Tuesday , October 17 2017

روشن

ثاقب شہر سے دور ایک گاؤں میں رہتا تھا اس نے شہر
کے کالج سے فرسٹ ڈیویژن میں بی اے کا امتحان پاس کیا ۔ گاوں میں اس کے والدین کی زمین تھی زمینوں کی دیکھ بھال اور حساب و کتاب کی ذمے داری ثاقب کی تھی ۔ گاؤں میں بچے اور بڑے زیادہ تعلیمیافتہ نہیں تھے بلکہ کچھ تو اردو بھی لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے ۔ ثاقب نے سوچا کہ بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا جائے اس خیال کے آتے ہی اس نے گاوں کے بچوں کو پڑھانا شروع کیا ساتھ ہی اس نے بڑوں کے دل میں بھی پڑھائی کا شوق پیدا کیا اور انہیں علم کی اہمیت سے آگاہ کیا ۔ گاؤں کے بچے اور بڑے سب ثاقب سے شام کے وقت پڑھنے پر آمادہ ہوگئے ۔ اب روزانہ شام میں ثاقب ان لوگوں کو پڑھاتا وقت گزرتا گیا اور پھر کچھ عرصے بعد وہ لوگ اس قابل ہوگئے کہ وہ لکھ پڑھ سکتے تھے اس طرح ثاقب کے ہمت کرنے سے گاوں میں نہ صرف علم کی روشنی پھیلی بلکہ وہ لوگ جو پڑھنا لکھنا سیکھ گئے تھے وہ دوسرے لوگوں کو بھی پڑھانے لگے ۔ انسان کوشش کرے تو سب کچھ ہوسکتا ہے ایک دوسرے سے ہی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے یعنی چراغ سے چراغ جلتاہے ۔

TOPPOPULARRECENT