۔ اس واقعہ میں ایک روسی پائلٹ زندہ بچ گیا تھا جس کا کہنا ہے کہ اس طیارہ کو ترکی کی جانب سے کوئی انتباہ نہیں دیا گیا تھا ۔ اس واقعہ نے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو انتہائی کشیدہ کردیا ہے اور حالات میں کوئی بہتری پیدا ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔ روس نے ترکی کے خلاف جہاں معاشی تحدیدات کا اعلان کیا تھا وہیں اب صدر پوٹین نے بالواسطہ طور پر انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ترک قیادت کو ‘ جس نے روسی طیارہ کو مار گرایا تھا ‘ اپنے اس اقدام پر پچھتانا پڑیگا ۔ یہ ایسے حالات ہیں جو دو اہم اور ذمہ دار ممالک کیلئے مناسب نہیں ہوسکتے ۔ اس سے دونوں ملکوں کے مابین دوریوں میں اور تلخیوں میں اضافہ ہوتا جار ہا ہے اور اس کا فائدہ مفاد پرست عناصر حاصل کرسکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین تلخ کلامی کا جو سلسلہ چل رہا ہے وہ بھی پرامن دنیا کیلئے اچھا نہیں ہے ۔ اب دونوں ملک ایک دوسرے پر تخریب کار گروپ داعش سے روابط اور اس کے ساتھ مل کر تیل کی غیرقانونی تجارت کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ہر ملک کا یہ دعوی ہے کہ وہ دوسرے کے خلاف اس تعلق سے ثبوت پیش کرسکتا ہے تاہم کسی نے بھی اب تک ایسا ثبوت پیش نہیں کیا ہے ۔
روس کا یہ بھی ادعا ہے کہ امریکہ نے ہی ترکی کو اس طیارہ کے روٹ وغیرہ کی تفصیلات سے واقف کروایا تھا اور اس نے ترکی کو طیارہ مار گرانے میں مدد دی تھی ۔ یہ امریکہ اور روس کے مابین سرد جنگ کی مثال ہے ۔ اسی سرد جنگ نے دنیا میں مختلف مسائل پیدا کئے ہیں اور ان کی وجہ سے دنیا سے امن و سکون ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ اب داعش سے روابط کے الزامات سامنے آ رہے ہیں جو انتہائی سنگین نوعیت کے کہے جاسکتے ہیں۔ کسی دہشت گرد و تخریب کار گروپ کے ساتھ ایک ملک کے تعلقات یقینی طور پر انتہائی سنگین عواقب کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ روس اور ترکی نے ایک دوسرے پر داعش سے روابط اور اس کے ساتھ مل کر تیل کی غیر قانونی تجارت کا الزام عائد کرتے ہوئے حالات کو اور بھی سنگین کردیا ہے ۔ یہ ایسی صورتحال سے جو ایک جال کی طرح دونوں ملکوں کے اطراف تنگ ہوتی جا رہی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد متاثر ہو رہی ہے ۔ دونوں ملکوں کا یہ ادعا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پوری سنجیدگی سے حصہ لے رہے ہیں۔ اگر وہ آپس میں اختلافات کو ہوا دیتے رہیں اور حالات کو قابو میں کرنے کی بجائے انہیں مزید بگاڑا جاتا ہے تو پھر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اور لڑائی کا سلسلہ رک جائے گا اور اس کا لازمی فائدہ دہشت گردوں اور تخریب کاروں کو ہوگا جو دنیا کا امن و سکون متاثر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد اگر متاثر ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ نہ صرف روس اور ترکی کو بلکہ ساری دنیا کو بھگتنا پڑسکتا ہے ۔
ترکی نے حالانکہ روس کے ساتھ اپنے دیرینہ روابط کو دیکھتے ہوئے تعلقات میں پیدا ہوئی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور بات چیت کا آغاز کرنا چاہا ہے لیکن روس نے جارحانہ تیور اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس کا موقف سخت گیر ہے ۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف جو سنگین الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان کا سلسلہ بھی فوری روکنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک یہ سلسلہ نہیں رکے گا اس وقت تک کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں کامیابی نہیں مل سکتی ۔ روس نے ترکی کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کا بھی جائزہ لیا ہے اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پھر حالات ساری دنیا میں بگڑجائیں گے اور انہیں قابو میں کرنا کسی کے بس کی بات نہیں رہ جائیگی ۔ دونوں ملکوں کو شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ذمہ داری کے ساتھ حالات کی سنگینی کو محسوس کرنا چاہئے اور تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT