Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / روہنگیا مسلمانوں کے نسلی صفائے کیخلاف اقوام متحدہ کا انتباہ

روہنگیا مسلمانوں کے نسلی صفائے کیخلاف اقوام متحدہ کا انتباہ

پناہ گزینوں کو مائینمار واپس بھیجنے ہندوستان کی کوششوں کی مذمت ، زید رعدالحسین کا خطاب

جنیوا۔11 ستمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ نے مائینمار میں روہنگیا مسلمانوں کے نسلی صفائے کے خلاف آج سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ مائینمار میں جاری نسلی صفایا نصابی کتاب کی مثال جیسی ہے جس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔ اس دوران مائینمار سے فرار ہوکر بنگلہ دیش پہونچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 3,30,000 سے زائد ہوگئی ہے۔اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ زید رعدالحسین نے مائینمار پر روہنگیاؤں کے خلاف منظم حملہ کرنے کا الزام عائد کیا اور وارننگ دی کہ ایسا محسوس ہوتا ہیکہ وہاں ’’نسلیصفایا‘‘ جاری ہے ۔ زید رعدالحسین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے کہاکہ ’’مائینمار نے چونکہ انسانی حقوق کے تحقیقات کنندگان کو متاثرہ مقامات تک رسائی کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے چنانچہ تازہ ترین حالات سے ہنوز واقفیت حاصل نہیں ہوسکی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نسلی صفائے کی بدترین صورتحال ہے ‘‘ ۔ زید رعدالحسین نے روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کو مائینمار واپس بھیجنے ہندوستان کی کوششوں کی مذمت کی جبکہ یہ نسلی اقلیت اپنے ملک میں بدترین تشدد کا سامنا کررہی ہے ۔ انھوں نے سماجی جہدکار اور جرنلسٹ گوری لنکیش کی ہلاکت کی مذمت بھی کی اور کہا کہ انھوں (لنکیش)نے نفرت و فرقہ پرستی کی لعنتوں کے خلاف انتھک جدوجہد کی تھی ۔ہندوستان میں گاؤ دہشت گردی کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد کی لہر جاری ہے جو بسا اوقات انتہائی مہلک ثابت ہورہی ہے ۔ عوام پر حملے کئے جارہے ہیں اور یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ انھوں نے کہاکہ لوگ جو بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اُنھیں بھی دھمکیاں دی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 40,000 روہنگیا مسلمان ہیں جن کے منجملہ 16,000 کو پناہ گزینوں کا درجہ حاصل ہوا ہے ماباقی غیرقانونی تصور کئے جارہے ہیں۔ زید رعدالحسین نے کہاکہ ’’ایک ایسے وقت جب انھیں (روہنگیا مسلمانوں کو) اپنے ملک میں بدترین تشدد کا سامنا ہے ، مائینمار واپس بھیجنے ہندوستان کی کوششوں کی میں مذمت کرتا ہوں‘‘۔ شمالی رکھائین سے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کے علاوہ 27,000 رکھائین بدھسٹ اور ہندو بھی فرار ہوچکے ہیں جہاں متاثرین کی مدد کیلئے جاری بین الاقوامی امدادی پروگرامس مسدود ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT