Saturday , September 23 2017
Home / دنیا / روس کیخلاف تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کرنے ٹرمپ کیخلاف شواہد موجود

روس کیخلاف تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کرنے ٹرمپ کیخلاف شواہد موجود

ہندوستانی نژاد سابق وفاقی پراسیکیوٹر پریت بھرارا کا انٹرویو
واشنگٹن ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی نژاد سابق اعلیٰ سطحی امریکی وفاقی پراسیکیوٹر پریت بھرارا نے ادعا کیا کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے کافی ثبوت موجود ہیں اور اس بنیاد پر ان پر مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔ بھرارا نے یہ ادعا بھی کیا کہ انہیں برطرف کرنے سے قبل ٹرمپ نے ان کے (بھرارا) ساتھ تعلقات خوشگوار کرنے کی کوشش کی تھی اور ٹرمپ نے تقریباً وہی طریقہ کار اختیار کیا تھا جو انہوں نے ایف بی آئی کے ڈائرکٹر جیمس کومی کو برطرف کرنے سے قبل اختیار کیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے بھرارا ان 45 اٹارنیز میں شامل ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے جاریہ سال کے اوائل میں مستعفی ہوجانے دباؤ ڈالا تھا۔ اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے بھرارا نے کہا کہ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے کافی شواہد موجود ہیں کہ کس طرح وہ تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے برطرف کئے جانے کے بعد پہلی بار پھرارا نے ایک ٹیلیویژن انٹرویو کے دوران یہ باتیں کیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس طرح کسی کو بھی عہدہ سے کیسے ہٹایا جاسکتا ہے۔ کیا آپ کے پاس ایسے اختیارات ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو ’’مجرمانہ‘‘ طور پر ہٹایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہٹانے والے شخص کو ’’قانونی تحفط‘‘ حاصل ہوگیا ہے یا اس کے خلاف کوئی فوجداری کا کیس دائر نہیں کیا جاسکتا۔ بھرارا نے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو ایک اور زاویہ سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ حقیقت ہے تو ورنہ نہیں۔ ویسے تو سارے واقعہ کو حقیقت یسا ہی تسلیم کرنا چاہئے۔ فرض کیجئے مائیکل فلائن نے ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک ملین ڈالرس کی پیشکش کی۔ کیوں؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ رقم میں آپ کو (ٹرمپ) کو اس لئے دے رہا ہوں کہ آپ جیمس کومی کو برطرف کردیں اور اس کے بعد ٹرمپ نے جیمس کومی کو برطرف کردیا جبکہ اس بات پر تقریباً سبھی متفق ہیں کہ ٹرمپ کے پاس کسی بھی عہدیدار کو برطرف کرنے کے اختیارات ہیں۔ لہٰذا اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیس شروع بھی ہوا اور ختم بھی۔ لہٰذا ہم ٹی وی پر روزانہ جو یہ خبریں دیکھتے ہیں جہاں یہ باور کروایا جاتا ہیکہ صدر کو کسی بھی عہدیدار کو برطرف کرنے کا حق ہے۔ تاہم اس سے مسئلہ کی یکسوئی تو نہیں ہوتی۔ یہ بھی سوچنے والی سنگین بات ہیکہ عوام یہ سوچتے ہیں کہ امریکی صدر اپنے کسی بھی دوست یا خیرخواہ کے خلاف جاری کوئی سنگین تحقیقات کو روکنے کی ہدایت کرسکتا ہے تو ان کا سوچنا غلط ہے۔ بھرارا نے کہا کہ ٹرمپ نے ان کے ساتھ بھی بار بار فون کرتے ہوئے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے برعکس اگر سابق صدر بارک اوباما کی میعاد کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے اپنی دو میعادوں کے درمیان کبھی بھی مجھے فون نہیں کیا اور ٹرمپ نے تو ڈسمبر میں اس وقت ہی فون کردیا تھا جب وہ منتخبہ صدر تھے اور عہدہ کا باقاعدہ حلف بھی نہیں لیا تھا۔ بھرارا نے مزید کہا کہ بعض تحقیقات انتہائی خفیہ نوعیت کی ہوتی ہے جن کے بارے میں سخت پابندیاں ہوتی ہیں کہ ان کے بارے میں بات کی جائے یا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT