Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / روہت ویملہ کی خود کشی پر روپن والا کمیشن آف انکوائری رپورٹ کی مذمت

روہت ویملہ کی خود کشی پر روپن والا کمیشن آف انکوائری رپورٹ کی مذمت

کمیشن ویملہ کے طبقہ کی جانچ کا مجاز نہیں ، کاکی مادھوراؤ ، چکارامیا و دیگر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔23اگست(سیاست نیوز) سابق چیف سکریٹری حکومت آندھرا پردیش مسٹر کاکی مادھو رائو نے امبیڈکر اسوسیشن سے تعلق رکھنے والے ایچ سی او کے انجہانی ریسرچ اسکالر روہت ویمولہ کی خودکشی پر مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک رکنی جسٹس اشوک کمار روپن والا کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کو قابل مذمت قراردیا۔ آج یہاں نیو پریس کلب سوماجی گوڑہ میںمنعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کاکی مادھو رائو نے کمیشن کے طریقہ تحقیق پر ہی سوال اٹھایا ۔ کمیشن روہت ویمولہ کے طبقہ کی جانچ کا مجاز نہیں ہے ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ کمیشن آف انکوائری نے چکرورتی روہت ویمولہ جو کہ ایک ریسرچ اسکالر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ہے کی جن حالات میںموت واقع ہوئی ہے اس کی تحقیقات کے بجائے غیر ضروری معاملات میںمداخلت کرتے ہوئے آنجہانی دلت طلب علم کی شبیہہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مسٹر کاکی مادھورائو نے مزیدکہاکہ مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ ‘ سمریتی ایرانی‘ وائس چانسلر اپارائو‘رام چندر رائو بی جے پی رکن قانو ن ساز کونسل ‘ نندنم سوسشیل کمار سابق صدر اے بی وی پی ‘ مسٹر کرشنا چیتنیہ سکریٹری اے بی وی پی اور دیگر کے خلاف ریسرچ اسکالر کو دلت ہونے کی بنیاد پر ہراساں وپریشان کرتے ہوئے خودکشی کے لئے مجبور کیاگیا تھا اور اس ضمن میںمذکورہ افراد پر ایک ایف آئی آر بھی درج ہے۔ انہو ںنے کہاکہ روپن والا کمیشن کے بشمول کسی بھی کمیشن کو سیول کورٹ عینی شواہد کو دوبارہ طلب کرے اور ریکارڈس کی جانچ کرسکے۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ ہنگامہ آرائی کے پیش نظر مرکزی حکومت نے ایک رکنی کمیشن کا قیام تو عمل میںلایا ۔ مگر کمیشن کی رپورٹ نے یونیورسٹی کے حالات او رروہت ویمولہ کو خودکشی کرنے پر مجبور کرنے والے کسی واقعہ کو اپنی رپورٹ میںجگہ نہیںدی بلکہ کمیشن آف انکوئری کی تمام تر توجہہ روہت ویمولہ کے ایس سی ہونے یا نہیںہونے پر مرکوز رہی ہے۔ پروفیسرلکشمی نارائنہ نے کہاکہ روہت ویمولہ کی خودکشی کے بعد حالات کو بگڑتا دیکھ کر ضلع رنگاریڈی میں آر ایس ایس کے ایک رکن جس کا تعلق بی جے پی سے ہے نے روہت ویمولہ کے طبقے کی حقائق جاننے کے لئے ضلع کلکٹر میں ایک درخواست پیش کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ آخر انہیں ایسی کیاضرورت پڑگئی کہ وہ آنجہانی ویمولہ کے دلت ہونے یانہ ہونے کے صداقت نامہ حاصل کرنے کے لئے اس قدر بے چین تھے۔انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس او ربی جے پی کارکنو ںنے یونیورسٹی میںدلتوں کے خلاف منظم سازش کے تحت محاذ آرائی کے لئے بی جے پی رکن قانون ساز کونسل او روزراء کی مدد حاصل کی ۔ انہوں نے بھی روپن والا کمیشن کی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کمیشن نے مرکزی حکومت او ریونیورسٹی انتظامیہ کی خامیو ں کو چھپانے کی کوشش میں دلت طالب علم کے ساتھ ہونے والی ناانصافیو ںکو نظر انداز کیاہے۔ سنٹر فا ردلت اسٹیڈیز کے دیگر ذمہ داران نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT