Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی

روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی

دنیا نے ثابت کردیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف نہیں مسلمانوں کی مخالف ہے

خلیل قادری
مائنمار میں بدھسٹ حکمرانوں اور فوجی حکام کی جانب سے روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ان کی بستیوں کو آگ لگائی جا رہی ہے ۔ ان کے نسلی صفائے کے منصوبے پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ان کی عورتوں کی عصمتوں کو تار تار کیا جا رہا ہے ۔ ان کے معصوم بچوں تک کو بخشنے کیلئے یہ درندے تیار نہیں ہیں اور انہیں فرار کا تک موقع فراہم نہیں کیا جا رہا ہے ۔ جو روہنگیائی مسلمان وہاں سرکاری پشت پناہی سے ہونے والے نسلی صفائے کی مہم سے متاثر ہوئے ہیں اور جو وحشیانہ مظالم کی وجہ سے وہاں سے فرار ہوکر اپنے اور اپنے افراد خاندان کیلئے کہیں گوشہ عافیت تلاش کرنے نکلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں انہیں بھی بخشا نہیں گیا اور انہیں بھی پکڑ پکڑکر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ۔ لوگوں کو ان کے گھروںمیں قید کرتے ہوئے ان کے مکانات کو نذر آتش کردیا گیا ۔ نعشوں کے انبار لگا دئے گئے ۔ خواتین اور بوڑھوں تک کو نہیں بخشا گیا اور ان کے انسانی اعضا تک کاٹ دئے گئے ۔ معصوم بچوں کو ظالمانہ اذیتیں دی گئیں ۔ بستیوں کی بستیاں اجاڑ دی گئیں۔ کاروبار تباہ کردئے گئے ۔ گاوں کے گاؤں جلا دئے گئے ۔ کئی دہوں سے مائنمار کے راکھین اسٹیٹ میں رہنے والے ان روہنگیائی مسلمانوں کو وہاں کا شہری ہی تسلیم نہیں کیا گیا ۔ انہیں نہ کوئی انسانی حق دیا گیا اور نہ کوئی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ یہ لوگ غیر انسانی حالات میں بھی اپنی زندگیوں کا بوجھ اٹھانے میں لگے ہوئے تھے لیکن یہ بھی مائنمار کی بدھسٹ حکومت اور وہاں کے دہشت گردوں کو گوارا نہیں ہوا اور ان کے نسلی صفایہ کی مہم کا سرکاری پشت پناہی سے آغاز کردیا گیا اور پوری شدت سے اس منصوبہ پر عمل آوری کی جار ہی ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو ہر دھڑکتے دل کو مغموم کر رہی ہے اور ہر انسان دوست طبقہ اس پر خون کے آنسو رو رہا ہے لیکن حیرت و تعجب اس بات پر ہے کہ دنیا بھر میں انسانیت کی حمایت اور دہشت گردی کی مخالفت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ممالک اس نسلی صفائے اور سفاکانہ دہشت گردی پر لب کشائی کیلئے تک تیار نہیں ہورہے ہیں۔

یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف مہم کا ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے ۔ یقینی طور پر دہشت گردی ایک لعنت ہے ‘ ایک ناسور ہے اور ایک ایسا خطرہ ہے جو ساری انسانیت کیلئے باعث تشویش ہے لیکن صرف ایک مخصوص فکر کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس لعنت کو روکا جاسکتا ہے ۔ جہاں کہیں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بات آتی ہے دہشت گردی کے نام پر ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی ہے ۔ ملکوں کے ملکوں کو تباہ و تاراج کردیا جاتا ہے ۔ ہمارے سامنے افغانستان کی مثال ہے جس کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا ۔ ہمارے سامنے عراق کی مثال ہے جس کو کٹھ پتلی بنادیا گیا اور عراق میں معصوم بچے دودھ اور ادویات سے تک محروم کردئے گئے تھے ۔ ہمارے سامنے لیبیا کی مثال ہے جہاں صرف اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ۔ ہمارے سامنے مصر کی مثال ہے جہاں اسلام پسندوں کے اقتدار کو پسند نہیں کیا گیا اور ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کردی گئی ۔ ہمارے سامنے شام کی مثال ہے جہاں کا مسلمان آج زندگی سے زیادہ موت سے قر یب کردیا گیا ہے ۔ یہاں لوگوں کیلئے زندگی کو موت سے زیادہ مشکل اور تکلیف دہ کردیا گیا ہے ۔ سارا ملک ایک ملبہ کا ڈھیر بن گیا ہے ۔ ہمارے سامنے ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں مسلمانوں اور مسلم ممالک کو نشانہ بنانے میں ساری دنیا نے ایک آواز ہوکر نعرے لگائے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ۔ لیکن جب معاملہ مسلمانوں کی مظلومیت کا ہے اور ان کے نسلی صفائے کے ایجنڈہ کا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا نے اور دہشت گردی سے مقابلہ کا دم بھرنے والے ممالک کو سانپ سونگھ گیا ہے ۔ انسانی حقوق کا دم بھرنے والے ممالک کو روہنگیائی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ چاہے وہ امریکہ ہو یا برطانیہ ہو یا کوئی اور ممالک ہوں سبھی نے روہنگیائی مسلمانوں کے تعلق سے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ ان ممالک کی مجرمانہ خاموشی نے روہنگیائی مسلمانوں کا عرصہ حیات مزید تنگ کردیا ہے ۔ بدھسٹ دہشت گردوں کے حوصلے بلند کردئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ مائنمار میں روہنگیائی مسلمانوں کے نسلی صفائے کی مہم چل رہی ہے اور اس کو روکا جانا چاہئے لیکن اس نے صرف بیان بازی یا زبانی جمع خرچ سے کام لیا ہے اور عملی میدان میں اس کی بے بسی سب پر عیاں ہے ۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ امریکہ ہی اقوام متحدہ کو چلاتا ہے اور وہ خود نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کے حق کیلئے کوئی آواز اٹھے ۔

مغربی ممالک ہوں یا اقوام متحدہ ہو یا کوئی دوسرے ممالک ہوں سبھی نے روہنگیائی مسلمانوں پر ہونے والے سفاکانہ ‘ وحشیانہ اور غیر انسانی مظالم اور ان کے نسلی صفائے پر جو خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اس سے یہ ثبوت فراہم کردیا ہے کہ وہ لوگ دہشت گردی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے خلاف ہیں۔ اگر یہ لوگ واقعی دہشت گردی کے مخالف ہوتے تو اب تک مائنمار کے دہشت گردوں اور وہاں کی حکومت پر کنٹرول کرلیا جاتا ۔ اسے پابند کیا جاتا کہ ان روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ بھی انسانوں جیسا سلوک کیا جائے ۔ کسی بھی ملک یا اقوام متحدہ نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔ یہ لوگ ہر معاملہ میں مسلمانوں اور اسلام کی دشمنی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ دنیا کے ہر ملک میں انسانی حقوق کی دہائی دینے والے یہ ممالک روہنگیائی مسلمانوں کے مسئلہ پر اپنی آنکھیں ‘ کان اور زبان سب بند کئے ہوئے ہیں۔ آج دنیا کے کسی بھی خطہ میں کوئی بھی کانفرنس ایسی نہیں ہوتی جس میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کا عزم نہیں کیا جاتا ۔

کیا مائنمار میں روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ دہشت گردی نہیں ہے ؟ ۔ کیا بستیوں کی بستیاں جلادینا دہشت گردی نہیں ہے ؟ ۔ کیا بچوں ‘ بوڑھوں اور نوجوانوں کو ایک گھر میں بند کرکے انہیں آگ لگادینا دہشت گردی نہیں ہے ؟ ۔ کیا ایک قطار میں کھڑا کرتے ہوئے انہیں گولیاں ماردینا دہشت گردی نہیں ہے ؟ ۔ اور اگر یہ دہشت گردی ہے اور امریکہ یا اس کے حواری ممالک اور اس کی کٹھ پتلی کا رول ادا کرنے والا ادارہ اقوام متحدہ اس پر خاموشی اختیار کرتا ہے تو یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ساری دنیا اسلام اور مسلمانوں کی مخالف ہے دہشت گردی کے خلاف نہیں ہے ۔ آج خود امریکہ اور برطانیہ اور ان جیسے ممالک کے عوام مائنمار کے مسلمانوں کی بے بسی پر مضطرب ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن یہاں کی حکومتیں اس دہشت گردی اور وحشیانہ مظالم پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان کی بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کر رہی ہیں یا انہیں جائز قرار دے رہی ہیں۔
دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہونے والے بلند بانگ دعوے صرف ڈھکوسلے ہیں ‘ ڈھونگ ہیں اور ان میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ یہ صرف اپنے سیاسی عزائم اور مقاصد کی تکمیل کیلئے ایک ہتھیار ہے جسے اپنے انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہ ہتھیار وہیں استعمال کیا جاتا ہے جہاں ان طاقتوں کا فائدہ ہوتا ہے یا ان کا اپنا مقصد کارفرما ہوتا ہے ۔ یہ ممالک دہشت گردی کا ہوا بھی خود کھڑا کرتے ہیں اور اس کے سدباب کے نام پر مظالم کے پہاڑ بھی خود توڑتے ہیں۔ اگر واقعی دنیا دہشت گردی کی مخالف ہے تو پھر اسے روہنگیائی مسلمانوں کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں مائنمار کی جابر حکومت کے مظالم سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ انہیں بدھسٹ دہشت گردوں کے سفاکانہ حملوں سے بچانے کی ضرورت ہے لیکن جو حالات ہیں وہ یہی ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ممالک دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کے مخالف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT