Saturday , July 22 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلمانوں پر پولیس جرائم کی تحقیقات کا حکم

روہنگیا مسلمانوں پر پولیس جرائم کی تحقیقات کا حکم

میانمار خاتون آہن آنگ سان سوچی کی لاپرواہی پر عالمی قائدین کی تنقید

ینگون، 13فروری (سیاست ڈاٹ کام) میانمار آخرکار روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم وزیادتی کی تحقیق کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے ۔ اس بات کی جانچ کی جائے گی کہ آیا پولیس نے ان کے خلاف جرائم کئے ہیں یا نہیں۔افسران نے وعدہ کیا ہے کہ مسلم اقلیت کے خلاف زیادتیوں کی تفتیش کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے انسان حقوق کے دفتر نے اس ماہ ایک رپورٹ جاری کرکے کہا ہے کہ میانمار کے سلامتی دستوں نے اکتوبر سے اب تک ایک مہم چلا کر روہنگیا مسلمانوں کے احتجاجی قتل اور اجتماعی عصمت دری کی ہے اور ان کے متعدد گاوں جلا دیئے ہیں۔ یہ سب انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مترادف ہے ۔ یاد رہیکہ حکومت میانمار نے شمالی راکھین ریاست میں جہاں مسلمان رہتے ہیں ، ہونے والی انسانی حقوق کی تمام زیادتیوں کی تردید کی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ یہاں بنگلہ دیش سرحد کے نزدیک 9 اکتوبر کو سیکورٹی چوکیوں پر ہوئے حملوں میں 9پولیس والوں کی ہلاکت کے بعد سے ہی قانون کے تحت مہم چلائی جارہی ہے ۔فوج نے پچھلے ہفتہ کہا ہے کہ وہ سلامتی دستوں کی زیادتیوں کی تفتیش کے لئے ایک ٹیم مقرر کرے گی اس کے بعد اب وزارت داخلہ نے جانچ کا وعدہ کیا ہے ۔اس نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ اس بات کی” محکمہ جاتی انکوائری” کی جائے گی کہ آیا علاقہ میں کارروائی کے دوران پولیس فورسز نے غیر قانونی حرکتیں تو نہیں کی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں کی تھی۔فوج کے کنٹرول والی وزارت نے کہا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا جنہوں نے ہدایات نہیں مانی ہیں۔پولیس کرنل میوتھوسو نے آج میڈیا کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جو کچھ ہوا اس کی تمام تفصیل فراہم کی ہے ایک تفتیشی کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ ثبوتوں کے ساتھ رپورٹ پیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں پولیس کے خلاف عصمت دری سمیت انسانی حقوق کی زیادتیوں کے بے حد سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔میوتھو سو نے کہاایک علاحدہ واقعات میں پانچ پولیس والوں کو دو ماہ قید کی سزا دی گئی ہے کیونکہ ایک آن لائن ویڈیو میں انہیں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے دکھایاگیا ہے ۔ انہوں نے راکھین ریاست میں مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران یہ حرکتیں کی تھیں ان کے علاوہ اس کیس میں ملوث تین سینئر پولیس افسران کی تنزلی کردی گئی ہے ۔برما میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ ظلم و زیادتی کے لئے کسی کو جوابدہ قرار دیا جائے اور شفاف طریقہ سے اس طرح کے الزامات کی جانچ کی جائے ۔اقوام متحدہ کے مطابق جب اکتوبر میں سلامتی دستوں نے کارروائی شروع کی ہے تب سے تقریباً 69000 روہنگیا برما سے بھاگ کر بنگلہ دیش چلے گئے ہیں۔تشدد سے جان بچاکر پناہ گزین بننے والوں کے مسئلہ سے نمٹنے والے اقوام متحدہ کے دو سینئر افسران نے پچھلے ہفتہ کہا کہ اس کارروائی میں ایک ہزار روہنگیا مسلمان قتل کئے گئے ہیں۔میانمار کے صدارتی ترجمان نے کہا کہ فوجی کمانڈروں کی تازہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ”انسداد بغاوت کارروائی” میں 100سے کم لوگ مارے گئے ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ میانمار میں کئی نسلوں سے تعصب برتا جارہا ہے ۔ انہیں شہریت نہیں دی گئی ہے اور انہیں بنگلہ دیش کے غیر قانونی تارکین وطن کہا جاتا ہے اور کسی طرح کے حقوق نہیں دیئے جاتے ۔ گیارہ لاکھ کے قریب روہنگیا شمال مغربی میا نمار میں ‘نسل پرستی’ جیسے حالات میں رہتے ہیں۔اس تازہ تشدد پر دنیا بھر سے نکتہ چینی ہوئی ہے یہ کہا جارہا ہے کہ میا نمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے مسلم اقلیت کے ممبران کی مدد کے لئے کچھ نہیں کیا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT