Friday , September 22 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، مائنمار کیخلاف دبائو میں زبردست اضافہ

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، مائنمار کیخلاف دبائو میں زبردست اضافہ

یانگون میں ہنگامی مذاکرات، آسیان وزرائے خارجہ کا اجلاس، ملائیشیا کا کلیدی رول
یانگون ۔19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مائنمار کے روہنگیا مسلمانوں کے کربناک مسائل آج مرکز توجہ بن گئے جب علاقائی وزراء نے ان (روہنگیا مسلمانو) کے خلاف سکیوریٹی فورسس کی کارروائیوں پر ہنگامی مذاکرات کا آغاز کردیا۔ مائینمار کے ان مسلمانوں کے خلاف سکیوریٹی فورسس کی کارروائیوں پر پٹروسی ممالک کی تنقید کی تھی۔ واضح رہے کہ مائنمار سکیوریٹی فورسس کی ظالمانہ مخالف تخریب کاری مہم سے بچنے کے لئے 27,000 سے زادء روہنگی مسلمان نومبر کے آغاز سے شمال مغربی مائنمار سے بنگلہ دیش کی سمت فرار ہوگئے تھے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اکٹوبر کے دوران پولیس چوکیوں پر کئے گئے مہلک حملوں کے ذمہ دار عسکریت پسندوں کو پکڑنے کے لئے یہ کارروائی کی گئی تھی لیکن ان کارروائیوں میں زندہ بچ جانے والے مسلمانوں نے کہا ہے کہ سکیوریٹی فورسس نے عصمت ریزی، قتل اور آتشزنی کے ارتکاب کے علاوہ بڑے پیمانے پر تباہی وغارت گری مچائی۔ روہنگی مسلمانوں کی اس رونگھٹے کھڑا کردینے والی داستانوں کے منظر عام پر آتے ہی عالمی سطح پر فکر و تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی 10 رکنی تنظیم آسیان میں بھی اس مسئلہ پر بحث مباحثہ ہوئے تھے۔ حالانکہ بالعموم یہ تنظیم بالعموم اپنے اتفاق رائے اور ایک دوسرے کے امور میں عدم مداخلت پر فخر محسوس کرتی ہے۔ آسیان کے وزرائے خْارجہ کا ایک ہنگامی اجلاس آج دوپہر ہانگون میں منعقد ہوا جس میں ملائیشیاء نے کہا کہ اس بحران کی یکسوئی کے لئے مائنمار پر دبائو میں اضافہ ہوا ہے۔ ملائیشیائی وزیر خارجہ عنیفہ امان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اور ملائیشیاء کی جانب سے مسلسل دبائو کے نتیجہ میں یہ ہنگامی اجلاس منعقد ہورہا ہے ۔ مائنمار میں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت شہریت سے محروم ہے اور مختلف تحدیدات میں اپنی زندگی بسر کررہی ہے۔ ہزاروں مسلمان چھوٹی کشتیوں کے ذریعہ ملائیشیاء اور انڈونیشیاء جیسے مسلم اکثریتی ملک پہنچ گئے۔ مائنمار کی ریاست اٹھائین میں تازہ ترین فوجی کارروائیوں اور روہنگی مسلمانوں کے ابتر حالات پر مختلف ممالک بالخصوص ملائیشیاء نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT