Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / روڈی وکیلوں کا کنہیا کمار، صحافیوں پر پھر حملہ

روڈی وکیلوں کا کنہیا کمار، صحافیوں پر پھر حملہ

پٹیالہ ہاؤز کورٹ میں لااینڈ آرڈر مفلوج ، خوف اور دہشت کا عالم ، پینل رپورٹ
ملزم کا تحفظ کمشنر پولیس دہلی کی ذمہ داری، ہدایت کے باوجود ناخوشگوار واقعات پر سپریم کورٹ کا سخت نوٹ

نئی دہلی ۔ 17 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج روڈی وکلاء کے ایک گروپ کی جانب سے اس کے احکامات کی صریح خلاف ورزی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی کو سخت ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے کہا کہ جے این یو لیڈر کنہیا کمار، صحافیوں اور دیگر کی پٹیالہ ہاؤز کورٹ احاطہ میں حفاظت کو وہ شخصی طور پر یقینی بنائیں۔ آج دن بھر عدالت میں جاری رہے ڈرامائی حالات اور تشدد کے بعد سپریم کورٹ نے یہ سخت پیام جاری کیا ہے۔ وکلاء نے جاریہ ہفتہ آج دوسرے دن بھی قانون کو اپنے ہاتھوں لیتے ہوئے صحافیوں اور کنہیا کمار کے علاوہ طلبہ کو حملہ کا نشانہ بنایا۔ کنہیا کمار کو آج میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ لولین کے روبرو پیش کیا جارہا تھا۔ عدالت نے قبل ازیں دن میں محدود ہدایات جاری کرتے ہوئے وکلاء، صحافیوں اور دیگر کے احاطہ عدالت میں داخلہ پر پابندی عائد کی تھی کیونکہ پیر کو وکلاء نے صحافیوں کے علاوہ جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ کو گھسیٹ کر زدوکوب کا نشانہ بنایا تھا لیکن عدالتی احکامات کا کوئی اثر نہیں دکھائی دیا جبکہ چند وکلاء نے کنہیا کمار اور بعض صحافیوں پر آج دوبارہ حملہ کردیا۔ سینئر وکلاء بشمول کپل سبل، اندرا جئے سین اور پرشانت بھوشن نے جسٹس جے چلمیشور اور جسٹس اے ایم سپرے کی توجہ پٹیالہ ہاؤز کورٹ کی غیرمعمولی صورتحال کی طرف مبذول کرائی جہاں سیکوریٹی اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے بعد عدالت نے فوری مداخلت کرتے ہوئے وکلاء کا چھ رکنی پینل تشکیل دیا ہے۔ وکلاء کی ٹیم نے آج پیش آئے واقعات کی زبانی رپورٹ دی جس میں پٹیالہ ہاؤز کورٹ کی غیرمتوقع صورتحال سے واقف کرایا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہیکہ وہاں خوف و دہشت کا ماحول پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کنہیا کمار سے جس طرح ناروا سلوک اختیار کیا گیا وہ لا اینڈ آرڈر کے پوری طرح مفلوج ہونے کا عملی ثبوت ہے۔ اس کے بعد بنچ نے واضح کیا کہ ملزم کی حفاظت کو یقینی بنانا کمشنر پولیس دہلی کی ذمہ داری ہے۔ پینل نے دعویٰ کیا کہ انہیں عوام کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے نازیبا فقرے کسے اور ان کے بارے میں کئی ریمارکس کئے۔ یہ ماحول انتہائی غیریقینی ہے اور پولیس نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ ہجوم حصاربندی کو توڑ کر آگے بڑھ گیا اور انہوں نے ہم پر پانی کی بوتلیں اور تیز دھاری گلدستے پھینکے۔ پینل نے کہا کہ یہ ایک اجمالی رپورٹ ہے اور یہ بھی حقیقت ہیکہ ملزم کی زندگی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ پولیس اس کی حفاظت کرنے کی اہل نہیں ہے۔ عدالت میں ججس نے کہا کہ ہم نے کمشنر پولیس کو یہ ہدایت دی ہیکہ وہ ملزم کو آئندہ سماعت کیلئے عدالت میں پیش کرنے تک اس کا تحفظ یقینی بنائے۔ آج ہمیں یہ اطلاع دی گئی ہیکہ جس وقت ملزم کو عدالت لایا جارہا تھا اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ لہٰذا ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ملزم کی حفاظت کی ذمہ داری پوری طرح کمشنر پولیس دہلی پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے معاملہ کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی۔ کنہیا کمار کو مبینہ طور پر مخالف ہند نعرے لگانے کی بناء قوم سے غداری کے الزام کا سامنا ہے۔ میٹرو پولیٹن کورٹ نے انہیں 2 مارچ تک عدالتی تحویل میں دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے آج صبح دہلی ہائیکورٹ اور پولیس کو یہ ہدایت دی تھی کہ لوور کورٹ میں پرامن انداز میں کارروائی کو یقینی بنائیں اس کے باوجود آج پھر تشدد پھوٹ پڑا اور ہمیں دوبارہ مداخلت کرنی پڑی۔ سپریم کورٹ بنچ نے چھ سینئر وکلاء کی ٹیم کو کل 2 بجے تک تحریری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

غداری کا ثبوت ہو تو مجھے جیل بھیج دیں : کنہیا کمار
کمار نے کہا کہ وہ ایک ہندوستانی ہے اور دستور و عدلیہ پر اسے پورا بھروسہ ہے۔ اس نے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ لولین کو یہ بات بتائی۔ اس نے کہا کہ میڈیا کی اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی تکلیف دہ ہے۔ اگر یہ ثبوت مل جائے کہ وہ غدار ہے تو آپ مجھے براہ کرم جیل بھیج دیں لیکن میرے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں میڈیا کو قانونی کارروائی کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اس دوران کمشنر پولیس بسی نے کہاکہ اگر کنہیا کمار ضمانت کیلئے درخواست دیں تو پولیس کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شخصی طور پر ان کا یہ احساس ہیکہ ایک نوجوان کو ضمانت ملنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT