Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / روس کو اسد حکومت کی تائید سے باز رکھنے کے راستے ہنوز کھلے

روس کو اسد حکومت کی تائید سے باز رکھنے کے راستے ہنوز کھلے

امریکی صدر ٹرمپ کی برطانوی وزیراعظم تھریسامے اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے فون پر بات چیت
واشنگٹن ۔ 11 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا کہ آج بھی روس کو یہ باور کروانے کا راستہ کھلا ہوا ہے کہ اسے یہ باور کروایا جائے کہ وہ جنگ زدہ بشار الاسد کی تائید کا سلسلہ بند کردے ۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے تھریسامے اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو فون کرتے ہوئے شام میں ہوئے کیمیکل حملوں پر امریکی ردعمل پر تبادلہ خیال کیا ۔ کیمیکل حملوں میں 87 افراد بشمول 31 بجے ہلاک ہوگئے تھے ۔ تھریسامے اور مرکل نے علحدہ علحدہ طور پر فون پر بات کرتے ہوئے امریکہ کے شام پر حملہ کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے اپنی تائید ظاہر کی تھی اور ٹرمپ کو یہ باور کروایا کہ بشار الاسد کو بھی جوابدہ بنایا جائے ۔ وزیراعظم مے اور صدر ٹرمپ نے اس بات پر باہمی رضامندی کا اظہار کیا کہ اب بھی روس کو یہ باور کروانے کا راستہ کھلا ہے کہ وہ بشار الاسد حکومت کی تائید سے دستبردار ہوجائے کیوں کہ ایسا کرنا روس کا شام سے اتحاد کسی بھی طرح اس کے اسرٹیجیک مفاد میں نہیں ہے ۔ تھریسامے کے ترجمان نے آج لندن میں یہ بات کہی ۔ لہذا فیصلہ یہ ہوا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے ہم منصبوں نے یہ عزم کرلیا ہے کہ وہ ایکدوسرے سے رابطہ میں رہیں گے اور دیگر بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کرتے رہیں گے ۔ دریں اثناء وائیٹ ہاؤس نے ان تمام رپورٹس کو مسترد کردیا کہ روس کو شام کے ذریعہ کیے جانے والے کیمیکل حملہ کی پیشگی اطلاع تھی ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار کے بیان کے مطابق کہ امریکی انٹلی جنس اس وقت ایسی کوئی توثیق نہیں کرسکتی کہ روس کو شام کے ذریعہ کیے جانے والے کیمیکل حملوں کی پیشگی اطلاع تھی ۔ وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری شین اسپائسر نے کہا کہ اس وقت روس اور امریکہ کا ایک مشترکہ ایجنڈہ ہے اور وہ ہے دولت اسلامیہ کا مکمل خاتمہ ۔ روس اور امریکہ دولت اسلامیہ کو شکست دینے باہمی تعاون کو زائد اہمیت دے رہے ہیں اور اسے شکست دینے ہم کوئی بھی مشترکہ کارروائی کرسکتے ہیں ۔ ایسے موقع پر روس اور امریکہ کے درمیان اگر غلط فہمی پیدا نہ کی جائے تو بہتر ہے ۔ اسپائسر نے اپنی بات جاری رکھے ہوئے کہا کہ نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ صدر کے عہدہ پر فائز ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ وہ اس وقت دو مدعوں پر زائد توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ۔ ایک امریکہ کو محفوظ رکھنا اور دوسرے امریکہ کی معیشت کو اس قدر طاقتور بنانا کہ ہر کسی کے پاس ملازمت ہو ، کام ہو ۔ اگر روس یا کوئی اور ملک امریکہ کو اپنے مندرجہ بالا دونوں مقاصد کے حصول کے لیے تعاون کرتا ہے تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے لیکن اس کے باوجود  زیادہ اہمیت دولت اسلامیہ کے خاتمہ کو دی جائے گی ۔ دوسری طرف دو ری پبلکن قانون سازوں سینیٹر مارکو روبیو اور کانگریس مین پیٹرروسکام نے صدر ٹرمپ کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے کہا کہ صدر موصوف ایران کو طیاروں کی فروخت معطل کردیں کیوں کہ ایران مسافر طیاروں کے ذریعہ اپنی دہشت گردانہ نیٹ ورک کو فروغ دے رہا ہے اور شام میں اسد حکومت کو ہتھیار فراہم کررہا ہے لہذا صدر موصوف ایران کو طیاروں کی فروخت کا لائسنس منسوخ کردیں ۔اب وقت اگیا ہے کہ امریکہ ایران  ایرلائنز پر تحدیدات عائد کرے اور تمام امریکی کمپنیوں پر ایران کو طیارے فروخت کرنے پر امتناع عائد کردے کیوں کہ مسافر طیاروں کا استعمال غیر قانونی فوجی مقاصد کے لیے کیا جارہا ہے ۔ سینئیر جیک ریڈ نے بھی اسد حکومت کے خلاف امریکہ کے کروز میزائیل حملے کی تائید کی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT