Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / روہت کی خودکشی دلت بمقابلہ غیر دلت نہیں، طلباء کو بھڑکانے کا الزام

روہت کی خودکشی دلت بمقابلہ غیر دلت نہیں، طلباء کو بھڑکانے کا الزام

CPI(M) General Secretary Sitaram Yechury addressing the HCU students who on hunger strike in protest against the rohit Vemula’s death in Hyderabad central university in Hyderabad on Wednesday. Pic:Style photo service.

ہنمنت راؤ نے بھی مکتوب لکھا تھا: سمرتی ایرانی۔سیتا رام یچوری، ایل جے پی وفد اور جگن کا دورہ، بی جے پی کا آدمی نہیں ہوں : وائس چانسلر
حیدرآباد؍نئی دہلی۔/20جنوری، ( پی ٹی آئی) دلت طالب علم کی خودکشی پر تنقیدوں کا شکار مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے آج جوابی وار کرتے ہوئے حریفوں پر ملک بھر میں طلباء کو ذات پات کے خطوط پر بھڑکانے کا الزام عائد کیا، یہاں تک کہ سیاسی قائدین کا بھی حیدرآباد یونیورسٹی میں تانتا بندھا ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مسئلہ کو دلت بمقابلہ غیر دلت محاذ آرائی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے استعفی کا مطالبہ بھی مسترد کردیا۔بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے دو مرکزی وزراء اور وائس چانسلر اپا راؤ کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ کئی قائدین بشمول سی پی آئی ( ایم ) کے سیتارام یچوری، ٹی ایم سی، ایم پی ڈیرک اوبرئین، وائی ایس آر کانگریس صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے یونیورسٹی کا دورہ کرکے احتجاجی طلباء سے ملاقات کی۔ سیتا رام یچوری نے کہا کہ ’’ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل کو مستعفی ہونا چاہیئے‘‘ ۔ موافق سی پی آئی آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے دتاتریہ کی رہائش گاہ کے قریب احتجاجی مظاہرہ کی کوشش کی۔ این ڈی اے حلیف ایل جے پی کے وفد نے پارٹی ارکان پارلیمنٹ رام چندرا پاسوان اور چراغ پاسوان کی قیادت میں احتجاجی طلباء سے ملاقات کی اور مہلوک روہت ویمولا کے ورثاء کو 30لاکھ روپئے معاوضہ کے علاوہ ذمہ داران کو سخت سزا کا مطالبہ کیا۔ سمرتی ایرانی نے دو دن خاموشی اختیار کرنے کے بعد آج صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے دہلی میں پریس کانفرنس کو مخاطب کیا۔ انہوں نے سیاسی حریفوں پر دلت و غیر دلت بنیادوں پر جذبات بھڑکانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ روہت ویمولا کی خودکشی دلت بمقابلہ غیر دلت مسئلہ نہیں ہے۔ تین مرکزی وزراء تھاور چند گہلوٹ، نرملا سیتا رامن اور وجئے سامپلا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سمرتی ایرانی نے کہا کہ ملک بھر میں طلباء کو بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے، برائے مہربانی طلباء اور مختلف طبقات کو دانستہ طور پر نہ بھڑکائیں۔ انہوں نے صبرو تحمل کے مظاہرہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پہلے جذبات بھڑکانا

اور اس کے بعد معذرت خواہی بہت آسان ہے۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے سمرتی ایرانی نے کہا کہ وہ اس مسئلہ سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے اس سے یہی توقع ہے لیکن یہ انتہائی نامناسب ہے۔ استعفی کے مطالبہ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوںنے کہا کہ حریفوں کو پہلے ان تمام رپورٹس کا جائزہ لینا چاہیئے۔ ایسے وقت جبکہ اپوزیشن جماعتیں خودکشی کے مسئلہ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں، سمرتی ایرانی نے یاد دلایاکہ اے بی وی پی طالب علم پر اس سے پہلے طلباء کے حریف گروپس نے حملہ کیا تھا اور اس کا تعلق بھی او بی سی سے تھا اس وقت دتاتریہ نے انہیں حملہ کے بارے میں مکتوب لکھا تھا۔ کانگریس کو اس معاملہ میں گھسیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کے کانگریس رکن پارلیمنٹ وی ہنمنت راؤ نے نومبر 2014ء میں انہیں مکتوب لکھا تھا ۔ انہوں نے گزشتہ چار سال کے دوران یہاں پچھڑے طبقات کی خودکشی کی واقعات کا حوالہ دیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اس معاملہ کو اسی وقت حل کیوں نہیں کیا؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ہنمنت راؤ نے اپنے مکتوب میں لکھا کہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں، اگر کانگریس چار سال قبل ہی اس مسئلہ کو حل کرلیتی تو شاید آج روہت زندہ رہتا۔ سمرتی ایرانی نے روہت کا خودکشی نوٹ بھی پیش کیا جس میں کسی یونیورسٹی عہدیدار، سیاسی تنظیم یا کسی ایم پی کا نام نہیں ہے۔ وائس چانسلر اپا راؤ نے بھی اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی مذمت کی اور انہیں’’ بی جے پی کا آدمی ‘‘ قرار دینے کی کوششوں کو بھی تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے احتجاج کے باعث مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ روہت ویمولا اور دیگر چار دلت طلباء کے خلاف وزارت فروغ انسانی وسائل یا مرکزی وزیر دتاتریہ کے دباؤ میں تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ اسی دوران وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب سے قائم کی گئی دو رکنی کمیٹی کیمپس کا دورہ کرنے کے بعد آج دہلی واپس ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT