Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / روڈ سیفٹی بل ترمیم سے شہریوں کی پریشانی اور پولیس کی چاندنی متوقع

روڈ سیفٹی بل ترمیم سے شہریوں کی پریشانی اور پولیس کی چاندنی متوقع

مرکزی کابینہ میں منظوری ، جرمانے ، ایکس گریشیا اور سزائیں
حیدرآباد /4 اگست ( سیاست نیوز ) مرکزی کابینہ کی جانب سے منظور کردہ روڈ سیفٹی ترمیمی بل 2016 ایک طرف شہریوں کے تحفظ اور مفاد میں موثر دیکھائی دیتا ہے تاہم اس بل کی ترمیم کے بعد اس کے استعمال اور عمل آوری سے متعلق شہریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ چونکہ اس بل کی عمل آوری میں پولیس کو جو اختیارات حاصل ہیں اس سے شہریوں کی پریشانی میں اضافہ اور پولیس ڈپارٹمنٹ کی چاندنی رہے گی ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے موٹر وہیکل ترمیمی بل 2016 کو مرکزی کابینہ جس کی صدارت وزیر اعظم نریندر مودی کر رہے تھے نے منظوری دے دی ۔ اس بل کی منظوری کے بعد اگرچہ وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈگری نے کہا کہ بل ہندوستان کی سڑکوں کو محفوظ بنانے کی طرف ایک پہل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر معصوم لوگوں کی جان کی حفاظت ممکن ہوسکے گی ۔ ملک میں نافذ ہونے والے اس قانون سے سب سے زیادہ خوشی پولیس ڈپارٹمنٹ کو ہو رہی ہے ؟ چونکہ شراب پیکر گاڑی چلانے والے پر 10 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور حادثہ کے بعد موقع سے فرار ہوجانے والے پر حادثہ کا شکار کو 2 لاکھ روپئے معاوضہ ملے گا ۔ اس قانون کی منظوری کے متعلق عوام سے دریافت کرنے پر بیشتر شہریوں کا خیال ہے کہ پہلے سے وہ پولیس ظلم کا شکار ہیں اور اب پولیس معصوم عوام کو مزید پریشان کرے گی ۔ مجوزہ موٹر وہیکل بل 2016 کے تحت لائیسنس کے بغیر ڈرائیونگ پر کم سے کم جرمانہ 5 ہزار روپئے ہوگا ۔ اسی وقت یہ جرمانہ صرف 5 سو روپئے ہے ۔ اوور اسپیڈینگ پر جرمانہ موجودہ 400 روپئے سے بڑھاکر ایک ہزار تا 2 ہزار روپئے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ سیٹ بیلٹ استعمال نہ کرنے پر کم از کم جرمانہ ایک ہزار روپئے ہوگا ۔ جبکہ یہ جرمانہ صرف ایک سو روپئے ہے ۔ ٹو وہیلرس چلانے والے افراد پر ہیلمٹ استعمال نہ کرنے پر ایک ہزار روپئے جرمانہ ہوگا ۔ اس وقت یہ جرمانہ ایک سو روپئے ہے ۔ اس کے علاوہ ہیلمٹ استعمال نہ کرنے پر لائیسنس 3 ماہ کیلئے معطل کردیا جائے گا ۔ بچوں کے جرائم پر سرپرست یا گاڑی مالکین کو قصوروار قرار دیا جائے گا اور تین سال قید کے ساتھ 25 ہزار روپئے جرمانہ عائد اور  گاڑی رجسٹریشن بھی منسوخ کردیا جائے گا ۔ بغیر انشورنس کے گاڑی چلانے پر جرمانہ ایک ہزار سے بڑھاکر 2 ہزار کردیا گیا ہے ۔ ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینے والے افراد پر 10 ہزار روپئے جرمانہ لگانے ایک نیا قانون بنانے کی تجویز ہے ۔ وزارت روڈ ٹرانسپورٹ ہائی ویز کے مطابق ہر سال ملک میں 5 لاکھ حادثات میں ایک لاکھ سے زائد  افراد ہلاک ہو رہے ہیں ۔ حکومت 5 برسوں کے اندر حادثات اور اس میں ہو رہی ہلاکتوں کے اندر حادثات میں پچاس فیصد تک گھٹانے کے عہد کی پابند ہے ۔ نئے مسودہ قانون کے تحت حادثوں کا شکار ہو رہے افراد خاندان کو معاوضہ 25 ہزار روپئے بڑھاکر 2 لاکھ روپئے کرنے کی تجویز ہے ۔ نئے مسودہ قانون میں آن لائین ، اسکریننگ ، لائیسنس کی اجرائی ڈرائیورنگ لائیسنس کی مدت میں اضافہ میں ٹرانسپورٹ لائینسس کے تعلیمی لیاقت کے شرط ختم کرنا شامل ہے اور گاڑیوں میں مقدار سے زیادہ سامان رکھنے پر 20 ہزار جرمانہ موجود ہے ۔ موجودہ موٹر وہیکل ایکٹ میں 223 قوائد میں جن میں 68 میں ترمیم کی گئی ہے اور 28 نئے دفعات کو اضافہ کرتے ہوئے شامل کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT