Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / روہنگیا بحران پر امریکہ کا اظہار تشویش، دیرینہ مسئلہ کی یکسوئی پر زور

روہنگیا بحران پر امریکہ کا اظہار تشویش، دیرینہ مسئلہ کی یکسوئی پر زور

۔2 لاکھ 70 ہزار افرادمیانمار سے بنگلہ دیش پہونچے، پناہ گزینوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں دشواری، سمندر سفر خطرناک: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ 9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے میانمار کے صوبے رکھین میں ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی سفیر متعینہ اقوام متحدہ نکی ہیلی نے آج یہ بات کہی جبکہ اقوام متحدہ کی ایجنسی نے توثیق کی ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 2 لاکھ 70 ہزار افراد نے بنگلہ دیش نقل مقام کیا ہے۔ ہزاروں شہریوں کے بنگلہ دیش فرار ہونے اور پناہ گزین کیمپوں میں قیام کی وجہ سے صورتحال انتہائی دھماکو ہوگئی ہے اور اقوام متحدہ نے انسانی بحران پیدا ہونے کا انتباہ دیا ہے۔ کئی افراد اپنی جان بچاکر فرار ہونے کی کوشش میں ہلاک ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ روہنگیا دہشت گردوں اور فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک بے شمار دیہات نذر آتش کئے گئے۔ امریکی سفیر نکی ہیلی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے گزشتہ دو ہفتوں سے رکھین کے حالات مسلسل ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت بنگلہ دیش نے کئی متاثرہ روہنگیا باشندوں کو پناہ دی ہے لیکن اب بھی کئی شہری سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں اور راحت کے منتظر ہیں۔ اس کے علاوہ رکھین ریاست میں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو موجودہ صورتحال اور بے قصور شہریوں پر حملوں کی اطلاعات پر تشویش ہے۔ امریکہ نے میانمار سکیورٹی فورسیس پر زور دیا ہے کہ وہ سکیورٹی کارروائی کے دوران شہریوں کا احترام کرے۔ شہریوں پر حملوں سے تشدد میں اضافہ ہوگا۔

امریکہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ اِس دیرینہ مسئلے کا حل تلاش کرلیا جائے گا اور عنان کمیشن کی سفارشات پر عاجلانہ عمل کیا جائے گا جس سے رکھین ریاست میں تمام طبقات کو فائدہ ہوگا۔ نقل مقام سے متعلق بین الاقوامی تنظیم نے توثیق کی ہے کہ میانمار میں 2 لاکھ 70 ہزار افراد نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اپنے تحفظ کی خاطر بنگلہ دیش فرار اختیار کی۔ نقل مقام کا یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ انسانی حقوق کی ایجنسیوں نے یہاںموبائیل میڈیکل ٹیم، ایمرجنسی بیت الخلاء قائم کئے اور اُنھیں پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ قیام کے لئے بنیادی ضرورت کا سامان بھی اُنھیں دیا جارہا ہے۔ جاریہ ہفتے میانمار سے تقریباً 300 کشتیاں کاکس بازار (بنگلہ دیش) پہونچیں۔ موجودہ حالات میں جبکہ موسم بالکل ناسازگار ہے سمندری راستہ کافی خطرناک ہوچکا ہے۔ ایجنسی نے کہاکہ پناہ گزینوں کے لئے مؤثر خدمات کی فراہمی مشکل ہورہی ہے کیونکہ نقل مقام کا سلسلہ جاری ہے۔ تین نئے پناہ گزین کیمپس قائم کئے گئے لیکن یہاں خاطر خواہ خدمات کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاسکا۔

TOPPOPULARRECENT