Sunday , September 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / روہنگیامسلمان مظالم کا شکار

روہنگیامسلمان مظالم کا شکار

 

میانمار میںروہنگیا مسلمان اس وقت بدترین تشدد اور زیادتیوں کے شکار ہیں‘مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم بربریت ودرندگی کو شرمسار کررہے ہیں‘تازہ ترین اطلاع کے مطابق چارسو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں‘ جوان ‘بوڑھے مرد وخواتین اور معصوم بچے موت کا نوالہ بن چکے ہیں‘نوجوان لڑکیوں اور معصوم بچوں کو درندگی کا شکار بناکر سخت ترین کرب واضطراب سے گذارا جارہا ہے‘ واٹس اپ پروائرل کئے گئے مناظر بڑے کربناک ہیں‘ درندے جانور بھی وہ کام نہیں کرسکتے جو میانمار کے شیطان صفت فوجی اورغیر سماجی بدھسٹ انجام دے رہے ہیں‘انسانیت کی دہائی ان درندہ صفت ظالموں کو ظلم سے باز آنے پر مجبو ر نہیں کرسک رہی ہے‘تقریبا ایک لاکھ تئیس ہزار بے بس ولاچار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کرچکے ہیں‘ ارشادِ باری ہے ,,ان ارضی واسعۃ‘‘یقینا میری زمین وسیع وکشادہ ہے‘ لیکن اس کے باوجود روہنگیا مسلمانوں پر دنیا بھر کے ممالک کے دروازے بند ہیں‘ ہندوستان نے تشدد کے تازہ واقعات پر تشویش کا ضرور اظہار کیا ہے ‘ لیکن روہنگیائی مسلمانوں کی بڑھتی تعدادکوملک کی داخلی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے حکومت نے خاص طور پر ریاستوں کوپابند کیا ہے کہ وہ غیر قانونی طورپر ایسے افراد کی نشاندہی کرکے انہیں واپس بھیج دیں‘بنگلہ دیش نے بھی ہاتھ اٹھالیا ہے ۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ کے پریس سکریٹری نے کہا کہ میانمار کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کی میزبانی بنگلہ دیش کیلئے بوجھ بن گئی ہے‘میانمار میں بدھ مذہب کے پیروئوں کی کثیر تعدادہے جب کہ مسلمان اقلیت میں ہیں‘اور انکی آبادی کا تناسب چار فیصد ہے ۔ تاریخی شواہد کے مطابق اس ملک میں مسلمان ایک ہزار سال سے آباد ہیں‘لیکن مسلم اقلیت کے ایک بڑی تعدادشہری حقوق سے محروم ہے‘تقریبا چارسوسال سے مسلمانو ں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے‘ بدھسٹ حکمرانوں نے تحدیدات عائد کیں انکی جان ومال ‘عزت وآبروسے کھلواڑ کیا جاتا رہا‘ انکے مذہب اور انکی تہذیب وثقافت کو نشانہ بنایا جاتا رہا‘ذرائع ابلاغ کے مطابق۱۹۲۱ء میںمسلمانوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی‘ ۱۹۶۲ ء ء میں سرکاری سطح پر مسلمانوں کا عرصئہ حیات تنگ کرنے کی مہم شروع کی گئی۱۹۹۷ء میں بدترین فسادات کی آگ بھڑکائی گئی سینکڑوں مسلمان موت کی آغوش میں پہنچ گئے ہزاروں افراد گھر سے بے گھر کردیئے گئے مظالم کا سلسلہ تھمنے نہیں پایا‘۲۰۰۱ء میں وہی غیر انسانی درندگی کی کہانی دہرائی گئی ‘ گذشتہ پانچ سالوں سے بڑی ابتر صورتحال ہے گویا ہرروز قیامت کا منظر ہے ‘ انسان نما شیطانوں کی شیطانیت سے بچائو کیلئے انسانی آبادیوں سے دور پہاڑوں میں پناہ لینے پر وہ مجبور ہوگئے ہیں‘لیکن انسان دشمن طاقتیں وہاں بھی انکا پیچھا نہیں چھوڑرہی ہیں‘ایک تخمینی رائے کے مطابق تیس ہزار سے زائد پناہ گزیں بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب پھنسے ہوئے ہیں‘زمین بچھونا اور آسمان انکی چھت ہے بھوک وپیاس کی شدت اور امراض کے دکھ درد جھیل رہے ہیں‘غذا اور دوا سے محروم ہیں‘دنیا بھر کے حکمرانوں میں ترکستان کے صدر رجب طیب اردگان کا کردار لائق تحسین وقابل تقلید ہے‘انکی دردمندانہ کوششوں کے نتیجے میںترکی کو ابتدائی مرحلہ میں امداد روانہ کرنیکی اجازت مل گئی ہے‘اندازہ ہیکہ ترکی ایک ہزار ٹن کی امداد میانمار روانہ کریگا‘ملیشیا نے بھی میانمار کی موجودہ صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے‘اور خبردار کیا ہے کہ میانمار میں اگر تشدد کا یونہی سلسلہ جاری رہے تو سفارتی تعلقات ختم ہوسکتے ہیں‘آسیان گروپ کے قواعد کے مطابق رکن ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں‘پھر بھی ملیشیا نے اس اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے میانمار کے سفیر کو طلب کیا اورسخت احتجاج درج کروایا ہے‘ان حالات میں اقوامِ متحدہ ‘ انسانی حقوق کی جنگ لڑنے والی ساری عالمی تنظیمیںانسانیت پر یقین رکھنے والے سارے ممالک اور خاص طورپر مسلم ملکوں کو غیر انسانی مظالم کی روک تھام کیلئے نہ صرف آگے آنا چاہیے بلکہ اپنے ملکوں کے دروازے ان مظلوموں کی مہمان نوازی کیلئے کھول دینا چاہیے ان دردناک اور روح فرسا مظالم نے دنیا بھر کے مسلمانوں کوبے چین وبے قرار کردیا ہے‘حدیث پاک میں وارد ہے(ایمان والوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کرنے آپس میں محبت وشفقت ‘رحمت ومہربانی کا برتائوکرنے میں ایسے دیکھو گے جیسے کہ وہ ایک جسم ہیں‘انسانی جسم کے کسی ایک عضوکو تکلیف ہوتی ہے تو جسم کے دیگر سارے اعضاء بھی بخار اور بے خوابی میں اسکے شریکے حال ہوجاتے ہیں(بخاری)
ایمان کا تقاضہ یہ ہیکہ عالم کے سارے مسلمان میانمار کے مسلمانوں کے غم میںحسب مقدرت شریک ہوجائیں‘وہ ممالک جو میانمار کی حکومت پر دبائو بناسکتے ہیں وہ اپنا دبائو بنائیںاور درندگی کو شرمادینے والے مظالم کے سدباب کی سخت کوشش وجدوجہد کریںاور جو ممالک ان غریب مظلوم وبے گناہ مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دے سکتے ہیںوہ ضرور یہ فرض پورا کریںاور وہ مسلمان جو انکے لئے کچھ نہیں کرسکتے انکو چاہیے کہ انکو ہمیشہ اپنی دعائوں میں شریک رکھیںخاص طورپر نماز فجر میںقنوتِ نازلہ پڑھنے کا اہتمام کریںعالم میں کہیں بھی مسلمان سخت حالات میں گھرگئے ہوںاور دشمن کا خوف اور دہشت غالب ہو تو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے اٹھنے کے بعد حدیث پاک میں مروی دعاپڑھنی چاہیے سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سخت حالات میں اس کا اہتمام فرمایا کرتے تھے ۔ دعا اور اسکا ترجمہ پیش ہے :
(اللھم اھْدنافیمن ھدیت وعافنا فیمن عافیت‘ وتولنا فیمن تولیت ‘ وبارک لنا فیما أعطیت‘ وقنا شر ما قضیت‘ انک تقضی ولا یقضی علیک‘ انہ لا یذل من والیت‘ تبارکت ربنا وتعالیت نستغفرک ونتوب الیک)اللھم عذب کفرۃ أھل الکتاب والمشرکین الذین یصدون عن سبیلک ویُکذبون رسلک‘ اللھم اغفرللمومنین والمومنات‘ والمسلمین والمسلمات‘اللھم اصلح ذات بینھم‘والف بین قلوبھم‘واجعل فی قلوبھم الایمان والحکمۃوثبتھم علی ملۃ رسولک واوزعھم وأن یوفوا بعھدک الّذی عاھدتھم علیہ‘ وانصر ھم علی عدوک وعدوھم الہ الحق واجعلنا منھم ۔
(الہی !تو ہمیں ہدایت سے نواز کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما اور ہمیں عافیت بخش کر عافیت پانے والوں میںشامل فرما اور ہماری سرپرستی فرما کر ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تونے سرپرستی فرمائی اور ہمیں ان چیزوں میں برکت دے جو تونے عنایت فرمائی اور ہمیں اس کے شر سے بچا جس کا تونے فیصلہ فرمایا ہے کیونکہ توہی فیصلہ کرتا ہے اور تجھ پر کسی کا فیصلہ نافذ نہیں ہوتا۔وہ ہر گز ذلیل نہیں ہوسکتا جس کی تو سرپرستی فرمائے اور کبھی عزت نہیں پاسکتا جس کو تو اپنا دشمن قراردے لے تو بڑی برکت والا ہے اے ہمارے رب اور بہت ہی بلند وبر تر۔ ہم تجھ سے مغفرت چاہتے ہیں اور تیرے حضور توبہ کرتے ہیں‘ اے اللہ !کافروں کو عذاب دے جو تیری راہ سے روکتے ہیں اور تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں ‘ اور تیرے اولیاء سے برسر پیرکار ہیں‘ اے اللہ ! مومن مردوں اور مومن عورتوں‘مسلمانوں مردوں اور مسلمانوں عورتوں کی مغفرت فرمااور ان کے باہمی تعلقات کی اصلاح فرما ان کے دلوں میں باہمی الفت پیدا کر اور انکے قلوب میں ایمان وحکمت پیدا کر اور ان کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر جمادے‘اور ان کو توفیق عطافرما کہ یہ تیرے ا س عہد کو پوراکرسکیں جو تونے اس سے لیا ہے اور انکی مدد فرما اپنے دشمنوں کے مقابلے میں‘ اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں‘معبود حقیقی ہمار التجائیں سن لے اور ہمیں بھی انہی لوگوں میں شامل فرمادے۔

TOPPOPULARRECENT