Friday , July 28 2017
Home / مضامین / ’’روضتہ الحدیث‘‘ دائرۃ المعارف کے حوالے کرنے ریاستی حکومت کے احکامات جاری

’’روضتہ الحدیث‘‘ دائرۃ المعارف کے حوالے کرنے ریاستی حکومت کے احکامات جاری

زاہد علی خان کا ملی کارنامہ، اے کے خان اور سید عمر جلیل کی کامیاب کوششیں
فیض محمد اصغر

’’روضتہ الحدیث‘‘ تاریخی قلمی کتب خانہ کو بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارہ دائرۃ المعارف العثمانیہ کے حوالے کرنے ریاستی حکومت نے احکامات جاری کردیئے ۔ روزنامہ سیاست میں شائع شدہ مضمون کتب خانہ روضتہ الحدیث قلمی مخطوطات کا شاندار ذخیرہ رکھنے کے باوجود گوشہ گمنامی میں اور وقف بورڈ کی خواب غفلت میں اتوار 30 اپریل حکومت تلنگانہ نے روضتہ الحدیث کے قلمی نسخوں کی علمی افادیت و اہمیت کے پیش نظر اسلام کے اس عظیم و قدیم تحقیقی ادارہ دائرۃ  المعارف العثمانیہ کے حوالے کرنے کے احکامات میں کہا ہے کہ ان نو ادارت قلمی نسخہ جات کی حفاظت اور اسے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے ذریعہ عصری ضروریات سے لیس محفوظ کیا جائے۔ ان احکامات کی اجرائی  میں مشیر اقلیتی امور جناب اے کے خان کی رہبری کے ذریعہ سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب سید عمر جلیل نے احکامات جاری کردیئے ۔ دائرۃ المعارف العثمانیہ اقطاع عالم میں مخطوطات کی تصحیح و تحقیق کے عالمی معیار اور اسے زیور طبع کے ذریعہ تشنگان عوام و معارف کو سیراب کرتا ہے ۔ یہ قوم و ملت کا علمی اثاثہ ہے ۔ اس ادارہ میں روضتہ الحدیث کے مخطوطات کی حوالگی کے ذریعہ یہ علم حدیث کا بیش بہا خزانہ نہ صرف ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجائے گا بلکہ دائرۃ المعارف العثمانیہ کے ذریعہ ساری دنیا میں تشنگان علم کیلئے استفادہ کا ایک زرین موقع فراہم ہوگا۔ دائرۃ المعارف العثمانیہ کے قیام کا مقصد عدم و فنون پر مشتمل نادر و نایاب علمی ذخیروں کے ہر ایک نسخہ کو ایک ہزارکی تعداد میں اشاعت کے ذریعہ دنیا کے مختلف علمی تحقیقی مراکز ، قومی اور بین الاقوامی کتب خانوں میں محفوظ کروائے جائیں تاکہ اسکالرس کو علمی فائدہ ہو اور یہ علمی اثاثہ بھی محفوط ہوجائے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ عظیم ادارہ جس کی روح ’’شعبہ ترجمہ‘‘ ہے ۔ اس سے وابستہ علمائے کرام کے ساتھ ادارہ کے عہدیداران کا معاندانہ رویہ ادارہ کی نیک نامی کو بدنام کر رہا ہے اور ان علماء کے ساتھ ناقدری کی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ شعبہ تحقیق و تصحیح کے بعض علماء کو کسی سازش کے تحت ان کی حکمات سے علحدہ کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے ۔ مارچ 2011 ء میں ایک ڈائرکٹر نے چند مفادات حاصلہ کے لئے ادارہ کو غیر ملکی آرگنائزیشن کے حوالہ کردینے کا مکمل منصوبہ بنالیا تھا جس پر روزنامہ سیاست نے  15 اپریل کی اشاعت میں اس کی تفصیلات شائع کیں جس پر ذی قدر علماء کرام ، مشائخین عظام ، سماجی و سیاسی قائدین نے حکومت سے مضبوط نمائندگی کے ذریعہ ادارہ کو بحران سے باہر لایا ۔ باوجود اس کے سازشی عناصر مسلسل تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ موجودہ ڈائرکٹر کے ذریعہ ایک کمیٹی و کمیشن کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے تشکیل دیتے ہیں۔ مزید اطلاعات بھی گشت کر رہی ہیں کہ 16 سال سے عارضی خدمات انجام دینے والے علمائے کرام کو ادارہ سے علحدہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے جبکہ حکومت کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کیلئے حکومت کوشاں ہیں جبکہ اس ادارہ سے وابستہ علمائے کرام کی فلاح و بہبود و ترقی کا ایک اہم حصہ ہیں۔
صدر دائرۃ المعارف وزیر اعلیٰ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ، مشیر محکمہ اقلیتی بہبود جناب اے کے خان اور جناب سید عمر جلیل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کے تجاویز و منصوبوں کے تحت حکومت نے 2016 ء ، 2017 ء کے گراں قدر گرانٹ جاری کی ہے ۔ اس کے علمی کام کے عظمت رفتہ سے مزید قوم و ملت کو بہرہ مند کرنے کیلئے عالم اسلام کے سب سے بڑے حدیث پر مشتمل مخطوطات کے علمی اثاثہ کو جناب زاہد علی خان کی فکر صحیح نے ملی و قومی ورثہ کے اثاثہ جات کے تحفظ اور بقاء و ترقی و ترویج کی فکر و توجہ دہانی اس ادارہ سے وابستہ کرنے کے احکامات جاری ہوا ہے ۔ دائرۃ المعارف العثمانیہ کی عظمت رفتہ عالمی شہرت و خدمات کا سلسلہ برقرار، قائم و دائم رہے ۔ دائرہ میں جملہ 63 ملازمین میں سے اب صرف شعبہ تصحیح و تحقیق میں صرف 9 ملازمین کنٹراکٹ پر تقریباً 16 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ دیگر شعبہ جات میں شعبہ کمپوزنگ میں ایک اور شعبہ بینڈنگ میں 4 ہلپرس ہیں۔ شعبہ ہینڈ پریس میں بھی2 افراد کام کر رہے ہیں جبکہ شعبہ آفسیٹ تقریباً دس سال سے بند ہے جبکہ سنٹرل کے جاری کردہ بجٹ میں اس شعبہ کو ترقی دینے کیلئے فنڈ مختص کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ شعبہ انتظامیہ کے ایک سپرنٹنڈنٹ کی شعبہ تصحیح و تحقیق کے علماء کے ساتھ نا رویہ ناشائستہ سلوک کی وجہ سے دائرہ کا ماحول کشیدہ ہورہا ہے ۔ اسٹاف میں دیگر کتب براں 1 ، مالی مالتی  1 ، جارو کش1 ، اسٹور ہلپر ایک و دیگر شامل ہیں۔ دائرۃ المعارف میں جو علمائے کرام اپنی زندگی کے کئی برس سے خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی ملازمت کا تحفظ ادارہ کے ذریعہ قوم ، ملک و ملت کی خدمات انجام دی جائے۔ روضتہ الحدیث کے علاوہ بے شمار علمی ذخیروں کے قلمی نسخوں کے مکتب گوشہ گمنامی میں ہیں جن کی بقا اور تحفظ کی مساعی جاری رکھی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT