Friday , September 22 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلمان، بنگلہ دیش میں گھسنے میں کامیاب

روہنگیا مسلمان، بنگلہ دیش میں گھسنے میں کامیاب

بنکاک ۔ 28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے رخائن میں دو روز کے تشدد کے بعد صورتحال سنگین ہو گئی ہے اور ہزاروں روہنگیا مسلمان علاقے سے نکل رہے ہیں۔روہنگیا مسلمان پرتشدد کارروائیوں سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش کی سرحد کی جانب کا سفر اختیار کیا لیکن بنگلہ دیشی سرحدی محافظوں نے ان کو واپس کر دیا۔تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا شدت پسندوں نے جمعے کو 30 پولیس اسٹیشنس پر حملہ کیا اور جھڑپیں سنیچر کو بھی جاری رہیں۔اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی ہے۔رخائن میانمار کا پسماندہ ترین علاقہ ہے اور اس علاقے میں دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان رہتے ہیں۔بنگلہ دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے 70 لوگوں کو واپس میانمار بھیجا ہے جو بنگلہ دیش میں داخل ہو کر گھمدھم کے علاقے میں قائم مہاجر کیمپ کی جانب جا رہے تھے۔ایک پولیس اہلکار نے کہا ‘وہ ہم سے اپیل کر رہے تھے کہ ان کو میانمار واپس نہ بھیجا جائے۔تاہم فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تین ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل ہو گئے اور کیمپوں اور دیہاتوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق بلاکھلی کے علاقے میں قائم عارضی کیمپ میں آنے والے روہنگیا اپنے ساتھ دل دہلا دینے والی کہانیاں لائے ہیں۔70 سالہ محمد ظفر کے دو بیٹوں کو مسلح بودھوں نے ہلاک کیا۔ ‘انھوں نے اتنے قریب سے فائرنگ کی کہ اب مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ وہ سلاخوں اور ڈنڈوں سے لیس تھے اور ہمیں سرحد کی جانب دھکیل رہے تھے۔’ایک اور روہنگیا 61 عامر حسین نے بنگلہ دیش کے گاؤں گھمدھم کے قریب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ‘ہمیں بچا لو۔ ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں ورنہ ہمیں مار دیا جائے گا۔’دوسری جانب رخائن میں چار ہزار غیر مسلم آبادی کو میانمار فوج نے سکیورٹی کے باعث علاقے سے نکالا۔ چھ غیر مسلم رہائشی اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ غلطی سے تشدد والے علاقے میں نکل گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT