Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / روہنگیائی شہریوں کی ممکنہ مدد جاری رہے گی

روہنگیائی شہریوں کی ممکنہ مدد جاری رہے گی

ایک وقت کھائیں گے اور اپنے بھائیوں کی بھوک مٹائیں گے ، میانمار جنگ چھیڑنے کا خواہاں ،وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ
ڈھاکہ ۔ 7 اکتوبر۔(سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ نے آج کہاکہ اُن کی حکومت تقریباً ایک ملین روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرے گی جو پڑوسی ملک میانمار میں تشدد سے بچ کر یہاں پناہ لئے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کے تعاون سے ان روہنگیا باشندوں کیلئے جزیرے میں عارضی شلٹرس تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ اس کام کے لئے انھوں نے امدادی ایجنسیوں کی ستائش کی ۔ شیخ حسینہ نے نیویارک میں اقوا م متحدہ جنرل اسمبلی سیشن میں شرکت سے واپسی کے بعد ڈھاکہ ایرپورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے میانمار میں جاری تشدد کو ’’نسلی صفایہ‘‘ قرار دیا ہے ۔ انھوں نے میانمار پر سرحد میں کشیدگی پیدا کرنے کے الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہاکہ سکیورٹی فورسیس کو اس بحران سے احتیاطی کے ساتھ نمٹنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ جنگ چاہتے ہیں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ اگسٹ سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد روہنگیائی مسلمان میانمار سے یہاں بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ میانمار میں روہنگیائی باشندوں کے خلاف جاری تشدد کے پیش نظر بڑے پیمانے پر لوگ یہاں سے بچ نکلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ میانمار کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے حقوق انسانی تنظیموں نے کہا ہے کہ وہاں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ اس سے پہلے 1978 ء سے اب تک اتنی ہی تعداد میں روہنگیائی مسلمان میانمار چھوڑ چکے ہیں۔ میانمار ان روہنگیائی مسلمانوں کو نسلی گروپ تسلیم نہیں کرتا ۔ اس کے برعکس اُنھیں بنگالی تارکین وطن قرار دیتا ہے اور اس کا یہ موقف ہے کہ بنگلہ دیش سے وہ میانمار پہونچ کر یہاں غیرقانونی طورپر قیام کئے ہوئے ہیں۔ راکھین اسٹیٹ میں جاری تشدد کو روکنے میں ناکامی پر میانمار کو بین الاقوامی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ بڑے پیمانے پر نقل مقام نے ایشیاء میں اب تک کا سب سے بڑا پناہ گزیں بحران پیدا کردیا ہے ۔

میانمار حکومت کی انفارمیشن کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُس نے گزشتہ ہفتہ اندرون چار یوم 17,000 روہنگیائی شہریوں کو نقل مقام کرنے سے روکا ہے ، لیکن دیہاتی عوام کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اب بھی ملک چھوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں کیونکہ یہاں کے حالات بالکل ابتر ہوچکے ہیں۔ بنگلہ دیش کے ساتھ متصل آبی حدود میں ساحل سمندر روہنگیائی باشندوں کی کثیرتعداد اب بھی جمع ہے جو ملک چھوڑنے کیلئے موقع کی تلاش میں ہے ۔ شیخ حسینہ نے آج اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ روہنگیائی مسلمانوں کی آباد کاری عارضی رہے گی تاوقتیکہ وہ میانمار میں اپنے مکانات واپس نہ لوٹ جائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت غذا اور رہائش کے ذریعہ اُن کی مدد کرتی رہے گی ۔ انھوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر ہم دن میں صرف ایک بار کھانا کھائیں گے اور باقی حصہ سے اپنے بھائیوں کی بھوک مٹائیں گے ۔ روہنگیا سے بڑے پیمانے پر عوام کے انخلاء اور پڑوسی ملک میں پناہ لینے کی وجہ سے وہاں بحران پیدا ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT