Wednesday , September 20 2017
Home / عرب دنیا / روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ پر اردوغان سوچی سے بات کریں گے

روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ پر اردوغان سوچی سے بات کریں گے

صرف مذمت کافی نہیں ٹھوس کارروائی ضروری ، صدر انڈونیشیاء جوکو وڈوڈوکا بیان
استنبول؍جکارتہ ۔4 ستمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ ترکی میولوت کاؤس اوگلو نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوغان روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے مسئلہ پر میانمار کی قائد آنگ سان سوچی سے بات چیت کریں گے ۔ ترکی میانمار کی مسلم اقلیت پر مظالم کے خاتمہ کا خواہاں ہے اور یہ بات چیت اسی کوشش کا ایک حصہ ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم ریاست راکھین میں تشدد میں کمی کی نہیں بلکہ خاتمہ کی جدوجہد کررہے ہیں ۔ صدر (اردوغان) نے کئی قائدین سے تبادلۂ خیال کیا ہے اور اُن سے کہنے کی کوشش کی ہے کہ روہنگیا مسلم اقلیت پر مظالم جاری ہیں وہ مسلسل قائدین سے ربط رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں آئندہ ہفتہ کے شام مذاکرات میں جو آستھانہ میں مقرر ہیں شعور کی بیداری کی اپنی کوشش جاری رکھے گا ۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی یہ کوشش کی جائے گی ۔ انھوں نے کہاکہ ہم نیویارک میں تمام حکومتوں کے سربراہوں کا ایک اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مکمل حل کے بغیر مظالم صرف زیادہ ہوسکتے ہیں ۔ ہمیں پوری دنیا کو دکھادینا چاہئے کہ مسلمان اکیلے نہیں ہیں، ہماری کوششیں جاری رہے گی ۔ کاؤس اوگلو نے وزیر خارجہ ایران جواد ظریف کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کے مسئلہ پر بات چیت کی ہے ۔ دریں اثناء استنبول میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوغان نے کہاکہ وہ اس انسانی بحران کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کا ایجنڈہ بنانے کی کوشش کریں گے ۔ جکارتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر انڈونیشیاء جوکووڈوڈو نے کہاکہ میانمار میں جاری تشدد فوری ختم ہونا چاہئے ۔ انھوں نے تمام فریقین سے اس تنازعہ سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدام کرنے کی خواہش کی ۔ انھوں نے کہاکہ حقیقی کارروائی ضروری ہے ، صرف تنقیدی بیانات کافی نہیں ہے ۔ وہ جکارتہ کے سرکاری محل میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ اس انسانی بحران کی یکسوئی ضروری ہے ۔ انڈونیشیاء کا شہری معاشرہ اور بین الاقوامی برادری اس سلسلہ میں ہم آہنگ ہونے چاہئے ۔ انھوں نے وزیر خارجہ ریٹنو مسعودی کو مختلف فریقوں بشمول معتمد عمومی اقوام متحدہ انٹونیو کٹیرس اور خصوصی مشیر برائے کمیشن راکھین ریاست کوفی عنان سے بھی بات چیت کرنے کی ذمہ داری سپرد کی ۔ انھوں نے کہاکہ مسعودی اتوار کی دوپہر میانمار روانہ ہوگئے تاکہ حکومت سے تشدد روکنے کی خواہش کریں ۔

TOPPOPULARRECENT