Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / روہنگیا مسلمانوں کو راحت کی پیشکش حکومت کیلئے دشوار: مختار عباس نقوی

روہنگیا مسلمانوں کو راحت کی پیشکش حکومت کیلئے دشوار: مختار عباس نقوی

 

پٹنہ ۔ /9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ مائنمار سے فرار ہوکر پہونچنے والے روہنگیا مسلمانوں کو راحت کی پیشکش کرنا حکومت کیلئے دشوار ہوگا ۔ نقوی نے یہاں ایک ’’پارلیمانی کانکلیو‘‘ سے خطاب کے دوران کہا کہ اس ضمن میں ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرتصفیہ ہے اور حکومت بھی اس کا جائزہ لے رہی ہے ۔ انہوں نے واضح طورپر مزید کہا کہ ’’تاہم میں نہیں سمجھتا کہ ہم انہیں (روہنگیا مسلمانوں کو) کوئی راحت دے سکتے ہیں جبکہ ان کا ملک ہی انہیں رکھنے سے انکار کررہا ہے ‘‘ ۔ روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرتے ہوئے ان کے ملک واپس بھیجنے سے متعلق اپنے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواست پر سپریم کورٹ نے /4 ستمبر کو مرکز سے اس کا نظریہ طلب کیا ہے ۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت /11 ستمبر کو ہوگی ۔ مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے منگل کو کہا تھا کہ روہنگیا افراد غیر قانونی مہاجرین ہیں چنانچہ وہ ملک بدر کئے جانے کے مستحق ہیں ۔ مائنمار فوج کے مبینہ پرتشدد حملوں کے بعد اس ملک کی مغربی ریاست رکھائین سے ہزاروں روہنگیا مسلمان ہندوستان میں داخل ہونے کے بعد جموں ، حیدرآباد ، ہریانہ ، اترپردیش ، دہلی اور راجستھان میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے بس گئے ہیں ۔ یکساں سیول کوڈ کے بارے میں نقوی نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد پیشرفت پر یقین رکھتی ہے ۔ نقوی نے کہا کہ دستور نے واضح طور پر کہا ہے کہ یکساں سیول کوڈ پر عمل آوری کیلئے مملکت کو اتفاق رائے پیدا کرنا چاہئے۔ وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ خوشنودی کی پالیسی گزشتہ کئی دہائیوں سے اقلیتوں کی بااختیاری کو یرغمال بنارکھی ہے لیکن اب مرکزی سرکاری اقلیتوں کے لئے ’خوشنودی کے بغیر بااختیاری‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT