Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / روہت ویمولا کی موت نے دلتوں کو بیدار کردیا

روہت ویمولا کی موت نے دلتوں کو بیدار کردیا

ظفر آغا
روہت ویمولا کی موت رنگ لارہی ہے ۔ جی ہاں !روہت ویمولا نے سارے ہندوستان کے دلتوں کے دلوں میں ایک آگ لگادی ہے ۔ وہ پڑھا لکھا دلت ہو یا غیر تعلیم یافتہ ، ہر دلت کو یکایک یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس کے ساتھ سماجی ناانصافی ہورہی ہے ۔ یہ احساس تو ایک عرصے سے دلت برادری میں گھر کرچکا تھا لیکن وہ عموماً اس ناانصافی کو اپنا مقدر سمجھ کر خاموشی سے ایک سسکتی زندگی جیتا رہتا تھا ۔ لیکن روہت ویمولا کی موت نے دلتوں کے دلوں میں غصے کی ایک آگ بھڑکادی ہے جس سے وہ اب سسکنے کی بجائے غصے سے دہک رہا ہے ۔ اور جب کوئی سماج غصے سے دہکنے لگ جائے تو وہ یا تو خود اپنے لئے خطرہ بن جاتا ہے یا پھر اپنے دشمنوں کے لئے۔ روہت ویمولا کی موت سے ایک بات اور دلت سماج میں بڑے واضح طور پر گھر کرگئی ہے ، وہ بات یہ ہے کہ دلتوں کو یہ احساس بخوبی ہوچکا ہے کہ ان کا دشمن اعلی ذاتیں ہیں ۔ وہ اب بخوبی واقف ہوچکے ہیں کہ ان کے اصل دشمن اعلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو ہیں ۔ اس لئے اس کا دہکتا غصہ اعلی ذاتوں کے خلاف اب ابل رہا ہے ۔ وہ کب لاوا بن کر پھوٹ پڑے یہ کہنا مشکل ہے ، لیکن ہندوستان کے کونے کونے میں جس طرح دلت برادری کے پڑھے لکھے افراد نے روہت ویمولا کی موت پر احتجاج کیا اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ دلت لاوے کو اب زیادہ عرصے تک دبایا نہیں جاسکتا ۔ آج نہیں تو کل یہ لاوا پھوٹنے والا ہے اور اس ملک کی ذات پات پر مبنی سماجی ناانصافی کو اپنی آگ میں لپیٹنے والا ہے ۔ اس کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ وہ اعلی ذاتیں جو دلتوں کے ساتھ ناانصافی برتتی رہی ہیں ۔ ان کو اس بات کا قطعاً احساس نہیں ہورہا ہے کہ دلتوں کو انصاف ملنا چاہئے ۔ اگر ایسا ہوتا تو روہت ویمولا کی موت پر کسی کو کوئی سزا تو ملتی ، لیکن روہت ویمولا مارا گیا اور سوائے بہانوں کے دلتوں کو کہیں سے انصاف کی کوئی کرن بھی نظر نہیں آرہی ہے ۔

اس لئے دلتوں کا غصہ اب ٹھاٹھیں مار رہا ہے ۔ افسوس کہ اعلی ذاتوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ وہ کسی سماجی خطرے کا شکار ہوتے جارہے ہیں ۔ کیونکہ دلتوں میں اب یہ خیال پیدا ہوتا جارہا ہے کہ ہندو سماج میں رہ کر ان کو سماجی انصاف نہیں مل سکتا ۔ اسی لئے دلتوں کا پڑھا لکھا طبقہ بدھ مذہب اختیار کرکے اور خود کو ہندو مذہب سے الگ کرتا جارہا ہے ۔ آج وہ اپنا مذہب ترک کررہا ہے ، کل وہ دن دور نہیں ہوگا جب وہ اعلی ذاتوں کو اپنا دشمن تصور کرکے ان کے خلاف ویسے ہی دنگے بپا کرے جیسے دنگے مسلمانوں کے خلاف ہوتے رہتے ہیں ۔ اور یہ صورتحال نہ صرف اعلی ذاتوں بلکہ پورے ہندوستان کے لئے ہولناک ثابت ہوسکتی ہے ۔

سچ تو یہ ہے کہ اس اکیسویں صدی میں اس ملک میں چل رہے صدیوں پرانے ذات پات پر مبنی سماجی ناانصافی کا مسئلہ ہمیشہ بغیر کسی حل کے ٹلتا نہیں رہ سکتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان ایک بڑا جمہوری ملک ہے ۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ ہر دبے کچلے طبقے کو اس ملک کے آئین میں خصوصی مراعات دی گئی ہیں ، لیکن آئینی مراعات دلتوں کو سماجی ناانصافی سے نجات نہیں دلا پارہی ہیں ۔ اس کو جمہوری نظام میں ووٹ دینے کا حق تو حاصل ہے لیکن وہ اپنے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف ڈھنگ سے آواز بھی نہیں اٹھاسکتا ، لیکن اس تیز رفتار دور میں کہ جب ٹی وی اور موبائل فون نے دنیا کی تمام دیواریں گرادی ہیں ۔ ایسے دور میں دلتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غفلت کی نیند نہیں سلایا جاسکتا ہے ۔ روہت ویمولا کی موت نے دلتوں کو غفلت کی نیند سے بیدار کردیا ہے اور غفلت کی جگہ ان کے دلوں میں غصے کی آگ جلادی ہے جو شعلہ بن کر کبھی بھی اس سماج میں خلفشار پیدا کرسکتی ہے ۔

افسوس کہ دلت سماج میں جلنے والی اس آگ کا احساس اس ملک میں کسی کو نہیں ہے ۔ اعلی ذاتیں تو دلتوں کے خلاف چلی آرہی سماجی ناانصافی کو دھرم سمجھ کر ایک رسمی بات سمجھتی ہیں ۔ اس سے بڑھ کر ستم یہ ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمان جو ہر وقت اپنے خلاف ہونے والی ناانصافی کا رونا روتا رہتا ہے اس کو بھی دلتوں کے خلاف ہونے والی ناانصافی پر غصہ نہیں آتا ۔ روہت ویمولا کے خلاف یونیورسٹی والوں نے جو قدم اٹھایا تھا وہ اس لئے تھا کہ اس نے حیدرآباد یونیورسٹی میں ، مظفرنگر فسادات میں مسلمانوں پر ہوئے مظالم پر ایک ڈاکیومنٹری فلم یونیورسٹی میں دکھائی تھی ۔ علاوہ ازیں روہت کو مظفر نگر فسادات کے خلاف آواز اٹھانے پر سزا دی گئی ، مسلم قیادت نے اس معاملے میں دلتوں کا ساتھ اس طرح نہیں دیا جیسے کہ ان کو دینا چاہئے تھا ۔ چند لیڈران کچھ وقفے کے لئے روہت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں ضرور شریک ہوگئے لیکن جس طرح کثیر تعداد میں مسلم نوجوانوں کو دلتوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہئے تھا ویسا نہیں ہوا ۔
سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی مسلم معاشرہ بھی بڑی حد تک ذات پات کی لعنت کا شکار ہے ۔ وہ اسلام جس نے ہر کلمہ گو کو ایک دوسرے کا بھائی بنا کر سبھی کو برابر کا درجہ دے دیا ، اسی اسلام کے ماننے والے مسلمانوں نے مسلم اخوت کو محض مسجد کی صفوں تک محدود کرکے خود اپنے سماج میں ذات پات کی لعنت کو جگہ دے دی ۔ یہی سبب ہے کہ مسلم سماج میں بھی روہت ویمولا جیسے اندوہناک واقعہ پر وہ غصے کی لہر نہیں دوڑی جو ان کے اندر دوڑنی چاہئے ۔ اکثر چناؤ کے وقت دلت ۔ مسلم اتحاد کی گونج تو سنائی دیتی ہے ، لیکن چناؤ کے بعد مسلم اور دلت دیگر پسماندہ طبقوں کے درمیان جو اتحاد ہونا چاہئے وہ دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ کسی بھی سیاسی ناانصافی سے نمٹنے کے لئے پہلے سماجی پلیٹ فارم پر سماجی اتحاد ضروری ہوتا ہے ۔ مسلم اور دلت دونوں سماجی و سیاسی ناانصافی کا شکار ہیں اس لئے ان کو محض سیاسی معاملوں میں ہی نہیں بلکہ سماجی معاملے میں بھی ایک دوسرے کے کاندھے سے کاندھا ملانا ہوگا ۔ ورنہ روہت ویمولا کی موت پر محض دلت غم و غصہ کا مظاہرہ کریں گے اور مظفرنگر پر اکیلے مسلمان احتجاج کریں گے ۔ اس لئے دلت ۔ مسلم اور ہر وہ طبقہ جو سیاسی و سماجی ناانصافی کا شکار ہے اس کو مل کر روہت ویمولا کے خلاف ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے ۔ تب ہی دلت ہی نہیں بلکہ ہر طبقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا حل نکل سکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT