Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کیخلاف ’’حفاظت اسلامی گروپ‘‘ کی زبردست احتجاجی ریالی

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کیخلاف ’’حفاظت اسلامی گروپ‘‘ کی زبردست احتجاجی ریالی

 

l ڈھاکہ میں 20,000 افراد کی شرکت
l پولیس کی بھاری جمعیت تعینات
l میانمار کے سفارتخانے پر قبضہ کی کوشش ناکام
l پاکستان، انڈونیشیا اور ملائشیا میں بھی احتجاج
ڈھاکہ ۔ 18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اس وقت دنیا کے تمام ایسے ممالک جنہیں مسلمانوں کے تئیں ذرہ برابر بھی ہمدردی ہے وہ میانمار میں جاری روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے خلاف احتجاج پر اتر آئے ہیں جس کی ابتداء ترکی نے کی اور اکثر و بیشتر خبروں میں رہنے والے بنگلہ دیش میں بھی اب روہنگیا مسلمانوں کے حق میں آوازیں اٹھائی جارہی ہیں کیونکہ بدھسٹوں کے ظلم و ستم کے شکار روہنگیا مسلمان فرار ہوکر بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں، جس سے خود بنگلہ دیش کو بھی اپنی داخلی سلامتی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ آج تقریباً 20,000 لوگوں نے روہنگیا مسلمانوں کی تائید میں ایک عظیم الشان ریالی کا اہتمام کیا۔ سفید لباس میں ملبوس تمام احتجاجی اللہ اکبر کا نعرہ لگا رہے تھے۔ احتجاجی بنگلہ دیش کی اعظم ترین مسجد کے باہر جمع ہوئے تھے، جہاں ان کا منصوبہ تھا کہ میانمارکے سفارتخانہ پر ہلہ بول دیا جائے۔ یاد رہیکہ جمعہ کے روز بھی نماز کے بعد ایک عظیم الشان ریالی نکالی گئی تھی تاہم آج کی ریالی نے جمعہ کی ریالی کو بھی پس پشت ڈال دیا کیونکہ اس ریالی میں 15000 افراد نے شرکت کی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ میانمار کے خلاف جنگ چھیڑ دی جائے جہاں اکثریتی بدھسٹوں نے روہنگیا مسلمانوںکی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ آج کی ریالی کیلئے پولیس نے انتہائی زبردست انتظامات کئے ہیں۔ ڈھاکہ کے اطراف و اکناف میں بھی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے کیونکہ پولیس کو اندیشہ ہیکہ احتجاجی تشدد برپا کرسکتے ہیں۔ سخت گیر حفاظت اسلامی گروپ نے یہ عزم کیا ہیکہ اس کے سینکڑوں ورکرس میانمار سفارتخانے پر ہلہ بول دیں گے۔ تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا۔ دریں اثناء ڈھاکہ میٹرو پولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر انورحسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی توثیق کی کہ احتجاجیوں کی تعداد 20,000 ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں ہم سخت تناؤ میں تھے لیکن آہستہ آہستہ ہجوم منتشر ہونے لگا۔ دوسری طرف حفاظت اسلام کے ارکان کا یہ دعویٰ ہیکہ احتجاج میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 20,000 سے بھی زیادہ ہے کیونکہ ملک گیر پیمانے پر احتجاجی ریالی میں حصہ لینے کیلئے لوگ جوق در جوق یہاں آرہے ہیں۔ اسی دوران ایک اسلامی اسکول کے 27 سالہ ٹیچر مولانا سیف الدین نے بتایا کہ وہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے کیلئے آئے ہیں جہاں آنگ سان سوچی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ نہ خواتین کو بخشا جارہا ہے اور نہ بچوں کو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش میں میانمار کے سفارتخانے پر ہلہ بولتے ہوئے حکومت میانمار کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی مسلمان (یا پھر یوں کہئے کہ دنیا کا کوئی بھی مسلمان) روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ابوریحان نامی ایک اور احتجاجی نے بتایا کہ یہ اس کا دینی فریضہ ہے کہ وہ اپنے مسلمان روہنگیا بھائیوں کی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائے۔ مسلمان دنیا میں کہیں بھی آباد ہوں اور کسی بھی نسل کے ہوں، وہ تمام آپس میں دینی بھائی ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتے ہوئے میانمار کا شہری بھی تسلیم نہیں کیا جارہا ہے اور سفاکانہ طور پر ان کا قتل عام کیا جارہا ہے جس کے بعد اسلامی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیاء میں زبردست احتجاج ہورہا ہے لیکن مغربی ممالک لب کشائی سے گریز کررہے ہیں کیونکہ یہاں معاملہ مسلمانوں کا ہے اور وہ ان کے ہمدرد نہیں۔ متعدد اسلامی گروپس کا کہنا ہیکہ اس وقت میانمار پر فوج کشی کی ضرورت ہے اور راکھین اسٹیٹ کو آزاد کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر روہنگیا مسلمانوں سے آباد کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق زائد از 410,000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل ہوگئے ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں 25 اگست کو وہاں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تشدد برپا کیا گیا تھا جہاں روہنگیا مسلمانوں کو زندہ جلادینے کے روح فرسا واقعات بھی رونما ہوئے۔ بدھسٹوں اور میانمار کی سیکوریٹی فورسیس نہ صرف سرحد عبور کرنے والی خواتین کی عصمت ریزی کررہے ہیں بلکہ ان کا قتل بھی کررہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے مختلف پناہ گزین کیمپوں میں اس وقت کم و بیش 4 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT